طلب گار ہم

IMG_1663

ہم تو عشق کے ہیں دیوانےاور کچھ نہیں چاہیۓ

چند لفظ اور افسانے ورنہ کچھ نہیں چاہیۓ

نہ کوئی گِلہ نہ شکوہ بس ٹھِہرتی نظر چاہیۓ

جس راہ میں تیری خوُشبو ہو وہ سفر چاہیۓ

نِیّت پہ گُماں کیسا ہمیں  تو بس عَمل چاہیۓ

ایک یاد میں تصوّر اور دل میں تصویر چاہیۓ

نہ کوئی بیاباں نہ ہی کھِلتا گُلِستان چاہیۓ

ایک تنہا کیاری میں مُسکراتا خیال چاہیۓ

دیتے ہیں دِلاسا خُود کو مگر سچّا چاہیۓ

دیکھتےآئینے میں چہرہ مُجھےاُس کا چاہیۓ

بھرتے پیمانے سے چھلکتے ارمان چاہیۓ

خالی جام سے جھانکتےپیاسے شباب چاہیۓ

Leave a comment