..رَوندے ہُوۓ پَل

IMG_1734

جِینا تو چاہتی تھی خواہش مگر

تمنّا نے ساتھ نِبھانا چھوڑ دیا

رکھنا چاہا سنبھال کے یاد کو

اُمید نے دامن پھیلانا چھوڑ دیا

بِیت رہے تھے لمحے پَلوں میں

وقت نے یہاں آنا جانا چھوڑ دیا

شب بھر بیٹھی رہی آرزُو میری

اِنتظار نے آسماں بِچھانا چھوڑ دیا

شمعٰ دیتی رہی صدا زندگی کو مگر

چِنگاری نے آگ بھَڑکانا چھوڑ دیا

شوق آزمائی

IMG_1731

اجنبی تھا تھوڑا وہ انجانا بھی تھا

کبھی تھا اپنا تو کبھی بیگانہ بھی تھا

کر نہ پایا جو بے وفائی نامِ وفا پہ

دِلدار نے ایک قرض میرا چُکانا بھی تھا

مِثالِ عشق بنا لا زوالی کے شوق میں

صُوفی بن کے اِس بھِیڑ میں اُسے آنا ہی تھا

جسے پایا اپنے رُوبرو نہ ہو سکا جاویدہ کبھی

طوافِ آرزو کی لَو میں اُسےجَل جانا ہی تھا

مُختصر وقت

IMG_1730

کَل کی جو بہار دیکھ نہ پائیں اگر ہم

چلو آج کی خزاں میں جی کے دیکھتے ہیں

زندگی چھِین رہی ہے خُوش گوار پَل

چلو ایک نئی راحت میں اُتر کے دیکھتے ہیں

کیونکہ تھوڑا ہے وقت اور لمحے مُختصِر

چلو نئی رُوتوں میں ڈَھل کے دیکھتے ہیں

بے بسی میں سانس لیتے ہیں بےحِس لوگ

چلو آج پھر یہ بھرم توڑ کے دیکھتے ہیں

وہ تو رُک گیا ہے جیسے تھکا ہُوا مسافر

چلو بے مقصد اُڑان ہم بھر کے دیکھتے ہیں

کیسے جلے اور بُجھاۓ یہ شمعٰ ارمانوں کی

چلو پروانے کو پھر سے اُکسا کے دیکھتے ہیں

خالی ہاتھ

wallup.net

تیرے قُرب میں تھی کبھی جو میری شِدّت ٹِھہری

آ مِلی ہے واپس مُجھ میں جیسےبھٹکی ہُوئی موج

میرے حِصار کا کنگن جو کبھی تیرے گلے کی شان تھا

اُتر گیا ہے صحن پہ میرے جیسے کھویا ہُوا چاند

تیری چھاؤں میں سوئی تھی کبھی میری آنکھ جو

جذب ہوگئی ہے تکیۓ پہ میرے جیسے بِکھرا ہُوا آنسُو

میرے درد سے آشنا تھا کبھی جو تیرا اِنتظار

لگتا ہے میرے دَر سے لَوٹ گیا جیسے لُٹا ہُوا بھکاری

…تھےجوکبھی اپنے

IMG_1726

گُلابی تھی پنکھڑی

سُرخ تھے پیالے

قیصریا آنچل تلے

جھِلملاتےتھے تارے

تھا شباب عروج پہ

اور مخملی تھے اُجالے

بھیگتےچشم کے رُوبرو

پِگھلےجارہے تھےسہارے

صندلی تھی مہک اور

ڈُوب رہے تھے کنارے

ٹُوٹتی سانسوں میں بھی

مِل رہے تھے دائِرے

گھاؤ

IMG_1725

چھُپتا سورج اور ٹھنڈا چاند

سب کرتے تھے رقص میری

ہتھیلی پر مگر اب نہ کرنیں

چُومتی ہیں ڈالیاں میری نہ

ہی مہتاب دِکھاتا ہے

…جلوہ اپنا

بے تاب اِنتظار کی تمنّا

اور پیاسی آنکھوں میں

تڑپ جگتی تھی کبھی مگر

اب نہ ہی کوئی دستک ہےنہ

ہی قدموں کی چاپ سُناتی ہے

…قِصّہ اپنا

خُشک آنسُو اور مُرجھاۓ پھول

بھرتے تھے جو زخم کبھی دوا

کے نام پر مگر اب تو نہ ہی

مرہَم لگاتا ہے دل اور نہ

ہی گُلستان سجاتا ہے کوئی

…ہمدرد اپنا

مرچُکا تھا بدن خاک

کے سِینے میں دَب کر

کب سے مگر نہ ہی قرار

پایا اور نہ ہی مِلا

…مسیحہ اپنا

 

 

مذاق

IMG_1724

قطرہ قطرہ جو بِکھرتاہے

سیلاب سے، اُس دریاۓ دل

کی قسمت بن گئی تھی لکیر

پِہلے سے…بس میں  تقدیر کو سمجھ نہیں پائی

شناسائی تھی اُس آغوش

سے پھر بھی ، اِس آنچل کی

بے ساختگی میں تھی مِلاوٹ شاید

پِہلے سے…یہی ایک راز میں جان نہیں پائی

مِلتی رہی اور چاہنے کی

خواہش میں اکثر مگر افسوس

کہ جُدائی طے تھی

پِہلے سے…اِسی سچّائی کو میں جھُٹلا نہیں پائی

ہرجائی نِکلا رقیب ، وفا

کی دیتا تھا جو دُہائیاں

کبھی،  شاید انعام تھا

وہ میری بے وفائی کا

پِہلے سے…اِسی انجام کو میں سِہہ نہیں پائی

آمنے سامنے

IMG_1723

شَب بھر چَرچا رہا تیرے دِیدار کا

کہ چاند کی چاہ میں بیٹھا رہا چوکور

اور ستم گر دیکھتا رہا کہ کب بادل

چھَٹیں  ہِجر کے اور نہ جانے کب

…رُوبرو ہوں محبُوب اور مُحبّت

کبھی چھنکتی تھی جو پایل اُس کے لَمس سے

مَن اب چاہے بھی تو کھنکتی نہیں پاگل

کہ اُن ہاتھوں کے سُر کو یاد کرتی تو

ہے پر اِنتظار میں ہے کسک کہ نہ جانے کب

…رُوبرو ہوں پازیب اور دھڑکن

رات کی رانی میں سانس لیتا ہےاُس کا وجُود

یہ سَچ ہے تبھی تو خواب اور خُوشبو  کا

ساتھ ہے پُرانا پر مُدّت سے بیٹھی ہُوں  اُس

سفر کی تلاش میں کہ نہ جانے کب

…رُوبرو ہوں نیند اور کروٹ