سبَب

image

میرے دل کی ہُوئی شام جب

کہیِں گِرا موتی پلَک سے

میرے دل نے جھَپکی پیاس جب

کہِیں ڈُوبا جام لَب سے

میرے دل میں اُٹھی ٹِیس جب

کہِیں جگا درد احساس میں

میرے دل کی نَس دھڑکے جب

کہِیں اُٹھا شور آسمان میں

میرے دل میں کھِلے گُل جب

کہیِں مِہکا بدن لَمس سے

میرے دل کی شمعٰ روۓ جب

کہیِں پِگھلا وجود موم سے

سروُر

image

گھُلتی ہے چاشنی مِل کے

قطرۂِ خون میں ایسے کہ

لُطف کے پَروں کو مِل گیا ہو

…آرام جیسے

گُدگُداتی ہیں رَگ رَگ میں

تِتلیاں ایسے کہ احساسِ برق

کو مِل گیا ہو

…سکون جیسے

چُبھتی ہیں کلیاں پور پور

میں ایسے کہ بدنِ رُوح کو

مِل گیا ہو

…سرُور جیسے

اِنتہا

image

جب جب دیکھا تُمہیں

..چاہے جانے کی شِدّت بڑھی

ٹکرائی نظر جب بھی تُم سے

..پِگھل جانے کی حِدّت بڑھی

جب جب سوچا تُمہیں

..گُم ہو جانے کی خواہش بڑھی

تصویر بنی جب بھی آئینہ

..رُوبرو ہو جانے کی آرزُو بڑھی

جب جب چھُوا تُمہیں

..جذب ہو جانے کی تِشنگی بڑھی

اِنتہا۶ جب بھی لِپٹی تُم سے

..فنا ہو جانے کی حسرت بڑھی

جب جب مانگا تُمہیں

..ہوش کھو جانے کی طلب بڑھی

دُعا کرتی رہی تُمہیں پانے کی

..کعبہ جانے کی لگن بڑھی

دِل اور مُحبّت

image

دل بن جاتا ہے پرندہ

محبّت جب اُڑھنے لگتی ہے

دل بن جاتا ہے پھُول

محبّت جب مہکنے لگتی ہے

دل بن جاتا ہے سمندر

محبّت جب مچلنے لگتی ہے

دل بن جاتا ہے مور

محبّت جب ناچنے لگتی ہے

دل بن جاتا ہے سراۓ

محبّت جب بھٹکنے لگتی ہے

دل بن جاتا ہے فقِیر

محبّت جب تڑپنے لگتی ہے

شِرک

image

عجب کیفیّت گُزری

…ہے کیا بتائیں

طلب کر بیٹھے

…اُس کُفر کی

….اِس کرم پَرور کو بنا کرخُدااپنا

کانپی ہے ذات

…کس سرُور میں

معذرت کر بیٹھے

…اُس شِرک کی

….اِس پیکرِجاں کو بنا کرخُدا اپنا

برق سی دوڑی

…ہے رُوح میں

فریاد کر بیٹھے

…اُس دُعا کی

….اِس پروانۂِ عشق کو بنا کرخُدا اپنا

سُنتے ہی آواز

…ہوش گُم ہُوۓ

آرزو کر بیٹھے

…اُس تلاوت کی

….اِس فرشتۂِ صنم کو بنا کرخُدا اپنا

پڑھی ہے نماز

…اُس کی بندگی میں

گُزارش کر بیٹھے

…اُس سجدے کی

….اِس عبادِ ایمان کو بنا کرخُدا اپنا

اِرادہ

image

ایک طرف کُہرے ہیں تو اُس پار اُجالے

مگر یہ طے ہے کون سی راہ میری ہے

اِدھر لِبادہ اوڑھے کفن ہےاُدھر پیراہن

مگر یہ طے ہے کون سی لَحد میری ہے

یہاں پیاسا ہےساحل وہاں چھلکتی موج

مگر یہ طے ہے کون سی کشتی میری ہے

دُورجلتی ہے شمعٰ اور قُربت میں راکھ ہے

مگر یہ طے ہے کون سی مشعٰل میری ہے

شبِ بیداری

image

رات بھر جلاۓ چراغ اُمیدوں کے

رات بھر دِیۓ میرے بُجھتے گۓ

شب بھر مدھم رہی چاندنی میری

شب بھر پیمانے میرے جلتے گۓ

رات بھر اِنتظار میں جَگی ہےآنکھ

رات بھر رُخسار میرے دُھلتے گۓ

شب بھر مہکتا رہا بِستر یاد سے

شب بھر گُل میرے مَسلتے گۓ

رات بھر تاروں میں انگڑائیاں ٹُوٹِیں

رات بھر خواب میرے اُجڑتے گۓ

داغ

image

مرہم وقت میں نہیں اَشکوں میں دُھلتے ہیں

داغ صدیوں میں نہیں ایک پَل میں بَنتے ہیں

زخم گِہرا ہو تو خطرۂِ جاں کا دھڑکا رہتا ہے

خونِ دل سے ٹپکتےآنسُو پلَک سے موتی چُنتے ہیں

نشانِ خنجر سے جو بَنتے ہیں پھُول بُوٹے بدن پہ

وہ رُوح کے زاویوں تک پُہنچنے کا اثر رکھتے ہیں

درد و کسک کے عالم میں تِیر گُل کا کام کرتے ہیں

یہ کانٹوں کے موسم میں بھی بہار کی راہ تَکتے ہیں