نامُراد شخص

C5FC4F91-67E5-4568-82C7-FA969A837CFCویسے تو شامیں ڈھیر ہوتی ہیں

محبوب کی ذُلفوں تلے مگر مجھے

لُوٹا ہے دنوں کی کڑکتی دھُوپ نے۔۔

ویسے تو اکثر لمس کی جُدائی

کر دیتی ہے دیوانہ مگر مُجھے

پاگل بنایا ہے قُربت سے لِکھّے

افسانوں نے۔۔۔

ویسے تو رنگ بھر دیتے ہیں

زندگی میں پیاس اور سمندر مگر

مجھے سیراب کیا ہے صحرا

کی تپتی ریت نے۔۔۔

ویسے تو فلاح پا جاتاہے عشق

پایۂِ تکمیل ہوتےہی مگر مُجھے

مِلا ہے ادھورے صفحے کا

ایک ناکام اِنسان۔۔۔

 

سِمٹتی دھُوپ

362E97E6-BCE2-4D0E-BF07-99A4D72F8C9D

کبھی زِینت تھی وہ آنکھیں

میرے آئینے کی۔۔۔

خُدا جانے اب کس چہرے

کی دھُوپ سجاتی ہونگی۔۔

کبھی اُس کے خوابوں میں

سچ کروٹ لیتے تھے میری

آغوش کے۔۔۔

خُدا جانے اب کن سرابوں کے

پیچھے بھاگتا ہوگا وہ۔۔

کبھی وہ چونک جاتا تھا

میری اِک صدا پہ۔۔۔

خُدا جانے اب کس پُکار پہ

وہ تِلملا جاتا ہوگا۔۔

کبھی چُھپا لیتا تھا بانہوں

کے مظبُوط دائرے میں مُجھے۔۔۔

خُدا جانے اب کون سی گرفت

اُس کا نشہ پُورا کرتی ہوگی۔۔

کبھی وہ میرے حِصار میں

آنسُو بہاتا تھا۔۔۔

خُدا جانے اب کون اُس کے

جذبات تَر کرتا ہوگا۔۔

کبھی وہ کہتا تھا کہ

مُحبّت ہے اُسے بے پناہ

مجھ سے۔۔۔

خُدا جانے اب کون سا نیا

عشق اُس کی قید میں سزا

کاٹ رہا ہوگا۔۔

لا تعلّقی

781E26D1-7775-41E7-ACA8-5D4D72E81A81

اُس شہر سے اب گُزر

نہیں ہوتا

کبھی جہاں آنا جانا

تھا ہمارا اکثر۔۔

کبھی جہاں سُرخ دھُوپ

چومتی تھی بدن سبز چمن کے

اور مُلائم لمس جلتے

بُجھتے رہتے تھے۔۔

اُس شہر سے اب گُزر نہیں ہوتا

جہاں کی صبا میں تھی

خوشبو عِطر سی اور

لبوں کی پیاس پر جوبن

تھا کمال سا

تب گیلی مِٹّی  پڑتی تھی

پھُوار بن کے یوں۔۔۔

اُس شہر سے اب گُزر نہیں ہوتا

کبھی جہاں کے لمحوں سے

جُڑے تھے میری کسک کے

سلسلے اور دل کی سڑک پہ

رفتار رقص کرتی تھی

دھڑکن بن کے۔۔۔

اُس شہر سے اب گُزر نہیں ہوتا

جہاں اُٹھاتے تھے ناز کلیوں کے

گُلشن اور جھُکے جاتے تھے

سَر عشق کے دربار میں۔۔۔

اُس شہر سے اب گُزر نہیں ہوتا

جہاں آنا جانا تھا ہمارا اکثر۔۔۔

ہستئِ گرہن

Underwater Maiden

کئی رنگوں میں شام گُزاری ہے میں نے

اور دھُوپ میں کرنوں کا عکس چھُوا ہے

اِجازت نہ تھی جس برسات میں بھیگنے کی

اُس ٹھنڈی تاپ کی بارش کو پِیا ہے

گۓ دن تک سہا جن دَردوں کو میں نے

اُسی چُبھن میں مر کر جیا ہے

تِنکا تِنکا ٹُوٹ گیا تھا جھونکے سے جو

نۓ آشیاں پہ پھر بسیرا کیا ہے

ڈوب کے جس طرح نِکلی ہُوں سمندر سے

اُس گرہن سے اِک موقع اُدھار لِیا ہے

 

غیر یقینی

256fd22c-15dd-4438-8a1c-f5c12a04a978

پَکّے راستوں پہ چل کے دیکھ لیا

گُل و گُلزار سے دل لگا کے دیکھ لیا

جن آنکھوں کی کھاتے تھے قسمیں

اُنہی نظروں سے گِر کے دیکھ لیا

جُھک نہ سکا کبھی جو پَل حقیقت کے آگے

اُس آغوش میں سَر رکھ کے دیکھ لیا

اعتماد کے سرہانے جو کھِلتا تھا اکثر

ایسے کنول کو دَم توڑتے دیکھ لیا

جس رنگ میں رنگی تھی مُحبّت میری

ایسی برسات میں نہا کے دیکھ لیا

نہ کر سکی شمعٰ جس کا مدعویٰ

پرائی آگ میں گھُل کےدیکھ لیا

 

شرارہ

D76F39C9-C56A-4C15-9924-DA2066E78F37

میں جلد ہی آزاد ہو جاؤُں گی

عنقریب وہ وقت آنے کو ہے

میرا دل جب چھوڑے گا غُلامی

پھر نئی تاریِخ دُہرانے کو ہے

میں جواں ساحل سے ٹکراؤُں گی

جلد ہی ایک طُوفان آنے کو ہے

جب ٹُوٹیں گی زنجیریں ایسے

کئی نۓ زیور پہنانے کو ہے

کروں گی سوداآرزُو کا یہاں

کیونکہ عشق فلاح پانے کو ہے

میری شُعاع میں سفر کرتا ہے

ظالم  پھر سے دغا کھانے کو ہے

شمعٰ تُو رہ گئی روتے و سُلگتے

خبر شکست کی شاید آنے کو ہے

سراب اور عشق

7E22A698-5B28-40B8-A91E-61710DC32F94

میں کیا کہُوں اُسے جبکہ وہ خود نا آشنا ہے خود سے

کیسے کھِلتے ہیں صحرا میں پھُول ، اعتماد کرکے دیکھو

بِکھرے ساۓ کرتے ہیں رقص چند بُونیں مِلتے ہی

کیسےہوتا ہے سکون طلاتُم کی نظر،آنکھ اُٹھا کے دیکھو

دفن نہیں ہوتے جذبات ، مر جاتے ہیں بُت خود پرستی میں

کیسے ہوتی ہے صُبح ، چاندنی کے رُخ کو ٹھُکرا کے دیکھو

عشق کی آگ اور سُکھ کا چندن ، نہیں ہیں اُن لکیروں میں

کیسے بدلتی ہے بھیس محبت ، یہ رنگ بھی آزما کےدیکھو

 

زِلّت

4D50BFE8-DCCE-42C6-9224-76500C02016D

رات گۓ تک وہ میرے سرہانےبیٹھا رہا

شاید اِنتظار تھا اُسے اِک نئی کہانی کا

اور میں لیٹی رہی چُپ چاپ تَکتے اُسے

کہ کہیِں چھِن نہ جائیں پَل آنکھ لگتے ہی

کبھی اُس کے لمحے میرے چاند کا پتا پُوچھتے

کبھی سِتاروں پہ ٹھہرتا اُس کا قافلہ دیکھا

وہ کیا جانے کافر اُجڑے دِنوں کا حاصل

میرے خلوص کی کیا قیمت ادا کی تُو نے ظالم

ایک دل ہی تھا جو تُجھے سونپ کے چل دی

اُسے بھی تُو نے اپنے خوابوں کا مدعویٰ سمجھا

یہ پِگھلتےدل ہی تھے جن کو سمجھا تُو نےکھِلونا

میں شمعٰ جلاتی رہی اپنی ذات کو مِٹا کر بے مُروّت

 

جھُوٹی کہانی

3105F77E-EDCE-42B7-B8B5-FB7CC4345478

میں کیوں کرُوں خاتمہ

اپنے خوابوں کا

جبکہ وہ محظ ایک

سراب ہے اور کُچھ بھی نہیں

میں کیوں رات دن

جلُوں اُس کے خیال میں

جبکہ وہ محظ ایک

احساس ہے اور کُچھ بھی نہیں

میں کیوں دُوں خُود کو اذِیت

اُس کی اُمیدوں کو روند کر

جبکہ وہ محظ ایک

دھوکہ ہے اور کُچھ بھی نہیں

 

 

خِزاں

 

90AC9C33-FCC5-4DCC-9D75-EFAC2FFE784D

اب رات نہیں دن کے اُجالے ستاتے ہیں بُہت

کہِیں خزاں بنے تو بہاروں نے لُوٹا  کبھی

بارشوں کی نمی میں دُھل گۓ بِہتے بِہتے

کہِیں راستوں پہ بھٹکے دو مُسافر تو

کبھی منزلوں کا دل چاک کِیا خاک چھانتے چھانتے

ڈُوبے کئی بار خوشبوؤں کے بھنور میں تو کبھی

سُرخرو ہُوۓ اپنی ہی تھکی ہُوئی سانسوں میں بِہہ کر

مگر اب رات نہیں دن کے اُجالے ستاتے ہیں بُہت