تاثّرات

image

بِکھرتی جاۓ ہے شمعٰ کی پاگل آنچ

سنبھلےکیسےعشق کی بےچینی کےبعد

کئی شب جلی ہے شمعٰ جس یاد میں

تھمے کیسے درد کی بیزاری کے بعد

تڑپ کی اِنتہا میں تر ہے شمعٰ بےحد

رُکےکیسے رنج کی آہ و زاری کے بعد

شمعٰ کو تکرار ہے بُجھتے دِیۓ سے

سُلگے کیسے موم کی بے وفائی کے بعد

تصدیِق

image

مُجھے چاہنے سے روکے گر تُمہیں کوئی

تو اپنے دل کی شِدّت سے پُوچھ لینا پِہلے

کوئی زہر اگر پیش کرے شربت سمجھ کر

تو احساس کے گھُونٹ سے پُوچھ لینا پِہلے

نہ کر سکو یقیں اُلفت کے پیچ و تاب پر

تو اپنے وجود کی سچّائی سے پُوچھ لینا پہِلے

میرے کَمسِن دل کی شریِر رُوح نہ بھاۓ اگر

تو آئینے میں جھلکتی نظر سے پُوچھ لینا پِہلے

نہ پرکھ سکو تب بھی شیِشے کااُجلا پن

تو اپنی آنکھ میں جلتی شمعٰ سے پُوچھ لینا پِہلے

ایمان کے مزار پہ گر پُھول مِلےمُرجھاۓ ہُوۓ

تو بارگاہ میں مدہوش قلندر سے پُوچھ لینا پِہلے

پشیمان جو کرنے لگے ضمیِر کا بدن تُمہیں

تو اپنے عشق کی عقیدت سے پُوچھ لینا پِہلے

..وہ تُم ہی تھے

image

سمندر کی لہروں میں نہاتے

اُس بدن کی تاب میں خُود کو

چمکتے دیکھا میں نے تو جھٹ سے

…دل سے نِکلی ہاۓ

بادلوں کے نِیلے رنگ سے جھانکتی

سُنہری کرن کی جلتی دھُوپ میں

خُود کو دُھلتے دیکھا میں نے تو ایک دَم

…دل سے نِکلی ہاۓ

ریت کے چمکتے زرّوں سے چھَنتی

چاندی میں جذب ہوتے شبنمی وجود کو

خُود میں اُترتے دیکھامیں نےتواچانک

… دل سے نِکلی ہاۓ

ہَم آہنگ

image

تُمہاری آنکھیں اورمیری خُوشی

ایک دُوسرے پہ جان دیتے ہیں

میرا دل اور تُمہاری کہانی

ایک دُوسرے سےجُڑ جاتے ہیں

تُمہاری بانہیں اورمیری تسکین

ایک دُوسرے کو تھام لیتے ہیں

میری تڑپ اور تُمہارے ہونٹ

ایک دُوسرےمیں گھُل جاتے ہیں

تُمہارا وقار اور میری شوخی

ایک دُوسرے میں سما جاتے ہیں

میرا اِظہاراورتُمہاری خاموشی

ایک دُوسرے کو سُن لیتے ہیں

تُمہارے اِلفاظ اورمیرےجذبات

ایک دُوسرے میں ڈَھل جاتے ہیں

میرے شُعلےاورتُمہاری لہریں

ایک دُوسرے کو پِی لیتے ہیں

چُبَھن

image

جلُوں آدھی شَب کی مُکمّل چاندنی میں

اور دن جلاتا رہے اُس کی یاد لے کر

کھِلوُں شبنمی اوس کی نرم حِدّت میں

اور اَشک بھِگاتا رہے اُس کی یاد لے کر

اُڑوُں بن کے شوخ تتلی خیاباں کی

اور منظرچِڑھاتا رہےاُس کی یاد لے کر

دُھلُوں تیز آنچ کی نشیلی قُربت میں

اور فِراق نِہلاتا رہے اُس کی یاد لے کر

بِچھُوں بن کے تاروں کا مست آنچل

اور آسمان ترساتا رہےاُس کی یاد لےکر

میرا جہاں

image

جس جہاں سےآگےکوئی جہاں نہیں

اُس دائمی دُنیا میں رہتی ہُوں میں

جس شور میں چاپ ہے شِدّت کی

اُس دھڑکنِ دل میں رہتی ہُوں میں

جس شمس سےگرمی اُدھار لےفرش

اُس ہستئِ عرش میں رہتی ہُوں میں

جس کی شان میں موسم کہےشِعر

اُس سُخن وَر میں رہتی ہُوں میں

جس زِکر سے کھِل اُٹھے گُل و موتیا

اُس باغ و بہار میں رہتی ہُوں میں

جس دھوپ میں چھاؤں راحت بنے

اُس سایۂِ شجر میں رہتی ہُوں میں

جس نماز میں جائز ہو سجدہ اُسے

اُس عبادت گاہ میں رہتی ہُوں میں

تَضاد

image

زیبِ ہستی ہے نایاب مُحبّت کا موتی

..پتھّر بنتا ہےہَوس کی لَو میں بِہتے ہی

پوشیدہ ہے خزانہ حُسنِ دل میں

..خس وخاشاک بنتا ہےغرُور کی چاہ میں مِٹتے ہی

نِکھرتا ہے رُوحِ جہاں میں شفاف بادل

..غُبار بنتا ہے نفس کی آڑ میں چُھپتے ہی

عشق تختِ عرش کا قیمتی تاج ہے

..جابر بنتا ہے سنگ دِلی کی آگ میں جلتے ہی

محفلِ نظر کا ہِیرا ہے چمکتا ستارہ

..شُعلہ بنتا ہے سیاہی کی راکھ میں پَلتے ہی

ظَرف سجدہ گر ہے شجرِ گُل کو

..مُردار بنتا ہے فتُور کی مِٹّی میں دَبتے ہی

نظریۂِ زیست

image

دُور سے نظر آئی وہ مُجھے

تو یوُنہی مُسکرا کے چَل دی

چُھونا چاہا اُس نے کئی بار

تو نظر انداز کر کے چَل دی

دِیۓ سَو لالچ تحائف کےسبھی

تو اپنا دامن بچا کے چَل دی

کبھی شَک نے گھیرا ڈالا اگر

تو میں ہونٹ دبا کے چَل دی

نا گوار گُزرے دل کو جو کبھی

اُس نبض کو مِٹا کے چَل دی

سرور جو پشیمان کرے ایسے

اُس ضمیر کو کُچل کے چَل دی

بازی میں شکست نہ کھا سکُوں

ایسی ہار کو جِتا کے چَل دی

مُنفرد سوچ کی موج میں بِہتی

اِس دریا کو پار کر کے چَل دی

کبھی نہ سمجھ پائی جو مُجھے

ایسی زندگی کو گُزار کے چَل دی

تَلافی

image

اُن دنوں جب بُجھ گۓ تھے

میری شوخ نظروں کے دِیۓ

اور وِیران تھی میری پلکوں

کی چِلمنیں تب بے حد یاد

…آتی تھیِں وہ آنکھیں

…اب یہ عالم  ہے کہ وہ آنکھیں پیار برسانا نہیں بھُولتی

وہ بِسرے رُوکھے پَل جھڑتے

رہے مُرجھاۓ پتّوں کی مانند

اور میرا دل بھی ایک بے جان

شے کی طرح خاک کی دُھول

چاٹتا رہا تب بے اِنتہا یاد

…آیا تھا وہ دل

…اب یہ عالم ہے کہ وہ دھڑکن ُمجھ پہ جان لُٹانا نہیں بھُولتی

اُس وقت کی جلتی دھُوپ  نے

ساکت کر دیا تھا پُورے بدن کی

رنگت کو اور زرد ہوتی گئی سبھی

کلیاں اور آنسُو کی قطاریں جمنے

لگی تھِیں رُخسار کی دیواروں پر

…تب بے تحاشا یاد آیا تھا وہ وجود

…اب یہ عالم ہے کہ وہ رُوح اِس ہستی میں مِل جانا نہیں بھُولتی

 

 

بَندگی

image

جس آنکھ میں چمکے موتی

وہ ستارہ میرے نام کا ہے

جس دھڑکن میں آہٹ گُونجے

وہ دل میرے نام کا ہے

جو لَب زکر کریں میرا

وہ وِرد میرے نام کا ہے

جو نیند وابستہ ہو مُجھ سے

وہ خواب میرے نام کا ہے

جہاں چاند اُسے روشن کرے

وہ آنگن میرے نام کا ہے

جہاں عشق میں کریں سجدے

وہ کعبہ میرے نام کا ہے

جس فریاد میں تڑپے دل

وہ بشر میرے نام کا ہے

جس کی ضِد میں جلے شمعٰ

وہ پروانہ میرے نام کا ہے