کشِش

image

وہ دریا کے مانند دھِیما ہے

میں سمُندر کی طرح طُوفانی ہُوں

وہ قوسِ قزح کے رنگ پھیلاتا ہے

مُجھے آبشاروں سا برسنا آتا ہے

اُس کی دھڑکنیں سُنائ دیتی ہیں

میرے دِل پہ دستکیں ہوتی رہتی ہیں

اُس کی سانسوں میں ہوا مدہوش ہے

میری آہوں میں آندھیوں سی شِدّت ہے

اُس کی نظروں میں ہزاروں پیغام ہیں

میری نِگاہیں کئ سوَال اُٹھا تی ہیں

وہ چلے تو ذِندگی تھم جا ۓ

میری رفتار کی کوئ زنجیِر نہیں

وہ اپنی راتوں کو تھام لیتا ہے

مُجھے شب بھر بے چینی رِہتی ہے

اُس کے لمحوں میں سکُون پِنہاں ہے

میرے لمحے تڑپتے مچلتے رہتے ہیں

اُس کی دُھوپ میں گِہری چھاؤں ہے

میری چھاؤں میں جلتا آفتاب ہے

اُس کے لِہجے میں شائِستگی رَس گھولتی ہے

میری بے تکلّفی میری پِہچان ہے

اُس کے سرُور میں خُماری ہے

میں جنُون پہ فریفتہ ہُوں

اُسے ذیب دیتا ہے با وقار ہونا

میری شوخی میرے عکس کا آئینہ ہے

وہ ایک ٹھنڈک کا اِحساس دِلاتا ہے

میرا وجُود جلنے کے سِوا کُچھ بھی نہیں

قِیمتی پَل

image

یہ انمول پَل جہاں ہم رُکے ہوُۓ ہیں

چلو اِن لا فانی سِلسِلوں میں جی لیتے ہیں

ذِندگی میں پَل نہیں ہم پَلوں میں ذِندہ ہیں

چلو اِن نشِیلے پیالوں کو پی لیتے ہیں

بے خوف و فِکر سےآزادی چاہتے ہیں ہم

چلو اِس زنجیِر وجد میں جی لیتے ہیں

ٹُوٹ کے لڑیوں کا ریزہ ہونا اٹل ہے

چلو اِن بِکھرتے تاروں کو سِی لیتے ہیں

ہما رے بڑھتے قدم نہ رُکنے پایئں گے

چلو اِن ڈُوبتے کِناروں میں جی لیتے ہیں

یہ جِس نے بنایا ہے وسیِلہءِ وصل اِس طرح

چلو اِس سوغاتِ عِشق کو پِی لیتے ہیں

آج شَب جب

image

آج شَب جب میری مِحفل میں چاند اُترا

روشنی سے جگمگا اُٹھا

میرا آشیانہ جب

اُسکے آنے کی خبر نے

مِہکا دِیۓ در و دیوار میرے

گُل و گُلزار کے

حسین رُخ پر

خُوشبو بِکھر گئ

دِل کی گلیوں میں

انگڑایاں کروٹ لینے لگیں

آج شب جب میری مِحفل میں چاند اُترا

 

اُڑتی جا رہی تھی میں

سرُور کے جھونکوں میں

اُس خُوبرُو شخص کے

وجُود سے آنگن میرا

جِھلمِلا اُٹھا جیسے

آسمان کی چادروں پر

کِہکشاں رقص کرے

دستک دینے لگی بہار

سرد رات میں اور

مُکمَّل ہوئے ہیں اَب

پھِیکے لمحے میرے

آج شب جب میری مِحفل میں چاند اُترا

 

 

پھِیکے لمحے

image

شمعیں جلیں گِیں گَر پِگھل نہ پائیں گی

یہ لمحے تیرے اِنتظار میں گُزر ہی جائیں گے

گُلا ب کِھلیں گے گَر مِہک نہ پائیں گے

یہ لمحے تیری راہ تکتے ہی نِکل جائیں گے

نظریں چمکیں گِیں گَر مُسکرا نہ پائیں گی

یہ لمحے تیری جُدائ میں بِیت ہی جائیں گے

حُسن سنوریں گے گَر  دِیدار نہ پائیں گے

یہ لمحے تیری حسرت میں کَٹ ہی جائیں گے

جُھوٹے دِلاسے

image

چا ہت کے پُر مست کُہروں سے نِکلنا ہوگا

طلِسمات کے فریبی عجوُبوں سے بِچھڑنا ہوگا

خُود کو حسِین بَندِشوں سے آزاد کر کے

بنھور کے نادِر دھوکوں سے سنبھلنا ہوگا

زِہرِ عشق کے شِیریں پیالوں کو چھوڑ کر

پیاسے صِحرا کو اشکوں سے بِھگونا ہوگا

دِل کے جھُوٹے دِلا سوں سے ذات کو بچا کر

سچ کے آئینے کو رنگوں میں ڈبونا ہوگا

شَربتی آنکھیں

image

جب وہ پلکیں اُٹھاۓ

تو اُس کی آنکھوں کے

گُلابی ڈورے روشن

کرتے ہیں اُجالے جِن سے

آفاق اور وسیع

سویرے دِلنشیں اور

نظر آتے ہیں

 

اور سمُندر کے

سنہرے شِیشوں

میں اپنا ہی عکس

دیکھ کے میں

دِل ہی دِل میں

مُسکرا لیتی ہوُں

 

ساحر نِگاہوں

کا پیام لے کے

اُس قاتِل انداذ سے

جِن کی خُماری میں

چھَلکتے میکدے اور بھی

نشیِلے ہو جاتے ہیں

اور میں جُھولنے لگتی ہوُں

بے اِختیار اِن میں اور

 

ایک ہی بات کِہتی ہیں

تب میری آنکھیں

کہ میرے دِل و جان عاشِق

اِن شربتی آنکھوں پَر

 

تُمہا ر ے دم سے

image

اِحساس کی لِہر سے جگتی بے چین مستی

یہ شوخی تُمہا رے دم سے ہے

بے تاب دل سے اُٹھتی سُلگتی تمنّا

یہ دھڑکن تُمہارے دم سے ہے

صبا کے مچلنے سے تڑپتی اگن

یہ کشش تُمہارے دم سے ہے

سرگوشی کے شور میں چُھپی داستان

یہ چاہت تُمہارے دم سے ہے

بے ربط سِلسلے

image

ضرُوری تو نہیں وقت و لمحے اِحساس میں ذندہ ہوں

دردِکسک کی آشنائ سے بے حِس ہو بھی سکتے ہیں

ضرُوری تو نہیں  سِحر و شب اِحساس میں ذندہ ہوں

اثیِرحِدّت کی آشنائ سے بے خُود ہو بھی سکتے ہیں

ضرُوری تو نہیں رنگ و خوشبوُ اِحساس میں ذندہ ہوں

اِنتہاءِ شوق کی آشنائ سے بے سُدھ ہو بھی سکتے ہیں

دو رُخ

image

مُحبّت بھی چاہت نفرت بھی چاہت

دونوں جہاں کی شُہرت بھی چاہت

کِتنا کُچھ سماۓ ہے اِس آنچل میں

دِل کی وِیرانی کو گُلِستاں کی چاہت

شاموں میں چُھپے بے خُود ساۓ

نظروں کی ٹھنڈک کو روشنی کی چاہت

مایوُس دھڑکن کی بےصبر تمنّائیں

قدموں میں بسی آہٹ کی چاہت

کُہرے کی دُھند میں کھوئ ہو جیسے

بند مُٹھی میں قید رُوح کی چاہت

کشمکش

image

میری ذات سے لِپٹی ہیں یوُں جالوں کی قطاریں

ریشم بُنتی بھی نہیں گِرہَ کھولتی بھی نہیں

خُوش فہمی کی عِما رت یوں تعمِیرِ عمل  ہے

سچ سُنتی بھی نہیں جُھوٹ چھُپاتی بھی نہیں

شرم و حیا  سے آراستہ یوں  زیورِ ہستی  ہے

نظر اُٹھا تی بھی نہیں پَلک جُھکا تی بھی نہیں

سِراجِ اُلفت میں  پیوست ہے یوں لَؤِ شمعٰ

اِرادہ کرتی بھی نہیں پِیچھے ہٹتی بھی نہیں