..خُود سےوفا

image

جو وعدہ کِیا خُود سے وہ پُورا کر رہی ہُوں

اِس سفر میں کوشش تُم بھی کر کے دیکھ لو

خُود کو پایا ہے بڑی جدّو جہد کے بعد

اِس راہِ ہموار پہ میرےتُم بھی چل کےدیکھ لو

میں مُطمئن ہُوں اندر کی کیفیّت سے

اِس تسلّی میں اطمینان کرکےتُم بھی دیکھ لو

سمجھ نہ پاؤُں گی بعد مُدّت کے زندگی

اِس سمجھوتے پہ یقین تُم بھی کرکے دیکھ لو

دل غمگسار ہے کہ دستک واپس لَوٹا دی

اِس کِواڑ کو کھٹکھٹا کر تُم بھی دیکھ لو

فقط باتوں سے دل بِہلاتی رہی جُستجُو

اِس بزم کی چارہ گری تُم بھی کرکےدیکھ لو

نہ سمجھو میری سچّائی کو تُم مِحض کلام

اِس دہلیزِ خُدائی کو پار کرکےتُم بھی دیکھ لو

میں ناکام زیِست کی رسائی پہ کھڑی ہُوں

اِس اَکلمیّت کےخالی پن کو آزماکےتُم بھی دیکھ لو

عشق کی تَہیں نہ سمجھ سکیں اِخلاق اگر

اِس تمیز کے فرق کو چھُو کےتُم بھی دیکھ لو

تا قیامت تک آواز بنے گی یہ بندگی میری

اِس عقیدت پہ مِٹ کر تُم بھی دیکھ لو

محبت حاصل ہے ماہِ تمام کی میری

اِس حقیقت کو تسلیم کرکےتُم بھی دیکھ لو

قطع راہ

image

جُدا ہے آغازِ قِصّہ اگر

انجامِ داستان کو بانٹ لیتے ہیں

کرن پڑتی ہے اندازِ رعنائی سے

آفتابِ آسمان کو بانٹ لیتے ہیں

بدن  ہِجرِ آشنائی میں جلے

روُحِ حیات کو بانٹ لیتے ہیں

کاروانِ بھید کی سواری میں

قافلۂِ رازداں کو بانٹ لیتے ہیں

وابَستہ

image

چاند اُس سے چمک اُدھار

لے جب تو میرے آنگن کی

چھَت جگمگا اُٹھتی ہے اور

ہم ایک نۓ بندھن میں

…جُڑ جاتے ہیں

بارش کی چھم چھم میں جب

سُر بجیں اُس کے نام کے تو میرے

صحن پہ برستا پیار اُس کا پیغام

دیتا ہے تب ہم ایک سُہانے وصل میں

…جُڑ جاتے ہیں

بہار کی شوخی اُس کے رنگ میں

ڈھلنے لگے جب تو میرے باغ کے

کھِلتے گُلابوں سے مِہک اُس کے بدن

کی آتی ہے اور ہم ایک اٹُوٹ رشتے میں

…جُڑ جاتے ہیں

 

حوصلہ

image

اُٹھ کے گِرتی ہُوں جب بھی

ایسی فتح کو مات دیتی ہُوں

رُکاوٹ بنتی ہے جب رِہ گُزر

ایسی سِیاحت کو مات دیتی ہُوں

خُود سے جنگ کرنے لگُوں جب

ایسی دُشمنی کو مات دیتی ہُوں

احساس جب روندتا ہے دل کو

ایسی دھڑکن کو مات دیتی ہُوں

رات جب روکے سِتاروں کا قافلہ

ایسی سیاہی کو مات دیتی ہُوں

صنم سے دُور کرے جو قُربت

ایسی فُرقت کو مات دیتی ہُوں

دامن میں جو اُبھریں کانٹے

ایسی سازش کو مات دیتی ہُوں

شمعٰ جس حِصار میں قید ہو

ایسی قندیل کو مات دیتی ہُوں

..نۓ اُجالے

image

طُلوع ہوگا نۓ انداز میں سُنہرا سُورج

مہتاب شرماۓ گااپنا عکس  دیکھ کر

مُحبّت مہکاۓ گی نئی کلیوں کا چمن

دل مُسرّت کا تاج پِہنے گا پھِر سے

…تب ایک نئی غزل لِکھّے گی میری آرزو اب کے برس

شِدّت کرے گی سجدے چاہت کی نماز میں

بندگی کے عرش پہ سلطنت کرے گا دل

کرے گی غُلامی نظر عشق کی قید میں

غم کو خیر آباد کہیں گی خُوشیاں

…تب ایک نئی کہانی لِکھّے گی میری اُمید اب کے برس

ذیبِ تن کرے گی وفا قیمتی زیور

اعتبار کے پتّوں میں رنگ بھرے گی خزاں

پیاس بُجھاۓ گی کنارے پہ بیٹھی جل پری

تحریرِ شمعٰ میں قلم بنے گا موم کاحاصل

…تب ایک نئی حیات لِکھّے گی میری چنگاری اب کے برس