آ زمائش

یہ خواب تھا یا پھر دستک

بِسری آ ہٹ کی یا پھر

سے کوئی اِشارہ اُس کی جانب۔۔

کل رات عجب ہُوا

جو نہیں ہونا چاہیۓ تھا

وہ ہُوا۔۔

میں بیٹھی تھی سر ہانے

اور قلم تھا ہاتھ میں

تب نیند کے پایئدان پہ

وہ آنکھ تھی رُوبرو اور

پہلو سنگ وہ ہاتھ؍ جن کی

جدائی اب داستان بن کے

رہ گئی ہے فقط۔۔

وہ پھر سے نۓ افسانے

دوہرانا چاہتا تھا شاید۔

کُچھ دُور تھا؍ سامنے آنا

چاہتا تھا شاید۔

اُس کا لمس وہ خوشبوُ

سونپ کر مُجھے اِک بار پھر

آزمانا چاہتا تھا شاید۔۔

یہ خواب ہے وہ حقیقت تھی۔

تب بھی سب خواب سا

لگتا تھا اور آج یہ خواب

سچ سا لگا جیسے اُس نے

پُکارا ہو مجھے اور میں آزاد

فاختہ بن کر اُڑنے کے لیۓ

تیار ہُوں ایک بار پھر سے۔۔

اب بھی وہ جراثیم میرے

رگ رگ میں پیوست ہیں مگر نہیں۔۔۔

مجھے رکھنا ہے خود کو مظبوط

تاکہ خواب ؍ خواب ہی رہیں

گر حقیقت بن گۓ تو۔۔۔۔

خوابوں کی شدت

ویسے تو یاد یں ایسے ہیں جیسے پرندوں کے پروں کو چُومتی ہوایئں۔ اِن کے دم سے ہی زندگی کی گردش بڑھتی رہتی ہے۔ کبھی کوئی ایک لمحہ نہیں ایسا جو اُس کی یاد سے خالی جاۓ بھلے وہ پاس نہ بھی ہو۔ اکثر سکون رہتا ہے دل کواور دنیاوی کاموں میں مصروف بھی رہتے ہیں مگر یہ خواب جب کروٹ کا پردہ چاک کر کے چھلانگ لگاتے ہیں تو وجود کے آ ئینے کو پاش پاش کر دیتے ہیں۔ ایسے لگتا ہے کہ وہ یہیں ہو آپ کے سرہانے اور آپ کے بالوں میں ایسے اپنی اُنگلیوں سے خط لکھ رہا ہو جیسے اُس نے اِسی خواب کی کہانی لکھی اور تعبیر کا قلم میرے ہاتھ میں دے دیا ہو۔ درد اور خواب کا رشتہ اُتنا ہی گہرا ہے جتنا چشم کا نمی سے۔

میرے خواب اکثر مجھے جھنجھوڑ دیتے ہیں خاص کر جب کسی کی یاد اور اُس کے سراپاۓ تشنگی سے منصوب ہوں تب میرے سُوکھے ہوۓ شجر کی ڈالیوں پہ بہار آجاتی ہے اور میں پھر سے کِھلنے لگتی ہوں مگر نہیں ؍ ایسا نہیں ہونا چاہیۓ کیونکہ پھر میرا وجود اُنہی خوشبوؤں کا پیچھا کرنے لگ جاتا ہے جہاں کے گُلاب بہت مہنگے ہوں اور وہاں کی منزل اُن سخت راستوں سے گُزر کر مِلتی ہے جہاں پہنچ تو جاتے ہیں مگر وہاں پہنچتے پہنچتے پاؤں میں چھالے اور جسم درد و غم سے نڈھال ہو جاتا ہے۔

آج برسوں بعد اُسے خواب میں دیکھ کر دل آٹھ آٹھ آنسو رویا ٫ ایسا تو تب بھی نہ ہُوا تھا جب اُس کی آواز سُنی میں نے فون پر چند ماہ پہلے۔ محبت خواب اور درد ایسے گہرے رشتے میں بندھے ہیں کہ کبھی پیچھا بھی چھُڑاؤ تو نہیں چھُڑا سکتے۔ آہوں کا شور اُتنا ہی تیز ہے جتنی لہریں مچلتی ہیں سمندر کے عشق میں۔ کبھی کوئی یاد کبھی کوئی کسک اُس کے ساۓ و وجود سے خالی نہیں جاتی۔ وہ ایسے میرے شہر میں سفر کرتا جیسے میرے جسم میں سانسیں ہیں اور وہ اِسی سفر کی منزل ہے جب تک یہ سانسیں ہیں۔

کبھی کوئی جدا بھی ہو تو خواب کے دریچوں سے آتا جاتا رہتا ہے ٹھنڈی ہوا کا جھونکا بن کر۔ یہی تو اصل عشق ہے اِسی میں فلاح اور اِسی میں مُکمل آزادی۔
یہی میرے خوابوں کی شدت ہے اور یہی اِس کی حقیقت۔

فالتو محبت

کبھی تو وہ شخص اجنبیٌت سی طاری کر لیتا ہے تو کبھی ہمدرد بن کر دل کی دہلیز فتح کر لیتا ہے ۔ایسا کیوں ہے؟ میں اِس پہیلی کو سُلجھا نہیں پائی۔ کبھی یہ خیال اؔتا ہے کہ وہ مجھے چاہتا ہے مگر کبھی یہ سوچ کر خود کو بہلا لیتی ہُوں کہ یہ ایک سراب ہے۔ کیا میں محبت کو سمجھ نہیں پائی یا وہ میرے ساتھ ُآنکھ مچولی کھیل رہاہے؟

کہاں ہے وہ؟ کہیِں نظر نہیں آتا۔ کہیں بھی اُس کا نام و نشان نہیں۔ یہ کیسی محبت ہے یا میں سمجھنے سے قاصر ہوں۔

دل کی راہیں روح کی لگن ہی شاید اصل عشق کا حاصل ہے مگر کیسے پتا چلے گا کہ اُسے بھی محبت ہے؟ کیا بارش ہوگی؟ کیا آسمان سے رنگ اُتریں گیں؟ کیا ستارے رقص کریں گے؟

محبت کو اظہار کی چاہ ہے ، اُسے خواہش ہے کہ وہ خود کو سورج کی شعاؤں میں سُلگتا دیکھے۔

بے شک دل سمجھ جاتا ہے محبتوں کے داؤ پیچ مگر اِسے ضرورت ہے اقرار کی۔ پیار اور محبت کی پہلی سیڑھی ہے اقرار اور جنون۔

عجب ہیں محبت کی راہیں جہاں زندگی تو تھوڑی ہے مگر انا کا معیار موت کی حدیں بھی پار کر جاتا ہے۔ ہم عشق کرنے کا جذبہ تو رکھتے ہیں مگر اُسے نبھانے کا نہیں۔ ہم بُزدل ہیں کمزور اور خود پرست۔

ہم محبت نہین کر سکتے صرف وقت گُزار سکتے ہیں۔ ایسا وقت جس میں ہمارا مزا اور فالتو وقت گُزر سکے۔