انجامِ تماشائی

image

یہ دھاگے نہیں ریشم کی ڈوریاں ہیں

جو کھینچےگاخُود ہی گھائل ہو جاۓ گا

دلدل میں گِرا کے اِنتظار میں ہے حریف

جو دھکیلے گا اِس میں دفن ہو جاۓ گا

آسان نہیں ہے اِن راہوں پر چلنا صنم

جو گُزرے گا اُلٹے پیر واپس لوَٹ جاۓ گا

بے ضمیر رُوح ایک زندہ لٰعش ہی تو ہے

جو اوڑھے گا جیتے جی ختم ہو جاۓ گا

Leave a comment