تُحفہ

image

راتیں تُمہاری سیاہِیاں میری

یہ تُحفۂِ اُلفت تُمہارے لیۓ ہے

برساتیں تُمہاری تنہائیاں میری

یہ تُحفۂِ آرزو تُمہارے لیۓ ہے

فِضائیں تُمہاری آندھیاں میری

یہ تُحفۂِ دل لگی تُمہارے لیۓ ہے

کِرنیں تُمہاری چِنگاریاں میری

یہ تُحفۂِ تِشنگی تُمہارے لیۓ ہے

قُربتیں تُمہاری دُوریاں میری

یہ تُحفۂِ وفا تُمہارے لیۓ ہے

شُہرتیں تُمہاری رُسوائیاں میری

یہ تُحفۂِ جنُون تُمہارے لیۓ ہے

ڈَر

image

تُمہیں کھو دُوں تلاشِ خُودی میں بنجر نظر آنے لگوُں

نہ کوئی کھنڈر نہ کسی صحرا جہاں مِل سکوں گی

اَب کے مدھم ہُوۓ جو ستارے تو ذاتِ عرش فنا ہوگی

نہ کوئی کُہرے نہ کسی اندھیرے جہاں مِل سکوں گی

روشن دریچے وِیران اُجالوں میں غرق ہو جائیں گے

نہ کوئی گُلشن نہ کسی بیاباں جہاں مِل سکوں گی

شبنمی غم سے تَر ہو جائیں گے پیالۂِ رُخسار ایسے

نہ کوئی مہ خانہ نہ کسی راہ گُزر جہاں مِل سکوں گی

شمعٰ دہلیزِ انجام پہ قدم رکھتے ہی دم توڑ دے گی

نہ کوئی آشیاں نہ کسی قندیل جہاں مِل سکوں گی

 

وصلِ نَو

image

مُدّتوں بعد چاند کِھلا ہے جسمِ فَلک پر

چاندنی شوخ سےشوخ تر ہوتی چلی جارہی ہے

برسوں میں جو شاداب ہُوا ہے دِیارِ گُلستان

مہک خُوب سے خُوب تر ہوتی چلی جا رہی ہے

صدی بِسری جس  لمحے وہ پل اب ٹھر گیا

گھڑی طویل سے طویل تر ہوتی چلی جا رہی ہے

بعد عرصے کے رونقِ وصل نے لی ہے کروٹ

مُحبت قائم سے قائم تر ہوتی چلی جا رہی ہے

زمانوں بعد رُوحِ  شمعٰ  نکھرنے لگی ہے یوں

تاثیر گرم سے گرم تر ہوتی چلی جا رہی ہے

کَرامات

image

آدھی نیند کا جاگا ہو جیسے

پُوری آنکھ کا جادو جس میں

جُھولتا ہو وہ حِصار جس کی

قید ہِجر کے فریبی دھوکے سے

ذیادہ پُرکشِش اور نشیلی ہو اور

جب شِدّت میں پِنہاں درد ٹُوٹنے

لگے تب آنکھ بَند کرتے ہی گر ہاتھ

بڑھاؤں تو خواب آغوش میں جکڑ

لیتا ہے تب میں رُخصت ہو جاتی ہوں

….ایک نۓ سفر کی جانِب

مدہوشی کا سیلاب جب بہا لے جاۓ

جس میں جھُومتا ہو وہ خُمار جس

کی کشِش سے قُربت کا آسمان اور

گِہرا دکھائی دے تب اِس حُسن کی

بارش سے فَرش کی چادر پہ گرتے قطرے

شفاف ہونے لگتے ہیں  تب اُسی لمحے بَند

پَلک میں سوئی خواہِش رکھتی ہے پاؤں ایک

دلفریب منظر میں جو کھینچ لیتا ہے مُجھے

…..ایک نۓ سفر کی جانِب

میری کائِنات

image

یہ دیوانگی ہے تُم سے

یہ عاشقی ہے تُم سے

یہ تنہائی ہے تُم سے

یہ آشنائی ہے تُم سے

….میرا مُجھ میں کُچھ نہیں میرے محبُوب کے سِوا

میری شاعری میں تُم ہو

میری باتوں میں تُم ہو

میری اداؤں میں تُم ہو

میری کہانی میں تُم ہو

….میرا مُجھ میں کُچھ نہیں میرے جانم کے سِوا

میں چلوُں تو تیری آہٹ آۓ

میری نظر میں تیری نِگاہ بسے

میری ہنسی میں تُو کھنکے

میری نیند میں تیرے خواب ہوں

….میرا مُجھ میں کُچھ نہیں میرے دِلبر کے سِوا

میری سانس میں تیری آہ ہو

میری آواز میں تیری گُونج اُٹھے

میرے آنسُو میں تیری کسک ہو

میرے لمحوں میں تیرے پَل ٹھہریں

….میرا مُجھ میں کُچھ نہیں میرے ہَمدم کے سِوا

میرے ہونٹوں پہ تیری پیاس ہو

میری انگڑائی تُجھ سے آشنا ہو

میری دھڑکن تیرا نام لے

میری زُلف میں تیری چھاؤں ہو

میرا مُجھ میں کُچھ نہیں میرے سَجن کے سِوا

آزمائِش

image

بےخُودی کاساماں پِھر سےبنی جاتی ہُوں

آئینۂِ ساز پِھر سے دلِ آزمانے کو ہے

قدموں کی دُھول میں سراب لِپٹے ہے گرچہ

لِباسِ مجاز پِھر سے مَیّت دفنانے کو ہے

اندھیرأِ گُمنام میں پیوست ہے شَبِ نَو

مَرضِ عاشِقی پِھر سے رُوح جگانے کو ہے

سفینۂِ آرزؤِ خام کو کنارہ مل جاۓ اگر

کاتبِ تقدیر پِھر سے ذات ڈُوبانے کو ہے

جی جلانےکے ہیں طریق و قواعد بےشُمار

پروانۂِ شمعٰ پِھر سے آگ سُلگانے کو ہے