شوق آزمائی

IMG_1731

اجنبی تھا تھوڑا وہ انجانا بھی تھا

کبھی تھا اپنا تو کبھی بیگانہ بھی تھا

کر نہ پایا جو بے وفائی نامِ وفا پہ

دِلدار نے ایک قرض میرا چُکانا بھی تھا

مِثالِ عشق بنا لا زوالی کے شوق میں

صُوفی بن کے اِس بھِیڑ میں اُسے آنا ہی تھا

جسے پایا اپنے رُوبرو نہ ہو سکا جاویدہ کبھی

طوافِ آرزو کی لَو میں اُسےجَل جانا ہی تھا

Leave a comment