..بُہت قریب

image

اُن ڈُوبتے لمحوں کے جمال

میں طُوفان تھا تڑپتے سمندر

کا اور اُس کی تِہہ میں اُترتے

یہ احساس ہُوا کہ ابھی اور

….ڈُوبنا ہے

اُچھلتی دھڑکن کی لے میں

ناچتی شبنم اِس سرُور کو

بھڑکاتی رہی جس کی حِدّت

یہ افسانہ سُناتی ہے کہ ابھی اور

…اُبھرنا ہے

ٹھہِرتی نِگاہ کی ساحر ادا سفر

کرتی ہوئی چہرے کے نرم راستوں

سے گُزرتی رہی جس کی شوخی

یہ دعویٰ کرتی ہے کہ ابھی اور

…اُترنا ہے

اِعتماد

image

مُحبّت ہے سفر ہے اور میں

اُس کی آنکھوں میں زندگی ہے میری

چاہت ہے اظہار ہے اور میں

اُس کی دھڑکن میں عاشقی ہے میری

اُلفت ہے اِنتہا ہے اور میں

اُس کی آرزو میں تباہی ہے میری

راحت ہے آشنائی ہے اور میں

اُس کی باہوں میں کامیابی ہے میری

آزمائش ہے بھنور ہے اور میں

اُس کے فرار میں آوارگی ہے میری

اعتبار ہے رسائی ہے اور میں

اُس کے دل میں بندگی ہے میری

عشق ہے کسک ہے اور میں

اُس  کےقدموں میں خُدائی ہےمیری

نِصف چمک

image

کیوُں رات آدھی اور چاند لگے پُورا

سیاہی مدھم اور آسمان لگے پُورا

کیوُں منزل مُختصرہو سفرلگے پُورا

رِہ گُزر دُشوار اور راہی لگے پُورا

کیوُں بیابان چُپ ہو صحرا لگے پُورا

شجر ٹپکاۓ اَشک گُلستان لگے پُورا

کیوُں بدن راکھ جھڑے دل لگے پوُرا

شِدّت بنے رسوائی  جنون لگے پُورا

کیوُں دن بنے شب سویرا لگے پُورا

وصل بے صبر بنے رابطہ لگے پُورا

نِکھار

image

خواب کے فلک سے اُترتے

ہی ایک راستہ جاتا ہے اُس

بادل کی سِمت جہاں بارش

اپنی بانہیں پھیلاۓ اِنتظار

…کر رہی ہوتی ہے

…میں اُس برسات میں نہا کر آئی ہُوں

چاند کی روشنی میں جِھلملاتی

چمک پڑتی ہے زمین کے بدن

پر تو آسمان تک فروزاں ہو

…جاتا ہے وجُود کا

…میں اُس نُور میں نکِھر کر آئی ہُوں

چمن کے پھُولوں کی خوشبو

مہکاتی ہے رُوح کا گُلشن تو

کِھلنے لگتی ہیں ڈالیاں رُوپ

…کی تب زرخیز ہوتی ہے ذات

…میں اُس صندل میں سنور کر آئی ہُوں

شمس کی تاب میں جلتی

ہےچنگاری جس کے عشق

میں ناچتی شعاہیں پِگھلاتی

…ہیں موم شمعٰ کی

…میں اُس آگ میں دُھل کر آئی ہُوں

نُورِ شَبِ نَجم

image

ستارہ رات کو اوڑھامیں نے

نئی سیاہی میں چمکنےکےلیۓ

پُر کشش نظر میں گُم ہُوئی

روحِ صنم میں اُترنے کے لیۓ

ایک نئی راہ نے کھینچا مُجھے

لا فانی سفر سے گُزرنےکےلیۓ

اِظہارِ چاہت ہُوئی رعنائی سے

ایک نۓ دَورمیں اُبھرنےکے لیۓ

اُس کے ساۓ میں چُھپ گئی میں

اپنی شناخت کو سمجھنے کے لیۓ

گِہرےاُنس کی چنگاری میں جلی

عشق کی موم میں پگھلنے کے لیۓ

مُختصر پَل میں دے گیا کُل حیات  وہ

سِتاروں کی محفل میں نکھرنےکےلیۓ

خطاکار کون؟

image

آتش و جَل کی قُربت میں

فنا ہوتے موم و برف جب

انتہا کے دامن کو چھُونے

لگیں تو کیا خطاکار ہوں گے

شُعلے یا برستی پُھواریں؟

خاک و رُوح کے وجُود میں تباہ

ہوتے جسم و جاں جب اُڑنے لگیں

بُلند فضاؤں میں تو کیا گُنہگار

ہوں گی ہوائیں یا چُومتی گھٹائیں؟

قید و رہائی کی جنگ میں شکست

کھاتے پیاس وارمان جب توڑنے

لگیں زنجیروں کو تو کیا قصوروار

ہوں گی زُلفیں یا قاتل ادائیں؟

آرزُومَند

image

اُس کی نظر اُٹھے

…تو صرف مُجھے دیکھنے کے خیال سے

اُس کے لَب ترسیں

…تو صرف مُجھے چُومنے کے خیال سے

اُس کے ہاتھ بڑھیں

…تو صرف مُجھے تھامنے کے خیال سے

اُس کا دل دھڑکے

…تو صرف مُجھے چاہنے کے خیال سے

اُس کی پیاس جگے

…تو صرف مُجھے چھُونے کے خیال سے

اُس کے خواب سجیں

…تو صرف مُجھے پانے کے خیال سے

آدھا سُکھ

image

منزل تَک رسائی نہ سہی تو شکوہ نہیں

سفر کو ہی منزل بنا لِیا ہے میں نے

آدھا سُکھ ہو یا پُورے غم کی چھاؤں

تپِش سے ہی جسم جلا لِیا ہے میں نے

اُس دل سےچین کی آشنائی وابستہ ہے

سرُورکو ہی خوُن میں اُتار لِیاہےمیں نے

بارش کی بُوندوں سے تَر ہوتی نہیں ذات

اَشک سے ہی خُود کو بِھگا لِیا ہے میں نے

عشق آزمائش ہے مِلے جُلے سِلسلوں کی

جنون کو ہی رُوح میں بسا لِیا ہے میں نے

گردِش

image

وقت کےتِھرکتےقدم رُکتےنہیں

اور رُت ایک جگہ ٹھہرتی نہیں

جلد بازی میں ہےصُبح نکلنےکو

اور رات کی پَلک کھُلتی نہیں

محفل میں رونق چاند سجاۓ

اورتنہائی کی شام ڈھلتی نہیں

اُمید کے آنگن پھُول کھِلے

اور مایوُس آندھی رُکتی نہیں

بے بس دل کے جھُوٹےسہارے

اور سَچائی دَر کھولتی نہیں

بھنور نے جکڑا ہے سانس کو

اور قید آنچل چھوڑتی نہیں

روتی ہے اپنی آگ  میں جل کے

اور شمعٰ جِینا بھُولتی نہیں

..اِس جہاں سےآگے

image

کیا کہتی ہے نظروں سے جھانکتی تِشنگی

چُرا لُوں اِس آنکھ سے وہ ستارہ تو کیا ہو

پِھر سوچتی ہُوں اِس پیاس کی حد سے آگے

چُراتے چُراتے خود ہی لُٹ جاؤں نہ کہِیں

کیا کہتے ہیں کسک میں ڈُوبتے شوخ لمحات

چُرا لُوں اِس دل سےوہ دھڑکن تو کیا ہو

پِھر سوچتی ہُوں بھرے پیمانوں سے آگے

چُراتے چُراتے خود ہی چھَلک جاؤں نہ کہِیں

کیا کہتی ہے تڑپ میں سُلگتی بے چین آگ

چُرا لُوں اِس سانس سے وہ قطرے تو کیا ہو

پِھر سوچتی ہُوں پگھلتے کِناروں سے آگے

چُراتے چُراتے خود ہی جَل جاؤں نہ کہِیں

کیا کہتے ہیں گُلوں میں لِپٹے جواں بدن

چُرا لُوں اِس لمس سےوہ رنگ تو کیا ہو

پِھرسوچتی ہُوں خُوشبو کےجہاں سےآگے

چُراتےچُراتےخود ہی مِہک جاؤں نہ کہِیں