تیری آواز کی خوشبو

image

فنا کرتی ہے تباہ کرتی ہے روز یہ تیری آواز

سفر کرتی ہے رُوح کو چِھڑاتی یہ تیری آواز

نہ جلاتی ہے نہ بُجھاتی ہے نہ مرنے دیتی ہے

اثر کرتی ہے تن بدن کو تڑپاتی یہ تیری آواز

جامِ سرگم پیتے ہیں قطرہ قطرہ اِن کی بدولت

بَسر کرتی ہےپیاس کو بڑہاتی یہ تیری آواز

کانوں کی دہلیز پہ دم توڑتی یہ سرگوشیاں

رقص کرتی کسکِ شمعٰ کو پگھلاتی یہ تیری آواز

Leave a comment