تب سب اچھا تھا

image

 

عرُوج پہ جنُون تھا تو تب سب اچھا تھا

وقت جب آوارہ تھا تو تب سب اچھا تھا

ادھُورے پِہر کی آغوش میں جو کھیلا تھا

اُس مات کا نظارہ تب اچھا تھا

کسک سے نہ آشنائ تھی اُسے جو

سنجیدہ تھا اِک دَور تب سب اچھا تھا

پرستِش کے قابِل تو تھا وہ مُجسّمہ

کا فِرانہ انداز تھا اِنسان تب وہ اچھا تھا

آتِش سے کون سُلگاۓ موم کی گرمی کو

پِگھلتی شمعٰ کا پروانہ تب وہ اچھا تھا

چراغ

image

جِن کی کشش سے فِروزاں ہیں چراغِ دل

وہ مِہکش آنکھیں میرے دل کا مرکز ہیں

جِن کی حسرت میں پنہاں ہیں خوابِ تعبیر

وہ مِہکش آنکھیں میرے دل کا مرکز ہیں

جِن کی تبسّم  سے بیاں  ہو  پیغامِ وفا

وہ مِہکش آنکھیں میرے دل کا مرکز ہیں

جِن کی ترنُّم سے جا ویداں ہو رقصِ اُلفت

وہ مِہکش آنکھیں میرے دل کا مرکز ہیں

جِن کی چمک سے عیاں ہو ستارہۂِ شمعٰ

وہ مِہکش آنکھیں میرے دل کا مرکز ہیں