کاش یہ دَرِ بندِش و ہِجر گِر جاۓ
تو مخمل بن جاۓ گا مکان اپنا
کاش یہ رسمِ دین و دُنیا بدل جاۓ
تو چمن بن جاۓ گا صِحن اپنا
کاش یہ زنجیرِخاک و رُوح ٹُوٹ جاۓ
تو دل بن جاۓ گا پرندہ اپنا
کاش یہ کرنِ شمس و قمر مِل جاۓ
تو آسماں بن جاۓ گا فرش اپنا
کاش یہ دَرِ بندِش و ہِجر گِر جاۓ
تو مخمل بن جاۓ گا مکان اپنا
کاش یہ رسمِ دین و دُنیا بدل جاۓ
تو چمن بن جاۓ گا صِحن اپنا
کاش یہ زنجیرِخاک و رُوح ٹُوٹ جاۓ
تو دل بن جاۓ گا پرندہ اپنا
کاش یہ کرنِ شمس و قمر مِل جاۓ
تو آسماں بن جاۓ گا فرش اپنا
سَو چاند تُمہارے واسطے
اور مُجھے چاہ ہے تُمہاری
پھول مہکیں تُمہارے لَب سے
اور مُجھے آرزو ہے تُمہاری
صدقے جاۓ اِنتہا پر عرش
اور مُجھے آس ہے تُمہاری
آنکھ میں موتی تیرتے ہوں
اور مُجھے حسرت ہے تُمہاری
بُوند بوُند مچلے ہے برسات
اور مُجھے تِشنگی ہے تُمہاری
اِس ایک نظر کی چاندی میں
وہ پَل بھی خالی بِیت گیا
اور چاند بھی مدھم پڑ گیا
پھر شرم کی نازُک چادر میں
…کہیِں رات ڈھلی کہیِں شام چُھپی
اُن کورے نینوں میں بس کر
اِس دل نے تھوڑا صبر کیا
پھر رحم کے ترستے کاجل میں
…کہِیں شام ڈھلی کہیِں رات چھُپی
اُس شوخ کے دِلکش پیکر میں
اِک تارہ ٹُوٹا اُلفت کا اورکِہکشاں
کے جھُرمٹ میں جب تُم نے میرا
نام لِیا پھر پلَک کی ڈوری میں
…کہیِں شام چھُپی کہِیں رات ڈھلی
…کیا کیا ہے آراستہ پیکرِ جاناں سے
گہرے ساۓ نگاہوں کے
صندلی ہاتھوں کی خوشبو
قاتل جوانی کی مِہک
…کیا کیا ہے منسُوب سراپۂِ عشق سے
گُلابی ہونٹوں کی شبنم
نشے کی ریشمی ڈوریاں
بانہوں کے پُر مست گھیرے
…کیا کیا ہے روشن جلوۂِ محبوب سے
ستاروں کی جھِلملاتی محفل
ڈُوبتے سورج کی کِرنیں
چمن کی مُسکراتی بہاریں
یہ دھاگے نہیں ریشم کی ڈوریاں ہیں
جو کھینچےگاخُود ہی گھائل ہو جاۓ گا
دلدل میں گِرا کے اِنتظار میں ہے حریف
جو دھکیلے گا اِس میں دفن ہو جاۓ گا
آسان نہیں ہے اِن راہوں پر چلنا صنم
جو گُزرے گا اُلٹے پیر واپس لوَٹ جاۓ گا
بے ضمیر رُوح ایک زندہ لٰعش ہی تو ہے
جو اوڑھے گا جیتے جی ختم ہو جاۓ گا
گُلاب اوڑھےتو کبھی سِتاروں کی چھاؤں
..آنچل ہی سہی وابستہ تو وہی ہے
نہاۓ چمپئی رَس کے عِطر میں کبھی
..گیسُو ہی سہی وابستہ تو وہی ہے
رات بِسری ہے خوابِیدہ نینوں تلے
..نیند ہی سہی وابستہ تو وہی ہے
بجے اِدھر پایل تو لمس جلے چُوڑی کا
..شرارت ہی سہی وابستہ تو وہی ہے
رَگ رَگ کرے شکوہ لبوں سے جام
..تِشنگی ہی سہی وابستہ تو وہی ہے
شمعٰ کی کسک پہ مُسکراۓ ہے پروانہ
..دِل لگی ہی سہی وابستہ تو وہی ہے
جو یاد میں کرُوں
اُس آہ میں تُمہی
جو زِکر میں کرُوں
اُس بات میں تُمہی
جو لَب عیاں کریں
اُس ادا میں تُمہی
جو نظر بنے ستارہ
اُس رات میں تُمہی
جو دھڑکن بنے راگ
اُس ساز میں تُمہی
جو بہاۓ اَشک یوُنہی
اُس رُخسار میں تُمہی
جو سِلوٹ بنے گُستاخ
اُس خطا میں تُمہی
سِتاروں کو اُنس ہے چاند کی رعنائی سے کیونکہ
بغیر چمک کے محل جگمگایا نہیں کرتے
پڑتے ہی نظر نکھرنےلگتا ہے حُسن مذِید کیونکہ
بغیر کشِش کے دل ٹَکرایا نہیں کرتے
ادھُورے ہیں اُجالےشمس کی شِرکت کے بِناکیونکہ
بغیر چاہت کے عاشق بُلایا نہیں کرتے
پتنگےکو جلنے کی آس مار دیتی ہے کیونکہ
بغیر شِدّت کے بات منوایا نہیں کرتے
اسیِر ہے رُوح اُس بدن کی چار دیواری میں کیونکہ
بغیر لگن کے مُحبّت نِبھایا نہیں کرتے
جس تھکَن کے انحصار پہ
ٹُوٹتی ہے شِدّت اِس طرح تو
سوچو کہ جنون کا معیار
…کیسا ہوگا
جہاں سُست پڑنے لگے بدن
کہ کیا سُناۓ راز کروٹ تو
سوچو کہ خواب کا خُمار
…کیسا ہوگا
جو نین بھریں مے سے اور
آدھی کُھلتی تو کبھی بند
پلکوں میں چھُپیں نشِیلے پَل
تو سوچو کہ نیند کا قرار
…کیسا ہوگا