ترازُو

AB7AA546-7D7E-4D2E-A3B7-A57DDE49FC5E

کاش وہ سمجھ پاتا کہ

عشق اور کاروبار ہیں دو

الگ دُنیاؤں کے جزیرے

افسوس کہ اُس نے پرکھا

میری مُحبّت کو اُمیدوں کے

ترازُو میں۔۔۔

کاش اُسے دِکھائی نہ دیتا

میرے وجود کے آر پار کبھی

افسوس کہ میرے خلُوص کو

اُس نے جانچا وفا کے

ترازُو میں۔۔۔

کاش وہ چھُو پاتا نرم

کِرنوں کو، میری آہوں کی

مُلائم آرزوؤں کو،  مگر افسوس

کہ میرے آنسوؤں کو تولا اُس

نے خود غرضی کے

ترازُو میں۔۔۔

کاش کہ پرواہ نہ کرتی اُس

ستم کا جس کے ساۓ تلے

کُچلا اُس نے میری خواہشات

کو، افسوس کہ میرے پاگل پن

کو سراہا اُس نے شوق کے

ترازُو میں۔۔۔

Leave a comment