کٹھِن لمحات

image

اِن بانہوں سے آزاد ہوتی ہے جب آرزُو میری

جکڑ لیتے ہیں قید میں درد کے بھنور مُجھے

نظروں کی گھنی قُربت جُداہوجب پیمانوں سے

اُداس کردیتی ہیں اندھیروں کی ویِرانیاں مُجھے

دسترس میں نہیں ہوتےکبھی وصل کےموسم

اُڑا لے جاتے ہیں خزاں کے زرد پتّے مُجھے

دَم توڑنےلگوُں اُس کی بَزم سےالوداع لیتےہی

علیحدگی جگاتی ہےخواہش مَرجانےکی مُجھے

سَلطنت

image

دل اُن آنکھوں کو

دیکھنا چاہتا ہے

صرف جن کی

چمک بتاتی ہے کہ

…میں خوبصورت ہُوں

دل اُن باہوں میں

ٹُوٹنا چاہتا ہے صرف

جن کی پناہ گاہ

دیتی ہے گواہی کہ

…میں محفُوظ ہُوں

دل اُن اشکوں کو

پِینا چاہتا ہےصرف جن

کے جذبے اظہار کرتے

ہیں وہ تڑپ جس کی

…میں پیاس ہُوں

دل اُن شعلوں میں

جلنا چاہتا ہے صرف

جن کی لپیٹ یہ

احساس دلاتی ہے کہ

…میں موم ہُوں

دل اُن دھڑکنوں میں

ڈُوبنا چاہتا ہے صرف

جن کی صداؤں میں گُونجتا

ہے ایک وہ نام جس کی

…میں مَلکیّت ہُوں

 

 

 

روز نیا عالم

image

جب بھی مِلتے ہیں صنم ہر مُلاقات

بدل جاتی ہے اِک خوشبو میں جس

کے کنارروں کی پنکھڑیاں مہکانے

…لگتی ہیں بدن کی ڈالیِوں کو

جب بھی مِلتے ہیں جانم ہر مُلاقات

بدل جاتی ہے اِک کشش میں جس

کی ڈوریں بے اختیار کِھچتی چلی

جاتی ہیں اُن بُلندیوں پہ جہاں سے

…واپسی کا کوئی راستہ نہیں

جب بھی مِلتے ہیں پِیا ہر مُلاقات

بدل جاتی ہے اِک انداز میں جوجگاتی

ہے مدہوشی جس میں بے خود ہوتے

…ہی جان اور تن ڈُوبنے لگتے ہیں

تاثیرِ رنگ

image

سمندر نِیلا ہے

گہرے بنے پیالے

رات سیاہ ہے

گھٹا بنے زُلف

آنچل سفید ہے

پاکیزہ بنے رُوح

شجر سُرخ ہے

شرابی بنے ڈورے

آسمان سُرمئی ہے

بُلندی بنے یقین

گُلشن ہَرا ہے

شاداب بنے جوبن

پھُول بنفشی ہے

مرمریں بنے بدن

شمعٰ سُنہری ہے

مُحبّت بنے کُندن

تَربَتر

image

چُومتی ہیں بُوندیں جب فرشِ بدن

عرشِ رُوح تک پُہنچتی ہیں دستکیں

شبنمی دن نِکھارے جب چمنِ بدن

گُلشنِ رُوح تک مہکتی ہیں حسرتیں

مِہکش تارہ چُھوۓ جب سطحِ بدن

سمندرِ رُوح تک بِہتی ہیں کروٹیں

حُسن جب لےبانہوں میں وصلِ بدن

آِنتہاۓرُوح تک ڈھلتی ہیں سرحدیں

ریزہ ریزہ

image

چُپکےچُپکےسرگوشی سے

کہا تُم نے کانوں میں

دھیمی دھیمی نِیلی سی

لَو میری جلتی گئی

رَگ رَگ میں چُبھتا جاۓ

سُرخ نمک کا کانٹا

رفتہ رفتہ گُزرے ہے

دھُوپ کی رُت میرےسامنے

تَھر تَھر کانپتی آنچ

لڑتی رہی خُود سے یُوں

کَھن کَھن چُومتا کنگن

کرے رُسوا کلائی کو

نَس نَس میں ٹُوٹتی ہے

صَندلی دَردوں کی کَلیاں

ریشمی ریشمی گیِلی سی

برستی رہی پُھوار یُوں

تھوڑا تھوڑا مرتے ہُوۓ

زندگی کو دیکھتے رہنا

زرّہ زرّہ نِشاں بنا

گَلتی گئی رُوح کی دُنیا

سنگ تراش

image

حسین ہُوں میں اگر

…تو تُم وہ آئینہ ہو جس میں دیکھ کر مُسکرانا ہےمُجھے

سِتارہ ہُوں میں اگر

…تو تُم وہ رات ہو جس کی آغوش میں چمکنا ہےمُجھے

منزل ہُوں میں اگر

…تو تُم وہ راستہ ہو جہاں سے گُزر کر پُہنچنا ہے مُجھے

دِلکش ہوُں میں اگر

…تو تُم وہ دلکشی ہو جس کے دل میں گھر بنانا ہے مُجھے

تصویر ہوُں میں اگر

…تو تُم وہ مُصوّر ہو جس کے رنگوں میں ڈھلنا ہے مُجھے

سمندر ہُوں میں اگر

…تو تُم وہ تشنگی ہو جس کے لَبوں سے پِینا ہے مُجھے

خیال ہُوں میں اگر

…تو تُم وہ حقیقت ہو جس کی رُوح میں بَسنا ہے مُجھے

گُل رنگ ہُوں میں اگر

…تو تُم وہ ساغر ہو جس میں چھَلک کے ڈُوبنا ہے مُجھے

بُت ہُوں میں اگر

…تو تُم وہ سنگ تراش ہوجس نے تراشا ہے مُجھے

شمعٰ ہُوں میں اگر

…تو تُم وہ تپِش ہو جس کی بانہوں میں پگھلنا ہےمُجھے

عادَت

image

روز نئی خوُشبو

…ایک نئی عادَت میں ڈَھل جاتی ہے

روز نیا خواب

…دِکھاتا ہے حسین جلوے کئی

روز نئی صُحبَت

…ایک نئی آوارگی میں بدل جاتی ہے

روز نیا احساس

…کھولتا ہے دَر ارمانوں کے کئی

روز نئی تِشنگی

…ایک نئی آگ میں اُتر جاتی ہے

روز نیا سرُور

…گھولتا ہے خُمار میں رنگ کئی

روز نئی دیوانگی

…ایک نئی آفت میں سِمٹ جاتی ہے

روز نیا زہر

…چبھوتا ہے نَس نَس میں کانٹے کئی

رابطہ

image

اِس دل سے اُس دھڑکن تک

اِس راہ سے اُس موڑ تک

…مِلوُں گی تُمہیں اُسی راستے پر اپنی بانہیں پھیلاۓ

اِس آہٹ سے اُس قدم تک

اِس پَل سے اُس لمحے تک

…مِلوُں گی تُمہیں اُسی چھاؤں تلے اپنی ذات بِچھاۓ

اِس آنکھ سے اُس نظر تک

اِس لَب سے اُس سانس تک

…مِلوُں گی تُمہیں اُسی سیج پر اپنا آنچل پھیلاۓ

اِس شب سے اُس اُجالے تک

اِس پیاس سے اُس گھُونٹ تک

…مِلوُں گی تُمہیں اُسی جھیل کنارےاپنی آنکھیں بِچھاۓ

اِس دُوری سے اُس قُربت تک

اِس تڑپ سے اُس کسک تک

…مِلوُں گی تُمہیں اُسی دھُوپ تلےاپنی کِرنیں بِکھراۓ

محفلِ حُسن خیز

image

بَند پلکوں میں چُھپاتے ہیں دل کے چین کو

اِس بزم میں ستارۂِ چشم ہے کاجل و چراغ

کروٹ سرہانے بیٹھی ہے تُمہاری یاد لیۓ

اِس شام میں بِساطِ ریشم ہےخواب و رُخسار

بے تابی کےماتھےپہ پہنا ہے تاج عاشقی نے

اِس انجُمن میں حُسنِ طلب ہےعشق و حِصار

دل کے فرش پہ لگا ہے قُربتوں کا رنگین میلہ

اِس مِحفل میں حاصلِ سرُور ہے شمعٰ و خُمار