خیالِ دِلکشی

image

تُمہیں سوچیں تو مُسکرانے لگتے ہیں یہ لَب

اِس خیالِ جنّت سے نہ کوئی نکالے اب ہمیں

تُمہیں دیکھیں تو چمکنے لگتی ہیں یہ آنکھیں

اِس مِحفلِ کہکشاں سےنہ کوئی نکالےاب ہمیں

تُمہیں پا کےیوں بےاختیار اِترانےلگتا ہےیہ دل

اِس نازِ خوُد پسندی سے نہ کوئی نکالےاب ہمیں

تُمہیں چھُو لیں تو پگھلنے لگتے ہیں یہ جان و تن

اِس لمسِ خوشبو  سے نہ کوئی نکالے اب ہمیں

مَرکزِ جاناں

image

اِن بے خود گھٹاؤں کی

گڑگڑاہٹ میں جس کی

صدائیں مُجھے بلاتی ہیں

وہ شخص میرے دل کے

….موسموں کا سَبب ہے

یہ چھیڑتی مَست ہواؤں

کے رُخسار میں جس کا

لمس چُپکےسے میرے بدن

کو چومتا ہے وہ شخص

میرے حُسن کی

….راحتوں کا سَبب ہے

قطرہ قطرہ ٹپکتی بوُندوں

کی جھنکار میں بسی

تپِش جس کی حِدّت سے

مدہوش بناتی ہے وہ شخص

میری جلتی بُجھتی

….آہوں کا سَبب ہے

 

 

 

نئی دُنیا

image

تُمہیں چاہنے کی حد میں ہر اِنتہا سےگُزر بیٹھے

اِس مُحبّت میں جنون تُمہیں لے جائیگا نئی دُنیا میں

ستاروں کے جہاں میں تُمہیں سجدے کرتی ہے یہ ذات

اِس اُلفت میں عبادت تُمہیں لے جائیگی نئی دُنیا میں

پیکرِ عشق کا خُدا بنا چُکے ہیں سحر و شب کا تُمہیں

اِس بندگی میں سرُور تُمہیں لے جائیگا نئی دُنیا میں

تُمہیں نرم آنچ کی مدھم حرارت میں بِھگونا ہے ہر پل

اِس تمازَت میں شمعٰ تُمہیں لے جائیگی نئی دُنیا میں

مَسافَت

image

درد و غم کے بہتے دریا پار ہوتے نہیں

کنارۂِ مے تک رسائی میں ابھی عُمرباقی ہے

دھنستے جاتے ہیں ریت میں قدموں کےنقوُش

فیصلۂِ تقدیر ہونے میں ابھی وقت باقی ہے

سطحِٰ ساحل سےنظر آتا ہے منظر ڈوبنے کا

سفینۂِ ذندگی کےسفرکا ابھی انجام باقی ہے

شب و سحر کی تلاش نے تھکا دیا ارمانوں کو

لؤِ شمعٰ بُجھنے میں ابھی حیات باقی ہے