بےمِثال

image

کیاکوئی احساس اِس سےزیادہ حسین ہوگا؟

…جس کو مُحبّت میں کہتی ہُوں

کیا اُس نظر سے بڑھ کر کوئی چمک ہوگی؟

…جس کو آئینہ میں کہتی ہُوں

کیا کسی دھڑکن میں ایسا شور ہوگا؟

…جس کو تلاطُم میں کہتی ہوُں

کیا کوئی گِرفت اِتنی دلکش ہو سکتی ہے؟

…جس کو قید خانہ میں کہتی ہوُں

کیا کوئی سانس اِتنا رُوح مِہکا سکتی ہے؟

…جس کو صندل میں کہتی ہوُں

کیا کوئی کشِش اِتنی لاجواب ہو سکتی ہے؟

…جس کو مدہوشی میں کہتی ہوُں

کیا دل کے تار ایسے جُڑ سکتے ہیں؟

…جن کو قسمت میں کہتی ہوُں

کیا خواب اِس طرح سَچ ہو سکتے ہیں؟

…جن کو مُعجزہ میں کہتی ہوُں

کیا دُعائیں ایسے رنگ لا سکتی ہیں؟

…جن کو عقیِدت میں کہتی ہوُں

…تُمہارےنام

image

میرے مِحبوب آج تو لکھنے

کا اِرادہ نہ خیال پر ایک

بات بتانی ہے تُمہیں کہ

جو رات لِپٹی تھی چادر

میں وہ راہ ابھی دِکھانی

…ہے تُمہیں

ایک دل کی آہٹ اور کُچھ

بِکھری چاندنی جو پھیلی

ہے سفید آنچل کے سِرکنے

سے کہ ابھی بِندیا کی ٹِم ٹِم

اور پایل کی چھم چھم سُنانی

…ہے تُمہیں

میرے جانم ابھی مایوس شِکن

سے نہ دیکھ اُن گُلوں کو جن

کے ٹوُٹنے سے ہو جاتے ہیں

خواب ریزہ اور شیشے چُور

کہ اِن ٹُکڑوں کی کسک چُبھانی

…ہے تُمہیں

میری تحریر میں ہے تُو اور

صرف تیری داستانیں کہ

رقص کرتی ہیں اُنگلیاں کاغذ

کے بدن پہ جو پیار کرُوں تو

تھام لے کہ پانی پے چل کے آۓ

گی صُبح تو شام کے تکیے تلے

بیٹھے بے شُمارکہانیاں سُنانی

…ہیں تُمہیں

میری چاہت

image

پیمانۂِ نظر

کنارہ سمندر

آبِ گُل رنگ

نشیلے جام

برقِ آہنگ

لہراتی مستی

عکسِ آئینہ

بےداغ رُخ

پسندِ خاطر

چاہت سُہانی

جانِ عالم

ستارہ محفل

پردۂِ دل

رُوح پرور

رگِ جاں

قطرہ اِنتہا

 

راہِینِ اِنتظار

image

ایک اور دن گُزرا اِک

نئی صُبح میں بدل جانے

…کے اِنتظار میں

ایک اور راستہ نِکلا

نئی منزل پہ نکل جانے

…کے اِنتظار میں

کئی نئی کلیاں کِھلیِں

شبنم کو پی جانے

…کے اِنتظار میں

اور کئی شامیں ڈھلیِں

نۓ چاند میں سما جانے

…کے اِنتظار میں

ایک نئی آگ جلی

سانس میں گُھل جانے

…کے اِنتظار میں

اور ایک کروٹ جگی

خواب میں اُتر جانے

…کے اِنتظار میں

کئی نۓ موسم سجے

رنگوں میں مِل جانے

…کے اِنتظار میں

اور کہیِں شمعٰ تڑپی

پروانے میں ڈُوب جانے

…کے اِنتظار میں

فاصلے

image

یہ سیاہِیاں ہیں کہ فاصلوں میں سفرکرتی شَبِ ہِجر

صبر ہےاِنتہا ہے وقت کی گردش ہے اورکُچھ نہیں

اُڑانوں سے کہو کہ تھام لو روک لو رفتارِ آرزُو

نَمی ہےدرد ہےجنون کی سازش ہےاورکُچھ نہیں

زمانے گُزرتے ہیں بند پلکوں میں لیۓ احساسِ لمحہ

سیلاب ہےروانی ہےرُوح کی لرزش ہےاورکُچھ نہیں

بھنور لپیٹے پیروں میں لیۓ پِھرتی ہے دردِ آشنائی

فُرقت ہےانتظار ہےجبرکی آزمائش ہےاورکُچھ نہیں

..فَناہوتےگۓ

image

کانپ جاتی ہے ذات

اُس کسک کی حرارت

میں گُھل کے تب جسم

نہیں جانتا کہ رُوح

…کس کی ہے

لرَزتے ہاتھوں سے پِھسلتی

جان گواہ ہے اُس دُھوپ

کی جس میں جل کے سورج

نہیں جانتا کہ تاثیِر

…کس کی ہے

کانپتے احساس کی سرد حِدّت

میں سِمٹا وہ پل جس کو چَکھ

کے زائِقہ نہیں جانتا کہ مِٹھاس

…کس کی ہے

لَرزتے ہونٹوں کی پیاس چُھوتی

رہی کنارے اُس پیمانے کے جس

کےنشے میں غرق ہو کر دل

نہیں جانتا کہ دھڑکن

…کس کی ہے

…مُنتظِر ہُوں

image

کل پھر نۓ دن میں شمس چُومے گا قدم

کل پھر نۓ راستےکریں گےسجدےراہوں میں

کل پھر نۓ گُلوں میں رنگ بکھیرےگی خوشبو

…کیونکہ مُحبّت کا ساتھ دے گی آشنائی

کل پھر نئی قُربتیں کریں گی دل آزمائی

کل پھرنئی مُلاقاتیں ہوں گی شباب پراپنے

کل پھر نئی آوارگی میں جھَلکےگی بےخُودی

…کیونکہ مُحبّت کا ساتھ دے گی رہِ نُمائی

کل پھر نیا ساز چھیڑے گا موسیقی کے تار

کل پھر نیا مِےکدہ کھولے گا دَر خُمار کا

کل پھرنیاانداز کرےگا دیوانہ اپنی چاہت سے

…کیونکہ مُحبّت کا ساتھ دےگی شناسائی

تعارُف

image

اِن آنکھوں میں خود کو دیکھتے ہو جب بھی

اپنے آپ سے مِل کر خوش ہوتے تو ہو گے

اِس دل پہ دھک دھک کرتی ہیں دھڑکنیں

اپنا نام سُن کر خوش ہوتے تو ہو گے

اِس عکس میں انجان شبِیہ ڈھلتےدیکھو

اپنا چہرہ دیکھ کر خوش ہوتے تو ہو گے

اِن خیالوں کی دہلیز پہ آہٹ ہے جس کی

اپنا سایہ دیکھ کر خوش ہوتے تو ہو گے

اِس چِلمن میں جلاتا ہے چراغ جس کو

اپنا جوش دیکھ کر خوش ہوتے تو ہو گے

لِباسِ مجاز

image

لِباس نہیں تُمہیں اوڑھ

لیتے ہیں جانم کہ سِتارہ

آنچل کی رعنائی میں

پوشیدہ حُسن و شباب کے

بےخُود ساۓ کِسی اور

احساس کی رنگت پہچانتے

…..نہیں ہیں

سُرخ نیلم اورکبھی سونے

کی تاروں میں جڑے نَگ پھِسلتے

ہیں بدن کی سِلوٹوں کو چُومتے

تو اِس کی کشِش کسی اور

لمس کی گرمی پہچانتے

…..نہیں ہیں

اِس خیال میں اگر مخملی

دامن میں چُبھنے لگیں

کانٹے تو نرم شبنمی کلیاں

سرُور دینے لگتی ہیں اور

کھِلتے ہیں چمن جن کی

مِہک  کے سِوا یہ دھاگےکِسی

اور خوشبو کو پہچانتے

…..نہیں ہیں

چَند آزاد پَل

image

ہم ہیں تنہائی ہے اور لمحے

حدّت کے گھیراؤ ہیں اور لمحے

قُربت کے مراسم ہیں اورلمحے

….نہیں جانا اِن بانہوں سے دُور ہمیں

خوُشبو ہے لمس ہے اور لمحے

نشے کے مست جال ہیں اورلمحے

اداؤں کے بھنور ہیں اور لمحے

….نہیں جانا اِن فضاؤں سے دُور ہمیں

جوانی ہے اُڑان ہے اور لمحے

شِدّت کے قیدخانے ہیں اورلمحے

شراب کی جھیلیں ہیں اورلمحے

….نہیں جانا اِن سَراؤں سے دُور ہمیں

جنُون ہے سمندر ہے اور لمحے

لب کےبھڑکتےشُعلےہیں اورلمحے

شمعٰ کی بہکتی موم ہےاورلمحے

….نہیں جانا اِن پناہوں سے دُور ہمیں