ناقابلِ فِہم

image

رنگوں میں شامل نیا رنگ

کوئی سمجھ نہیں پاۓ گا

تصوّر میں بسی تصویرکو

کوئی دیکھ نہیں پاۓ گا

خواب تعبِیر کی چاہ میں

کوئی جانچ نہیں پاۓ گا

جُدا راہوں کی ایک منزل

کوئی ڈھُونڈ نہیں پاۓ گا

جلتی آگ میں سرد تاثیِر

کوئی سِہہ نہیں پاۓ گا

عرش پہ سَجتی قوسِ قزح

کوئی پَرکھ نہیں پاۓ گا

دل کی آہ میں شوخ برق

کوئی سُن نہیں پاۓ گا

عشق کے پاکیزہ درد کو

کوئی جان نہیں پاۓ گا

رُوح پہ جَمتےاَشکوں کو

کوئی چھُو نہیں پاۓ گا

زیرِلَب

image

اُڑتے دل کی دھڑکن نے

جب اِظہار کیا اُس تڑپ

کا جو جل رہی تھی

سانسوں میں کہ یہ آگ

میری ہے تب چُپکےسے اُس

نے کانوں میں یہ کہہ دیا

…کہ تُم میری ہو

ڈُوبتی نظروں میں پوشیدہ

رنگ جب سوال اُٹھانے لگے اُس

سویرے سے جس میں قُربت کی

گرم چھاؤں غرق ہوتی نظرآئی تب

خاموشی سے اُس نے جھانکتے

ہُوۓ آنکھوں میں یہ کہہ دیا

…کہ تُم میری ہو

زُلفوں کے تَپتے بادلوں میں کبھی

اُبھرتے کبھی چُھپتےچہرے

کی نرم شوخیاں اقرار کرتی

رہیِں اُن گُستاخ اداؤں کی جن

کے نقش رُوح میں پیوست پَلوں کے

غُلام بنےتب سرگوشی سےاُس نے

سمیٹتے ہُوۓسانسوں میں یہ کہہ دیا

…کہ تُم میری ہو

باعثِ مُسرّت

image

پھر سے روشنی چمکے گی

پھر سے پھُول مُسکائیں گے

پھر سے آنگن مہکے گا

پھر سے دِیۓ جگمگائیں گے

…اور میرا دل کِھل اُٹھے گا اُس کے آنے کی خوشبو سے

پھر سے نظر بہکے گی

پھر سے دل دھڑکیں گے

پھر سے قدم رُکیں گے

پھر سے کَلی کِھلے گی

….اور میرا جسم مِہک اُٹھے گا اُس کی سانسوں کی خوشبو سے

پھر سے شام سجے گی

پھر سے چاند سنورے گا

پھر سے حُسن نِکھرے گا

پھر سے آنچ بھڑکے گی

….اور میری رُوح تڑپ اُٹھے گی اُس کے وجود کی خوشبو سے

خواہشِ اِنتہا

image

میں تیری اَگن میں پگھلناچاہُوں

شرط یہ ہے کہ تُو شرارہ بنے

میں تیرے ہونٹوں سے پِینا چاہُوں

شرط یہ ہے کہ تُو مےخانہ بنے

میں تیری نظروں میں لُٹناچاہُوں

شرط یہ ہے کہ تُو قاتل بنے

میں تیرے ہاتھوں میں سجناچاہُوں

شرط یہ ہے کہ تُو سِنگھار بنے

میں تیری زُلف میں چُھپنا چاہُوں

شرط یہ ہے کہ تُو برسات بنے

میں تیری بانہوں میں بہکناچاہُوں

شرط یہ ہے کہ تُو مُحافظ بنے

میں تیرے وجُود میں اُترناچاہُوں

شرط یہ ہے کہ تُو سمندر بنے

میں تیرے قدموں میں بِچھناچاہُوں

شرط یہ ہے کہ تُو خُدا بنے

نَقش

image

وہ نہیں آسکا تو کیا ہُوا

خوُشبو میرے ساتھ آئی ہے

اُس کی یاد میں چلتے چلتے

نئی عادت رنگ لے آئی ہے

ستارہ آنکھ کے جلوے نے

پیاس میری اور بڑھائی ہے

پَلٹتےہی اوجھل ہوئی دھُوپ

وہ کِرن جس نے بُجھائی ہے

دےگیاجس پَل کاموقع مُجھے

سوغات میرے حِصّے آئی ہے

چُھپنے لگی ہوں اُس قدم میں

لہر اُس نِشاں میں نہائی ہے