اِطمینان

image

زندگی کے راستےکٹھِن ہوں اگر

ہَمسفر ہو تُم بس یہی کافی ہے

کنارۂِ دل چھلنی  ہو جاۓاگر

ہَم نَفس ہو تُم بس یہی کافی ہے

رنج و غم گر محبوب ہونے لگیں

ہَم پہلُو ہو تُم بس یہی کافی ہے

چھلَکنے لگیں آنسو تو کیا ملال

ہَمدرد ہو تُم بس یہی کافی ہے

دِلکش نہ سہی نغمہ و شعر اکثر

ہَم سُخن ہو تُم بس یہی کافی ہے

Leave a comment