کڑواہ سچ

جب لگے کہ زندگی تھوڑی ہے اور مُحبت بہت زیادہ تو اُس بات کا اندازہ ہو جانا چاہیۓ کہ ہر پَل ہمیں جِینا ہے۔ ہم ہمیشہ اپنی اَنا میں زندگی گُزار دیتے ہیں کہ دُوسرے نے ہمیں کیا دِیا۔ ہم یہ نہیں سوچتے کہ ہم نے اُسے کیا دِیا۔ مُحبّت کرنا ایک سچّائی ہے اور مُحبّت کو نِبھانا دُوسری۔ بہت سے لوگ دَم بھرتے ہیں کہ اُنہوں نے عشق کیا مگر عمل سے کر کے دِکھانا دوسری بات ہے۔

کسی کی یاد میں پَل پَل مرنا ایک الگ بات ہے۔ یہ وہی جانتا ہے جس نے جھیلا ہو۔ عشق کرنا ہر کسی کے بس میں نہیں۔ اپنے گُناہوں کو تسلیم کرنا اور اُن کو درست کرنے کی کوشش کرنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ ہر کوئی اپنا دامن بچانا چاہتا ہے گر کیا یہ مُحبّت کا اِنصاف ہے؟ پتا نہیں۔

عشق اَپ کو قُربانی اور ایثار سِکھاتا ہے اور زندگی چھیِننا۔

حقیقت اور داستان میں یہی فرق ہے جو سچّائی اور فسانے میں۔ ہم سب سراب کے پیچھے بھاگتے ہیں مگر کیا خواب ہمارے راستوں کی رہنمائی کرتے ہیں؟ بس یہی تو سمجھ نہیں آتا کہ کتنی مسافتوں کے سفر کے باوجود ہم اپنے مقصد سے نا آشنا ہیں۔

میں ایک ایسے انجان راستے پر سوار ہُوں جہاں کی پَگ ڈنڈیاں ایک ایسے نا معلوم راستے کو جاتی ہیں جہاں سواۓ کھائیوں کے کُچھ نہیں۔ اور جہاں کی منزل سواۓ ادھورے مراسم کہ کہِیں اور لے جا نہیں سکتی۔

بس یہی ایک سیاہ سَچ ہے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s