..جذب ہُوئی

image

میں تیرا سایہ بنُوں تو

..دھُوپ میں ہی رہنا تُو صدا

میں تُجھ میں سما جاؤُں

..گی آفتاب بن کر

گُلوں سے جھڑتے لمحے

..جو چُومیں گے بدن تیرا

اُس خوشبو کی رنگت میں کھو

..جاؤُں گی خواب بن کر

جو بُوندیں نہلائیں تیرے وجود

..کی صَندلی گلیاں

میں اُن زرّوں میں ڈوب جاؤں

..گی شراب بن کر

گرم شِدّت میں جو ٹُوٹنے لگے

..تیری سرد آہیں

اِس شمعٰ کو اوڑھاؤں گی تُجھ

..پہ برفاب بن کر

اِیمان

image

گِرتے ہی سجدے میں خیال

آیا کہ کاش اُنہی قدموں

کے نِشاں پہ دَم توڑ دے عقیدت

میری پر دل یہ سوچ کے ٹھہر

گیا کہ عشق کی آزمائش اور

…ابھی ہے باقی

جس بندگی کی چاہ کرے دل

کہ وہی مہتاب لگے وہی حِدّت

بھی مگر یہ جان لے پھر کہ

خُدا کے جلوں میں ایک اور جھلک

…ابھی ہے باقی

جس نماز میں فریاد کرے آرزُو اور

کلمے میں محبُوب بسے اُسی دُعا کی

فرمائش کو اِنتہا کی سِیڑی چڑھنی

…ابھی ہے باقی

یقین کی درگاہ پہ ڈالیاں خُوب

مہکتی ہیں پھُولوں کی اور ایمان

کے جلتے چراغ نہاتے ہیں عرق کی

خُوشبو میں لیکن تعویِز کو پِرو کے

مالا میں گُلستان سجانا

…ابھی ہے باقی