تُمہیں یاد ہے ؟

image

تُمہیں یاد ہیں وہ پل؟

جب بے اِختیار دھڑکنیں

ڈوُبتی جا رہی تھیں عشق

…کے نشے میں چُور

تُمہیں یاد ہیں وہ پل؟

جب لبوں کے ٹکراتے ہی

سانسوں کے طوُفان میں ہَلچل

…..سی مَچ گئی تھی

تُمہیں یاد ہیں وہ پل؟

جب خوُشبو کے جھونکوں

میں مست خُماری جِسموں

….میں گُھلنے لگی تھی

تُمہیں یاد ہیں وہ پل؟

جب شبنم کی قطاریں

رُخسار کی دہلیز پہ دم

….توڑ رہی تھیں

تُمہیں یاد ہیں وہ پل؟

جب کسک کے مدھم

شُعلوں میں جنوُن

….سجدے کر رہا تھا

تُمہیں یاد ہیں وہ پل؟

جب ڈھَلکتے پیراہن

کی چاندی میں دُھل

…رہے تھے وجُود

اَندیشے

image

یہ کیسا وقت ہے جس کے

گُزرتے ہی نہ وہ بے چینی

کا عالم اُسے تڑپاتا ہے نہ ہی

بے تاب آرزو کروٹ لیتی ہے اور

میرے اِنتظار کی شِدّت رُخصت

ہونے لگتی ہے تو کیا میں

سمجھُوں کہ ہِجر کی زرد کلیوں

پہ بہار چھا رہی ہے؟

یہ کیسی آشنائی کے چھَٹتے

بادل ہیں جو اُس پر بارش برساتے

ہیں اور بڑھتی چاہت کے

موسم میرے تن پہ دھوپ چمکاتے

ہیں تو کیا میں سمجھُوں کہ

فُرقت کی گھٹاؤں پہ

بِجلیاں گِرنے والی ہیں؟

یہ کیسی ڈھلتی شام ہے

کیفیّت کی جو اُسے چھاؤں میں

نہلاتی ہے اور میرے دل کی

شوخ دیواریں غرُوب ہونے کا

دعویٰ کرتی ہیں تو کیا میں

سمجھوُں کہ ناکام کوشش

کے سایوں میں

فاصلے اُترنے والے ہیں؟

…چُپکےسے

image

چَھم چَھم چھنَکتی پایل کو

تَپتےصحرا کے سُرخ شور کو

گہری آنکھوں کے پھیلتےکاجل کو

گِیلے بدن پہ پھِسلتی بوُندوں کو

….چُرا گیا کوئی چُپکےسے

سَرکتی ہوا کے شوخ آنچل کو

ٹھہرتی نظروں کے گرم سایوں کو

ریشمی ذُلف کی کالی بَدلیوں کو

جواں کروٹ میں لِپٹی نیند کو

….چُھو گیا کوئی چُپکےسے

شَفق کے سُرمئی رنگوں کو

گُلابی بہکتے شراروں کو

شربتی لبوں کے پیالوں کو

بِستر کی مُلائم سِلوٹوں کو

….چھیڑ گیا کوئی چُپکےسے

بِنا منزِل کے راستے

image

جس راستے کی منزل نہیں

وہ خوشگوار ہے شاید پھر

کیوں نظر آتے ہیں سمندر

بے چین آسمان ویران اور

سیاہیوں پہ کبھی رنگ و خوشبو

کی لالی چھاۓ بھی تو ساحل

….شور مچانے لگتے ہیں

اِن ذندہ رشتوں کی بے جان

روُحوں میں جب کرن جاگنے

لگتی ہے پھر کیوں بادل سے

برستی ایک بوُند کر دیتی ہے

بند دروازے کئی اور مُنتظر ہاتھ

چوکھٹ کی خالی گلیوں میں

….راہ تکنے لگتے ہیں

نا مُکمّل سفر کے کرب

میں چُور ہو بھی دل پھر

کیوں لُطف آنے لگتا ہے اُن

ٹِھکانوں سے گُزرتے ہی جن

کے کھنڈروں سے گُلشن کی

مہک عیاں ہوتی ہے اور

خاموش آہ میں چُھپے

….آنسوُ تیرنے لگتے ہیں

راہ گِیر

image

حرف و لفظ میں اِنصاف نہ کر سکُوں تو کوئی ملال نہیں

خنجرِ قلم  اُس کے ہاتھ میں ہے فقَط ، یہ خطا ہے میری

بے اِختیار ذہن و قلب کے بَنجر دریچے جلنے لگتے ہیں

تصویرِ خیالی میں فقَط وہ وجود ہے ، یہ خطا ہے میری

کتابِ ذندگی کے ورق سیاہئِ عکس سے پھیل رہے ہیں

زیر و زبر میں فقَط قاتلِ معشُوق ہے ، یہ خطا ہے میری

خُلاصۂِ داستان کے کٹھِن راستوں کا مُسافر ہے گرچہ

کاروانِ مُحبّت میں فقَط وہی راہ گُزر ہے ، یہ خطا ہے میری

دِکھاوا

image

ہَنس مُکھ چہرہ راس نہ آۓ اِن آہوں کو

اَندر جلتا کوئلہ راکھ بنے ہےتُم کیا جانو

دُنیا دیکھےروشن نظرخورشید بدن میرا

اَندر اندھیری رات سماۓ تُم کیا جانو

ریشمی آنچل کی کِہکشاں چھُوکرگُزری

اَندر سُوکھی رُوح کے جالےتُم کیا جانو

کھنَکتی آواز میں بَجتےسُریلے جھنکار

اَندر گِہرے زخم کےچھالے تُم کیا جانو

سُنہری شمعٰ کی آگ میں ناچتےشرارے

اَندر سِسکتی موم ستاۓ تُم کیا جانو

چاندنی

image

چاند نَگری ہے وہ دل

جہاں کی زمین پر روز

چاندنی سجدے کرتی ہے

اور اپنےمِحبوب کی باہوں

میں سِمٹنے کی آس میں

….دیوانی ہو جاتی ہے

جَگ مَگ کرتے سُرمئی رنگ

کے جوبن پہ جب سمندر

چمکنے لگتا ہے تو آنکھوں

میں بسی تصویر آئینے میں

….ڈُوب جاتی ہے

جَل ترَنگ بجتے ہیں

شام کے بدن پہ جب چاہت

کی سُنہری لہروں میں

نہاتی چاندنی اپنے دلدار

سے مِلنے کی خوشی میں

….دِیۓ جلاتی ہے

نُور کی بارش میں جذب

دو جسم مِلتے ہیں ایسے

کہ جِھلملا اُٹھتے ہیں

نظارے تب چاندنی اپنے

چاند کی آغوش میں

….سو جاتی ہے

زَرد شمعٰ

image

بے رنگ صُبح  پھِیکی شام ہے

کہاں ہے میری دُنیاسنوارنے والا؟

پُوری مُسکان کی نامُکّمل خوشی ہے

کہاں ہے میری ذات سجانے والا؟

اُلجھتےراستوں میں لمحےدُشوار ہیں

کہاں ہے میری پہیلی سُلجھانے والا؟

جلتی شمعٰ کی آنچ مدھم ہو رہی ہے

کہاں ہے میری رُوح سُلگانے والا؟

…بس اِتنی سی

image

…..دل چاہے ہے

چاندنی رات میں تُمہیں اوڑ لوُں اور

شجر کی ڈالیِوں تلے پناہ گاہ سجےاور پھر

گہرے عکس کے ساۓمیں خود کو ڈُوبتا دیکھوں

…..دل حَسرت کرے

بارش کی برستی بوُندیں مدہوش کریں اور

میری رگ رگ سےخوشبو تُمہاری آۓ اور پھر

سِتاروں کی چمک اِن آنکھوں میں ناچتی دیکھوں

…..دل آرزو کرے

آئینہ میرا ہو لیکن نظر تُم آؤ اور

رات کی رانی میں دھُلیں بدن اور پھر

شمعٰ کی موم میں تُمہیں پِگھلتا دیکھوں

…..دل گُزارِش کرے

اِن لبوں سے تُمہاری سانسیں نہ جُداہوں اور

میری دھڑکن کی گوُنج نہ کبھی تھمےاور پھر

اِس رُوح سے تُمہاری جان میں خود کو اُترتا دیکھوں

….بس اِتنی سی چاہتیں کُچھ اَن چھُوئی حسرتیں

لا حاصِل فرار

Fantacy_Wallpapers_laba.ws

عِشق آزاد ہے پر قید کی بندِش سے ہر گِز نہیں

قفسِ جاں سے رہائی پالوُں تو کدھرجاؤں گی

چھِنتےلمحوں کی مایُوسی پہ ماتم کررہی ہوں ہر دم

حریفِ ضمیر سےجنگ کر جاؤں تو کدھرجاؤں گی

مُختصر عناصِر کا ہے یہ نِچوڑ اور کُچھ بھی نہیں

شکستِ دل سے فلاح پا جاؤں تو کدھر جاؤ ں گی

گُمشدہ سِلسلے جگانے لگے ہیں کُہرۂِ احساس

سفرِ پشیماں سے فرار پا لوُں تو کدھر جاؤں گی