..جب کبھی

image

تُمہیں یاد ہیں وہ دھڑکتے پَل جانم

مِلتے تھے دو دل آزاد بن کے جب کبھی

تُمہیں یاد تو ہوگی وہ شوخ غزل

لبوں نے لِکھّی تھی جو سرہانے تلے کبھی

تُمہیں یاد دِلاتے ہوں گے وہ سُرخ دن

جب ٹُوٹی تھی انگڑائیاں تپتی چھاؤں میں

تُمہیں یاد تو ستاتی ہوگی اُس پایل کی

چُراتی تھی تُم سے تُمہاری ہی بے خُودی

تُمہیں یاد ہے اُس ذُلف کے رنگ چُراتےہی

بِہکنے لگتے تھے ارماں اُنگلیوں کے

تُمہیں یاد تو آتے ہوں گے چمکتےآئینے

جھانک کے جن میں اپنا نام بھُول جاتے تھے

تُمہیں یاد تو دِلاتی ہو گی وہ گُلابی مہک

پیِتے ہی جس کی پنکھڑیاں جھُوم اُٹھتی تھِیں

Leave a comment