راہ گِیر

image

حرف و لفظ میں اِنصاف نہ کر سکُوں تو کوئی ملال نہیں

خنجرِ قلم  اُس کے ہاتھ میں ہے فقَط ، یہ خطا ہے میری

بے اِختیار ذہن و قلب کے بَنجر دریچے جلنے لگتے ہیں

تصویرِ خیالی میں فقَط وہ وجود ہے ، یہ خطا ہے میری

کتابِ ذندگی کے ورق سیاہئِ عکس سے پھیل رہے ہیں

زیر و زبر میں فقَط قاتلِ معشُوق ہے ، یہ خطا ہے میری

خُلاصۂِ داستان کے کٹھِن راستوں کا مُسافر ہے گرچہ

کاروانِ مُحبّت میں فقَط وہی راہ گُزر ہے ، یہ خطا ہے میری

Leave a comment