خُود رَفتگی

image

شِدّتِ جنون ہو دھُوپ میں اگر تو آفتاب خُود غرض کیسے

وہ بے خبر نہ جانے ہے اُس کی ذات سے کتنے تن جل گۓ

بے مثال حُسن و شباب جگا بھی دیں احساسِ بےخُودی اگر

اِس لا عِلمی کی غَفلت میں نہ جانے کتنے دل فنا ہُوۓ

قیدِ آشنائی کے خنجر سے بھلا کوئی بچ سکا ہے آج تک

اِس خُود کُشی کی چاہ میں نہ جانے کتنے بے موت مارے گۓ

دِلفریب سبھی نظر آتے ہیں داغ نُمایاں بھی اور پوشیدہ بھی

اِس سوغاتِ بےاختیاری میں نہ جانے کتنےمرہم ضائع ہُوۓ

قطرہ قطرہ ٹَپکتا ہےلہؤِ جگر گرچہ طلب بڑھتی جاۓ ہے

اِس پاگل پن کی حد میں نہ جانے کتنے ارمان پیاسےلُٹے

قندیل میں چھُپی شمعٰ کو پگھلنے کی اِجازت بھی نہیں

اِس سُنہری پناہ گاہ میں نہ جانےکتنے پروانوں کے وِرد ٹُوٹے

آزُردہ خاطِر

image

آج پھر اُسی مقام پر رُکنا پڑا جہاں سے تھی چلی

آگے کُہرے ہیں جہاں دیکھوں پیچھے دشت کی تِیرگی

خس و خاک کے ڈھیر تلے بے جان رُوحوں کی صدائیں ہیں

سامنے موت ہے مُنتظر باہیں پھیلاۓ تو پیچھےکفنِ زندگی

فِہرستِ دُشمناں میں ہمدم ہیں بے شُمار جہاں دیکھوں

یاں سازِشوں کے پھَندے ہیں واں دامِ تزویر کی سیاہی

تنِ بے ضمیر میں مَکفُوف مَیّت کو نہیں سہارے کی آرزو

اندر گُھٹن جکڑے ہے نفس کو باہر سِسکتی ہے خامِشی

زہرِ عشق کے کڑوےگھُونٹ نس نس میں اُترتے جاتے ہیں

آگے نرمئِ آغوشِ پیکرِ جاناں پیچھےفیصلِ تقدیر کی ناگُزیری

بےصَبر

image

بے تاب ہوں اُن نظروں

میں سمانے کو جن کے

مِلتے ہی بھُول جاتی ہوں

کہ گِہری جھیلوں میں ڈوبنے

….کا خوف ہے

بے چین ہُوں اُن باہوں میں

ٹُوٹنے کو جن میں گُم ہوتے

ہی یہ یاد نہیں رہتا کہ

فقط آنچل میں حُسن

….مِحفوظ ہے

بے قرار ہوں اُن سانسوں

میں دم توڑنے کو جن میں

بس کے یہ یقین اُٹھ جاتا

ہے کہ گُلوں میں مِہک

…زیادہ ہے

بے صبر ہوں اُس ساۓ

میں غرق ہونے کو جس میں

چُھپ کر یہ احساس کھو

جاتا ہے کہ ہم دو

…جِسم ہیں

بے پرواہ ہوں اُن شعلوں

میں جلنے کو جن کی گرمی

میں پِگھل کے یہ خیال نہیں

ستاتا کہ شمعٰ خُود سے

…جلتی نہیں

اِعتقاد

image

سمیٹ کر درد باہوں میں خوشیاں بکھیرتی ہوں

دل کے آسمان پہ چاہتوں کے پھُول سجاتی ہوں

بے چین لمحوں کی دھُوپ چھاؤں در گُزر کرتےہُوۓ

مُسکراہٹوں کےچمکیلےآنچل میں ستارے لپیٹتی ہوُں

تپتی ریت کی جلن سے خود کو بچاتے چل نِکلوں

مِہکتی برسات کے موتیوں سے جسم بھگوتی ہوں

رنج و غم سے جب چھلنی ہونے لگتی ہیں سانسیں

روح کے مخملی جھرونکوں میں مُحبّت سمیٹتی ہُوں

پِگھل کر جب شمعٰ نہانے لگتی ہے آنسوُؤں میں

حِدّتِ چنگاری کے جواں جوبن سے ذات سُلگاتی ہوُں