اَندیشے

image

یہ کیسا وقت ہے جس کے

گُزرتے ہی نہ وہ بے چینی

کا عالم اُسے تڑپاتا ہے نہ ہی

بے تاب آرزو کروٹ لیتی ہے اور

میرے اِنتظار کی شِدّت رُخصت

ہونے لگتی ہے تو کیا میں

سمجھُوں کہ ہِجر کی زرد کلیوں

پہ بہار چھا رہی ہے؟

یہ کیسی آشنائی کے چھَٹتے

بادل ہیں جو اُس پر بارش برساتے

ہیں اور بڑھتی چاہت کے

موسم میرے تن پہ دھوپ چمکاتے

ہیں تو کیا میں سمجھُوں کہ

فُرقت کی گھٹاؤں پہ

بِجلیاں گِرنے والی ہیں؟

یہ کیسی ڈھلتی شام ہے

کیفیّت کی جو اُسے چھاؤں میں

نہلاتی ہے اور میرے دل کی

شوخ دیواریں غرُوب ہونے کا

دعویٰ کرتی ہیں تو کیا میں

سمجھوُں کہ ناکام کوشش

کے سایوں میں

فاصلے اُترنے والے ہیں؟

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s