سراب

کر گئی ہیں راتیں کئی
گُناہ یہی سوچ کے ڈرتا
ہے دل کہ اب نہ ہی کوئی
خواب کرے گا دل بدنام اور
نہ ہی بھرے گا دامن اپنا
کانٹوں سے یہ۔۔۔
ہاۓ! مگر کیا کِیجیۓ اِن
بے باک خواہشوں کا جن
کے شاداب بدن بھیس بدل
کر راتوں کو اوڑھ لیتے ہیں
ہِجاب اور کر بیٹھتے ہیں
من مانیاں کئی۔۔۔۔
یہ جھُوٹے رنگ وہ بدصورتی
میں لِپٹےشوخ کفن جن کی
مَیّتوں سے اَتی ہے مِہک جُھلسے
ہُوۓ پھُولوں کی۔۔۔
کیوں وہ اِن کاغذی ورقوں 
میں رنگ بھرنے کی کوشش
میں لگے رہتے ہیں ہر پَل ؟
اُن پیمانوں کے بد مست جام
کر تو دیتے ہیں پیاس ہری 
لیکن چھوڑ جاتے ہیں ایک ہی گھُونٹ 
کے اثر ہونے تک۔۔۔
یہ نشہ یہ پیاس اور وہ
کسک، بس یہی زہر ہے
جس کے نَس نَس میں اُتر
جانے سے فریب کی دُنیا
جنم لیتی ہے۔۔۔
سراب کی دُنیا۔۔۔۔۔

آدھے دن کا سفر

یہ سفر ویسا نہیں کہ چل دِیۓ

اور پلٹ کے دیکھ بھی نہ سکے۔۔

یہ کئی برسوں کی مُسافت ہے جس

پہ پاؤں کبھی تھکتے تو کبھی

ٹوٹتے ہیں ۔۔۔۔

کہِیں پہ ہار جاتی ہے لگن تو کبھی

شکست دیتے ہیں دل جن

کی جھُوٹی وفائیں اور نا قدری میں

چُور جسم بھُول جاتے ہیں اپنی منزل۔۔۔

بھٹکی ہُوئی راہوں کے شاداب بدن

گُمراہ تو کرنا چاہتے ہیں لیکن

اب اُن کا گُزر ہوتا نہیں یہاں کے

در و دیوار کا۔۔۔

نہ چاہتے ہُوۓ بھی غلط موڑ اور

انجان راستے اپنے سے کیوں لگتے

ہیں کبھی؟

یہ سفر یہ راستہ وہ موڑ اجنبی

بھی ہے مگر لگتا دلفریب ہے۔۔۔

سمندر سا جوش چٹانوں سی مظبُوطی

ہو بھی اگر تو منزل پھر بھی آخر

لا پتہ ہی ہے۔۔۔

تب سفر بنتا ہے پُر کشِش اور لاجواب۔۔۔

 

 

شاید کبھی؟

اُس کے احساس سے کبھی تو چھُو کے

گُزرتی ہونگی میری آنکھیں۔۔

اندھیرےکمرے میں جب وہ شمیں

جلاۓ بیٹھتا ہوگا۔۔

کوئی مُسکراہٹ چِیر دیتی ہوگی

اُس کے ویراں پیمانے کو۔۔

اکیلے میں جب اُسے یاد آتی ہوگی

میرے شوق کی بے لگام چاہت۔۔

وہ پھر جھٹ سے جھٹک دیتا ہوگا

بے خیالی کے نا کردہ گُناہوں کو۔۔

ستاتے ہونگے جب اُسے وہ ادھورے دن

وہ غروُب ہوتی شبیں۔۔

چُھپا کے غم اپنا کر لیا کرتا ہوگا

دل کو راضی یُونہی کبھی۔۔

کبھی نِصف پہر کی سیاہی جگا دیتی

ہوگی اُس کی مِیٹھی نیند کو

کہِیں نیم خواب تو کہِیں محظ خیال

اُس کے نرم ہاتھوں کی گرمی

چُراتے ہُوں گے۔۔

چُپکے سے پڑھ نہ لے اُن پیاسی

آنکھوں کو کوئی جن سے کبھی

شعر تو کبھی غزلیں لِکھا کرتی تھی۔۔

اب وہاں پہ صرف سرد راکھ

جلا کرتی ہے

اور کُچھ بھی نہیں۔۔۔۔۔۔

چراغ

جن کی کشش سے فروزاں ہیں چراغِ دل

وہ مِہکش آنکھیں میرے دل کا مرکز ہیں

جن کی تبسم سے بیاں ہو پیغامِ وفا

وہ دلکش آنکھیں میرے حُسن کی زینت ہیں

جن کی چمک بھردے چہرے میں سُرخی

وہ مِہکش آنکھیں میرے وجود کا حِصّہ ہیں

نامُراد شخص

C5FC4F91-67E5-4568-82C7-FA969A837CFCویسے تو شامیں ڈھیر ہوتی ہیں

محبوب کی ذُلفوں تلے مگر مجھے

لُوٹا ہے دنوں کی کڑکتی دھُوپ نے۔۔

ویسے تو اکثر لمس کی جُدائی

کر دیتی ہے دیوانہ مگر مُجھے

پاگل بنایا ہے قُربت سے لِکھّے

افسانوں نے۔۔۔

ویسے تو رنگ بھر دیتے ہیں

زندگی میں پیاس اور سمندر مگر

مجھے سیراب کیا ہے صحرا

کی تپتی ریت نے۔۔۔

ویسے تو فلاح پا جاتاہے عشق

پایۂِ تکمیل ہوتےہی مگر مُجھے

مِلا ہے ادھورے صفحے کا

ایک ناکام اِنسان۔۔۔