شَبنمی موم

image

رُوح کِھچتی چلی گئی اُن لبوں میں ریزہ ریزہ ہو کر

اِس شباب و اُلفت کے کھیل میں عکس چُھپ سا گیا ہے

عالمِ اِنتہا میں ٹُوٹے شِدّتِ وصل تڑپ کے باہوں میں

اِس کسک و جلن کے کھیل میں وجُود بِہک سا گیا ہے

کِتنی بے چین تھی اُن ہاتھوں کی نرماہٹ میں یہ کلیاں

اِس وجد و تِشنگی کے کھیل میں ساغر چھَلک سا گیا ہے

شمعٰ کی کروٹوں میں آندھیوں کے شور کی ہلچل تھی

اِس موم و شبنم کے کھیل میں جسم پِگھل سا گیا ہے

Leave a comment