سراب اور عشق

7E22A698-5B28-40B8-A91E-61710DC32F94

میں کیا کہُوں اُسے جبکہ وہ خود نا آشنا ہے خود سے

کیسے کھِلتے ہیں صحرا میں پھُول ، اعتماد کرکے دیکھو

بِکھرے ساۓ کرتے ہیں رقص چند بُونیں مِلتے ہی

کیسےہوتا ہے سکون طلاتُم کی نظر،آنکھ اُٹھا کے دیکھو

دفن نہیں ہوتے جذبات ، مر جاتے ہیں بُت خود پرستی میں

کیسے ہوتی ہے صُبح ، چاندنی کے رُخ کو ٹھُکرا کے دیکھو

عشق کی آگ اور سُکھ کا چندن ، نہیں ہیں اُن لکیروں میں

کیسے بدلتی ہے بھیس محبت ، یہ رنگ بھی آزما کےدیکھو

 

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s