خوش سَواد

image

اِدھر تمام رات

اُس کی یاد کا دِیا

جلتا رہا آنکھوں میں

اور اُدھر چاندنی اپنے

جوبن سے اُسے

….سُلاتی رہی

اِدھر بندش کی سیاہ

چادروں پہ کِھلے فُرقت

کے پھُول اور اُدھر صُبح

اُس کی خواب گاہ

….سجاتی رہی

اِدھر ماند ہیں رنگ و خوشبو

گُل کے سبھی اور اُدھر

رات کی رانی اُس کا صِحن

….مِہکاتی رہی

اِدھر دستک دی سِتاروں

کے قافلے نے نیند کو اور

اُدھر کہکشاں اپنے جلوے

….دِکھاتی رہی

اِدھر جمتے گئے نشاں

شبنمی موم کےاور اُدھر

شمعٰ اپنی چِنگاریاں

….بھڑکاتی رہی

..اُس کی دُھن میں

image

اُس کی خُوشبو پیراہن میرا

پیمانہ آنکھیں نظارہ میرا

آشنا دھڑکن دل میرا

سُلگتی سانس جسم میرا

بکھرتی کسک لُٹنا میرا

گُلابی وصل تُحفہ میرا

ہاتھ سَندلی پگھلنا میرا

تڑپ اُس کی آنسُو میرا

کِھلتی دھُوپ جلنا میرا

ریشمی بِچھونا بستر میرا

چھَلکتی پیاس جام میرا

سِیلی رُت جنوُن میرا

آنگن چاند ٹھِکانا میرا

نام اُس کا وجوُد میرا

تَڑپ

image

کیُوں اُس کا لمس مُکمّل بنا گیا

کیُوں سُرمئی رنگ پاگل بنا گیا

اُس کی سانسوں کا دَم توڑنا ایسے

میرے ذرّہ ذرّہ حُسن کو مُعطّر بنا گیا

انگلیوں کی حِدّت سے پگھلتی جاؤں

بھٹکی ہُوئی موج کو ساحل دکھا گیا

ادھُوری نیند کی سوئی آنکھ کاجادو

بہکتی  خواہش کو راستہ دکھا گیا

ہونٹوں کی لرزِش منزل تک پُہنچتی

پھیکی ہنسی کو سُرخ جام پلا گیا

نرم سیِنوں میں دھڑکتے شوخ جذبات

اِس  روکھی آرزو کو تمنّا بنا گیا

قدر شناسی

image

صنم کے چھُوتے ہی ہر نعمتِ قُدرت بنتی ہے پسند کے قابل

میں دل اور پھُول دیوانے ہیں اُس فضا کے جہاں وہ سانس لیتا ہے

جس چمک کی قدر کرے دلدار میرا  اُس میں نِکھرنا چاہُوں

میں چاند اور پایل پرِستار ہیں اُس جہاں کے جسےوہ سنوارتاہے

بدلتے رنگِ موسم میں گُم ہوتے دیکھُوں وہ حسین چشم

میں دھنک اور آنچل عاشق ہیں اُس عرش کے جس میں وہ جگتا ہے

حُسنِ خیال کی رعنائی کے جُدا ہیں قیاس و انداز سبھی

میں خواب اور کاجَل قُربان ہیں اُس سراپا پہ جس میں وہ بستا ہے

شعر و نغمہ میں زندگی بھر دے میرےمحبُوب کا فسانۂِ دل

میں نشہ اور غزل فِدا ہیں اُس ترنّم پہ جسے وہ گُنگُناتا ہے

..حقیِقت میں

image

…مُحبّت کو مِلتے ہیں

چَند ادھُورے پَل

کُچھ مُرجھائی یادیں

کئی سِسکتے لمحے

خاموش مُلاقاتوں کاسلسلہ

کئی بھُولے افسانے

کُچھ اَن چُھوئی حسرتیں

…محّبت چاہتی ہے

وصل میں ڈُوبتی شامیں

دیدارِیار کی طلَب

ٹھہِرے وقت کی گردِش

گرم بانہوں کا بِچھونا

ستاروں میں چمکتی چھاؤں

بے تاب تمّنا کی لگن

…مُحبّت کی آرزو میں

جلتے ہیں جان و تن

اُجڑتے ہیں آشیانے

رُوح ہوتی ہے فنا

تڑپ بنتی ہے اِنتظار

فِکر و رنج مات دیتے ہیں

بے صبر ہوتا ہے جنُون

…مُحبّت کو گوارا نہیں

دُوری کے ڈستے بِچھّوُ

اشک بہاتے چشم

ہِجر کے جگتے سُورج

سازِش بُنتے جال

بے رُخ ادا و نظر

ڈرتے حوصلوں کا جوش

…وہ نہیں مِلا

image

میں جہاں بھی گئی

ٹکراۓ وہ راستے جن

پہ چلتےہُوۓ مِلے اُس

کے نِشاں مگر وہ مِلا

…نہیں مُجھے

میں جہاں بھی گئی

اُن آنکھوں کی تلاش

میں رُوبرو ہُوئی اُس کی

روشنی سے مگر وہ مِلا

…نہیں مُجھے

میں جہاں بھی گئی

اُس احساس کی مِہک

گھیرے رہی میری آرزُو

کو مگر وہ مِلا

…نہیں مُجھے

میں جہاں بھی گئی

اُس کی آہٹ سُنائی

دیتی رہی آس پاس

مگر وہ مِلا

…نہیں مُجھے

بِسری چَمک

image

اَب نہ غُنچہ کِھلے نہ پتّے ٹُوٹے

کبھی سنورتا تھا وہاں گُلستاں

اَب نہ چھاؤں رہی نہ دھُوپ اُگی

کبھی نکھرتا تھا وہاں آسماں

اَب نہ شبنم گِری نہ موم جمی

کبھی چمکتا تھا وہاں آشیاں

آب نہ دَور گُزرے نہ زمانہ رُکے

کبھی سجتا تھا وہاں کارواں

آب نہ دن سوۓ نہ شب جگے

کبھی بَستا تھا وہاں جہاں

خوابِیدہ پَل

image

تھک کے جب وہ سوتا ہوگا

اور نیند کے دروازے اُن جھروکوں

میں کُھلتے ہونگے تب ایک سراب

جلتی شمعٰ لیۓ خوابِیدہ آنکھوں

…کی طرف بڑھتا جاۓ گا

جلتی مشعٰل لیۓ اپنے پیراہن

میں لپیٹے جس حدّت سے اُن

دھڑکنوں کے در پہ دستک ہوگی

تب گرم لبوں پہ مدھم سی

…ہنسی بِکھرتی جاۓ گی

اُن آرام پَلوں میں ٹَٹولتی بےچین

سانسیں سرُور کے میٹھے پیالوں

کا رس پینے لگیں گی تب کہِیں

مچلتی چِنگاریاں رُوح کو ہلکا سا

…بِھگوتی نظر آئِیں گی

فِردوس اُس پیکرِ عشق کی آرزو

میں اپنے جوبن سےجب اُن کناروں

کو درخشاں کرے گی تب شجر کی

ڈالیاں اُسے پھُولوں سے نہلائیں گی پھر

اُس راہ سے اِس منزل کا سفر پل بھر

…میں پار ہوتا جاۓ گا

اُن بےخبر نینوں میں چُھپی حسرتوں

کے کِھلتے چمن اُس کے بدن کو گُدگُدانے

لگیں گے تب اِس چاؤ کی لگن

اُسے آہستہ آہستہ نیند سے بیدار

…کرتی جاۓ گی

اور وہ واپس حقیقت میں لَوٹ آۓ گا

مَظہرِاُلفت

image

تُمہیں یاد آتی ہے میری جیسےصحرا کو بارش کا اِنتظار ہو

کیا تُم جانتے نہیں برستی ہےبارش ہی دشت میں مِل جانےکو

جن نشیلی عادتوں میں لگ رہی ہُوں خود کو بھُولتے بُھولتے

کیاتُم جانتے نہیں یہ ساقی کی نظروں سے پلایا ہُوا جام ہے

اِس وحشتِ ہِجر کے وصل سے چُرانا چاہتی ہُوں اب تُمہیں

کیا تُم جانتے نہیں آرزُو میں کشِش جگاتی ہے دُوریاں ہی

جس درد و رنج میں تُم سِمٹو وہ کسک گھاؤ سے آشنا ہے

کیا تُم جانتے نہیں اِس روگ میں چارہ گَر بھی زخم کھاۓ ہے

جب بھی سوچیں تُمہیں مہکنے لگتے ہیں جسم کے گُلِستاں

کیا تُم جانتے نہیں چمن میں خطاوارکہلاتا ہےگُلشن فروز ہی

جنہیں پا کے آراستہ ہیں در و بام میرے آشیانےکے گرچہ

کیا تُم جانتےنہیں روز آنگن میں میرےدُلہن بن کےسجتی ہے رات