دردِ مُشترک

چلو پھر پیڑِ راہ گُزر نِصف بانٹ لیں

کُچھ سرُور بقا کا رنج و غم بانٹ لیں

سیاہ رات کے نیم جواں فسانے اور

ماضی کے معصوم ناکردہ گُناہ بانٹ لیں

شمسِ لمس و تپِش میں چُور سُنہری جسم

اِس رنگِ خوشبو میں دُھلے جذبات بانٹ لیں

جو تھی پرائی خوشی منسُوب اُس کے نام سے

وہ مشترکۂِ احساس و شناخت بانٹ لیں

سراب

کر گئی ہیں راتیں کئی
گُناہ یہی سوچ کے ڈرتا
ہے دل کہ اب نہ ہی کوئی
خواب کرے گا دل بدنام اور
نہ ہی بھرے گا دامن اپنا
کانٹوں سے یہ۔۔۔
ہاۓ! مگر کیا کِیجیۓ اِن
بے باک خواہشوں کا جن
کے شاداب بدن بھیس بدل
کر راتوں کو اوڑھ لیتے ہیں
ہِجاب اور کر بیٹھتے ہیں
من مانیاں کئی۔۔۔۔
یہ جھُوٹے رنگ وہ بدصورتی
میں لِپٹےشوخ کفن جن کی
مَیّتوں سے اَتی ہے مِہک جُھلسے
ہُوۓ پھُولوں کی۔۔۔
کیوں وہ اِن کاغذی ورقوں 
میں رنگ بھرنے کی کوشش
میں لگے رہتے ہیں ہر پَل ؟
اُن پیمانوں کے بد مست جام
کر تو دیتے ہیں پیاس ہری 
لیکن چھوڑ جاتے ہیں ایک ہی گھُونٹ 
کے اثر ہونے تک۔۔۔
یہ نشہ یہ پیاس اور وہ
کسک، بس یہی زہر ہے
جس کے نَس نَس میں اُتر
جانے سے فریب کی دُنیا
جنم لیتی ہے۔۔۔
سراب کی دُنیا۔۔۔۔۔

آدھے دن کا سفر

یہ سفر ویسا نہیں کہ چل دِیۓ

اور پلٹ کے دیکھ بھی نہ سکے۔۔

یہ کئی برسوں کی مُسافت ہے جس

پہ پاؤں کبھی تھکتے تو کبھی

ٹوٹتے ہیں ۔۔۔۔

کہِیں پہ ہار جاتی ہے لگن تو کبھی

شکست دیتے ہیں دل جن

کی جھُوٹی وفائیں اور نا قدری میں

چُور جسم بھُول جاتے ہیں اپنی منزل۔۔۔

بھٹکی ہُوئی راہوں کے شاداب بدن

گُمراہ تو کرنا چاہتے ہیں لیکن

اب اُن کا گُزر ہوتا نہیں یہاں کے

در و دیوار کا۔۔۔

نہ چاہتے ہُوۓ بھی غلط موڑ اور

انجان راستے اپنے سے کیوں لگتے

ہیں کبھی؟

یہ سفر یہ راستہ وہ موڑ اجنبی

بھی ہے مگر لگتا دلفریب ہے۔۔۔

سمندر سا جوش چٹانوں سی مظبُوطی

ہو بھی اگر تو منزل پھر بھی آخر

لا پتہ ہی ہے۔۔۔

تب سفر بنتا ہے پُر کشِش اور لاجواب۔۔۔

 

 

شاید کبھی؟

اُس کے احساس سے کبھی تو چھُو کے

گُزرتی ہونگی میری آنکھیں۔۔

اندھیرےکمرے میں جب وہ شمیں

جلاۓ بیٹھتا ہوگا۔۔

کوئی مُسکراہٹ چِیر دیتی ہوگی

اُس کے ویراں پیمانے کو۔۔

اکیلے میں جب اُسے یاد آتی ہوگی

میرے شوق کی بے لگام چاہت۔۔

وہ پھر جھٹ سے جھٹک دیتا ہوگا

بے خیالی کے نا کردہ گُناہوں کو۔۔

ستاتے ہونگے جب اُسے وہ ادھورے دن

وہ غروُب ہوتی شبیں۔۔

چُھپا کے غم اپنا کر لیا کرتا ہوگا

دل کو راضی یُونہی کبھی۔۔

کبھی نِصف پہر کی سیاہی جگا دیتی

ہوگی اُس کی مِیٹھی نیند کو

کہِیں نیم خواب تو کہِیں محظ خیال

اُس کے نرم ہاتھوں کی گرمی

چُراتے ہُوں گے۔۔

چُپکے سے پڑھ نہ لے اُن پیاسی

آنکھوں کو کوئی جن سے کبھی

شعر تو کبھی غزلیں لِکھا کرتی تھی۔۔

اب وہاں پہ صرف سرد راکھ

جلا کرتی ہے

اور کُچھ بھی نہیں۔۔۔۔۔۔

چراغ

جن کی کشش سے فروزاں ہیں چراغِ دل

وہ مِہکش آنکھیں میرے دل کا مرکز ہیں

جن کی تبسم سے بیاں ہو پیغامِ وفا

وہ دلکش آنکھیں میرے حُسن کی زینت ہیں

جن کی چمک بھردے چہرے میں سُرخی

وہ مِہکش آنکھیں میرے وجود کا حِصّہ ہیں

نامُراد شخص

C5FC4F91-67E5-4568-82C7-FA969A837CFCویسے تو شامیں ڈھیر ہوتی ہیں

محبوب کی ذُلفوں تلے مگر مجھے

لُوٹا ہے دنوں کی کڑکتی دھُوپ نے۔۔

ویسے تو اکثر لمس کی جُدائی

کر دیتی ہے دیوانہ مگر مُجھے

پاگل بنایا ہے قُربت سے لِکھّے

افسانوں نے۔۔۔

ویسے تو رنگ بھر دیتے ہیں

زندگی میں پیاس اور سمندر مگر

مجھے سیراب کیا ہے صحرا

کی تپتی ریت نے۔۔۔

ویسے تو فلاح پا جاتاہے عشق

پایۂِ تکمیل ہوتےہی مگر مُجھے

مِلا ہے ادھورے صفحے کا

ایک ناکام اِنسان۔۔۔

 

سِمٹتی دھُوپ

362E97E6-BCE2-4D0E-BF07-99A4D72F8C9D

کبھی زِینت تھی وہ آنکھیں

میرے آئینے کی۔۔۔

خُدا جانے اب کس چہرے

کی دھُوپ سجاتی ہونگی۔۔

کبھی اُس کے خوابوں میں

سچ کروٹ لیتے تھے میری

آغوش کے۔۔۔

خُدا جانے اب کن سرابوں کے

پیچھے بھاگتا ہوگا وہ۔۔

کبھی وہ چونک جاتا تھا

میری اِک صدا پہ۔۔۔

خُدا جانے اب کس پُکار پہ

وہ تِلملا جاتا ہوگا۔۔

کبھی چُھپا لیتا تھا بانہوں

کے مظبُوط دائرے میں مُجھے۔۔۔

خُدا جانے اب کون سی گرفت

اُس کا نشہ پُورا کرتی ہوگی۔۔

کبھی وہ میرے حِصار میں

آنسُو بہاتا تھا۔۔۔

خُدا جانے اب کون اُس کے

جذبات تَر کرتا ہوگا۔۔

کبھی وہ کہتا تھا کہ

مُحبّت ہے اُسے بے پناہ

مجھ سے۔۔۔

خُدا جانے اب کون سا نیا

عشق اُس کی قید میں سزا

کاٹ رہا ہوگا۔۔

لا تعلّقی

781E26D1-7775-41E7-ACA8-5D4D72E81A81

اُس شہر سے اب گُزر

نہیں ہوتا

کبھی جہاں آنا جانا

تھا ہمارا اکثر۔۔

کبھی جہاں سُرخ دھُوپ

چومتی تھی بدن سبز چمن کے

اور مُلائم لمس جلتے

بُجھتے رہتے تھے۔۔

اُس شہر سے اب گُزر نہیں ہوتا

جہاں کی صبا میں تھی

خوشبو عِطر سی اور

لبوں کی پیاس پر جوبن

تھا کمال سا

تب گیلی مِٹّی  پڑتی تھی

پھُوار بن کے یوں۔۔۔

اُس شہر سے اب گُزر نہیں ہوتا

کبھی جہاں کے لمحوں سے

جُڑے تھے میری کسک کے

سلسلے اور دل کی سڑک پہ

رفتار رقص کرتی تھی

دھڑکن بن کے۔۔۔

اُس شہر سے اب گُزر نہیں ہوتا

جہاں اُٹھاتے تھے ناز کلیوں کے

گُلشن اور جھُکے جاتے تھے

سَر عشق کے دربار میں۔۔۔

اُس شہر سے اب گُزر نہیں ہوتا

جہاں آنا جانا تھا ہمارا اکثر۔۔۔

ہستئِ گرہن

Underwater Maiden

کئی رنگوں میں شام گُزاری ہے میں نے

اور دھُوپ میں کرنوں کا عکس چھُوا ہے

اِجازت نہ تھی جس برسات میں بھیگنے کی

اُس ٹھنڈی تاپ کی بارش کو پِیا ہے

گۓ دن تک سہا جن دَردوں کو میں نے

اُسی چُبھن میں مر کر جیا ہے

تِنکا تِنکا ٹُوٹ گیا تھا جھونکے سے جو

نۓ آشیاں پہ پھر بسیرا کیا ہے

ڈوب کے جس طرح نِکلی ہُوں سمندر سے

اُس گرہن سے اِک موقع اُدھار لِیا ہے

 

غیر یقینی

256fd22c-15dd-4438-8a1c-f5c12a04a978

پَکّے راستوں پہ چل کے دیکھ لیا

گُل و گُلزار سے دل لگا کے دیکھ لیا

جن آنکھوں کی کھاتے تھے قسمیں

اُنہی نظروں سے گِر کے دیکھ لیا

جُھک نہ سکا کبھی جو پَل حقیقت کے آگے

اُس آغوش میں سَر رکھ کے دیکھ لیا

اعتماد کے سرہانے جو کھِلتا تھا اکثر

ایسے کنول کو دَم توڑتے دیکھ لیا

جس رنگ میں رنگی تھی مُحبّت میری

ایسی برسات میں نہا کے دیکھ لیا

نہ کر سکی شمعٰ جس کا مدعویٰ

پرائی آگ میں گھُل کےدیکھ لیا