اِعتقاد

image

سمیٹ کر درد باہوں میں خوشیاں بکھیرتی ہوں

دل کے آسمان پہ چاہتوں کے پھُول سجاتی ہوں

بے چین لمحوں کی دھُوپ چھاؤں در گُزر کرتےہُوۓ

مُسکراہٹوں کےچمکیلےآنچل میں ستارے لپیٹتی ہوُں

تپتی ریت کی جلن سے خود کو بچاتے چل نِکلوں

مِہکتی برسات کے موتیوں سے جسم بھگوتی ہوں

رنج و غم سے جب چھلنی ہونے لگتی ہیں سانسیں

روح کے مخملی جھرونکوں میں مُحبّت سمیٹتی ہُوں

پِگھل کر جب شمعٰ نہانے لگتی ہے آنسوُؤں میں

حِدّتِ چنگاری کے جواں جوبن سے ذات سُلگاتی ہوُں

Leave a comment