غیر یقینی

256fd22c-15dd-4438-8a1c-f5c12a04a978

پَکّے راستوں پہ چل کے دیکھ لیا

گُل و گُلزار سے دل لگا کے دیکھ لیا

جن آنکھوں کی کھاتے تھے قسمیں

اُنہی نظروں سے گِر کے دیکھ لیا

جُھک نہ سکا کبھی جو پَل حقیقت کے آگے

اُس آغوش میں سَر رکھ کے دیکھ لیا

اعتماد کے سرہانے جو کھِلتا تھا اکثر

ایسے کنول کو دَم توڑتے دیکھ لیا

جس رنگ میں رنگی تھی مُحبّت میری

ایسی برسات میں نہا کے دیکھ لیا

نہ کر سکی شمعٰ جس کا مدعویٰ

پرائی آگ میں گھُل کےدیکھ لیا

 

3 thoughts on “غیر یقینی

  1. انسانی جذبوں کے مدّ و جزر کا بہت خوبصورت اظہار ،
    حیاتࣦ کار زار کے نشیب و فراز کو سادہ زبان میں لکھنا ، قوتࣦ اظہار چاہتا ہے جو آپ کو قدرت نے بکثرت ودیعت کی ہے .
    آپکے افکار کی دنیا بہت سی نئی جہتوں سے آشنا کرواتی ہیں –

    ” الله کرے ، زورࣦ قلم ، اور زیادہ ” تعریف و ستائش کا عام مروجہ فقرہ ہے ، ذاتی طور پر میں جسے کوئی اہمیت نہیں دیتا کہ لوگ آسانی کے لیے ، سرسری اس فقرے کو ادا کر کے آگے بڑھ جاتے ہیں – مگر آپ کی موزوں طبع کی تحسین کے لیے ، میرے دل کی گہرائی سے یہ پرخلوص دعا قبول فرمائیں .

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s