خُود پسندی

LP cover - Bollywood - Chandni (1989)

یہ وہی میں ہُوں

..جس کے خواب دیکھتے ہیں سُرخ  گُلاب

یہ وہی میں ہُوں

..جس کی چاندنی میں داغ ڈھونڈتے ہیں سب

یہ وہی میں ہُوں

..جس کو گِرا کے خوش نظر آتے ہیں دل

یہ وہی میں ہُوں

..جس کی آڑان کو دیکھ سکتا نہیں کوئی

یہ وہی میں ہُوں

..جس کی کامیابی کرتی ہے اِعلان سرِعام

یہ وہی میں ہُوں

..جس کے دُکھ میں راحت جلوہ گر ہے

یہ وہی میں ہُوں

..جس کے ٹُوٹتے دل کی آواز سُنتا نہیں کوئی

یہ وہی میں ہُوں

..جس کو دیکھ کےجلتے ہیں اپنے بھی بیگانے بھی

یہ وہی میں ہُوں

..جس کی آنکھیں دیتی ہیں ثبوت مُحبّت کا

یہ وہی میں ہُوں

..جس کے وجود سے گھبراتی ہے اندھیر نگری

یہ وہی میں ہُوں

..جس کی سانسیں کرتی ہیں بغاوت کا مدعوٰی

اور یہ وہی میں ہُوں

..جس کے عشق میں سجدے کرتی ہے سلطنت

بِلا شُبہٰہ

image

سچ ہےاُس کی تڑپ میں

سکُون مِیٹھی نیند سوتا ہے

سچ ہے اُس کے راستوں میں

کانٹوں کی سرحدیں ہیں

سچ ہے خواب کے پردےاُسے

ریشمی آنچل پہناتے ہیں

سچ ہےاُس کی مایوسی میں

اُمید چراغ جلاتی ہے

سچ ہے اَشک کی صداؤں میں

دُعائیں رنگ لے آتی ہیں

سچ ہے شعلوں کے رُخسار پہ

جنّت کا شاہی تاج ہے

سچ ہے جل کے ایندھن میں

پتھر ہی کُندن بَنتا ہے

تب سےاَب

image

تب چاند میرے آنگن میں روز اُترتا تھا

…اَب ہتھیلی پہ قدم جماۓ ہے

تب چاند نے کیۓ تھے چمن گُل و گُلزار

…اَب زرّہ زرّہ رُوح مِہکاۓ ہے

تب چاند کے نُور سے چمکا تھا صحن اپنا

…اَب جسم پہ ٹھنڈک برساۓ ہے

تب چاند کے وِرد میں تارے گھومتے تھے

…اَب نظروں سے رات جگمگاۓ ہے

تب چاند کے رنگ میں سِمٹی تھی شوخی

…اَب عشق میں کائنات جھِلملاۓ ہے

تب چاند کے خُمار میں شمعٰ جلی تھی

…اَب قطرہ قطرہ موم پِگھلاۓ ہے

چار چاند

image

…دیکھو!  وہ کس کے آنے سے

چاند زرا سا بِہک گیا

مُرجھایا دل کُچھ مِہک گیا

…دیکھو ! وہ کسی کی خُوشبو سے

مُعطّر ہُوا میرا آشیانہ

امِیر بنا یہ غریب خانہ

…دیکھو! وہ کس کی آہٹ سے

ستاروں نے رُخ بدل لیا

گُلوں نے سحر میں جکڑ لیا

…دیکھو! وہ کس کی رنگت سے

نوُر پھیلا ہے میرے آنگن میں

جادُو جاگا ہے اِس چمن میں

… دیکھو! وہ کس کی نظروں سے

مُنوّر ہُوۓ ہیں میرے پیمانے

سجےہیں ہونٹوں کےمے خانے

…دیکھو! وہ کس کی شان سے

بڑھا ہے فخر وقار کا

نِکھرا ہے بدن حِصار کا

…دیکھو! وہ کس کے وجود سے

پِہنا ہے مسرّت کا تاج میں نے

لمحوں کو بنایا ہے خاص میں نے

…دیکھو ! وہ کس کی تحریر سے

مِلا ہے مُحبّت کا پیغام ایسے

سُنا ہے عقیدت کا راگ ایسے

…دیکھو ! وہ کس کے سُلگانے سے

شِدّت میں جلی ہے شمعٰ آج

حِدّت میں گھُلی ہے شمعٰ آج

شریکِ جاں

image

…اِنتہا ہُوں میں

اِبتدا ہو تُم میرے کارواں کی

…راکھ ہُوں میں

زندگی ہو تُم میرے بیاباں کی

…گُلاب ہُوں میں

خُوشبو ہو تُم میرے گُلِستاں کی

…خیال ہُوں میں

حقیقت ہو تُم میرے خیاباں کی

…راز ہُوں میں

چادر ہو تُم میرے آسماں کی

…شمعٰ ہُوں میں

موم ہو تُم میرے آشیاں کی

دُشواریاں

Migration

گُستاخی کرے نظر جو

سزا مِلتی ہے رُوح کو

ہاتھ جو پہنیں ہتھکڑی

سزا مِلتی ہے آزادی کو

غلطی پر ہو جب جہاں

سزا مِلتی ہے ذات کو

نِیّت کرے گُناہ اگر

سزا مِلتی ہے بدن کو

عشق کےسفرمیں ہوں جب

سزا مِلتی ہے عقیدت کو

..جذب ہُوئی

image

میں تیرا سایہ بنُوں تو

..دھُوپ میں ہی رہنا تُو صدا

میں تُجھ میں سما جاؤُں

..گی آفتاب بن کر

گُلوں سے جھڑتے لمحے

..جو چُومیں گے بدن تیرا

اُس خوشبو کی رنگت میں کھو

..جاؤُں گی خواب بن کر

جو بُوندیں نہلائیں تیرے وجود

..کی صَندلی گلیاں

میں اُن زرّوں میں ڈوب جاؤں

..گی شراب بن کر

گرم شِدّت میں جو ٹُوٹنے لگے

..تیری سرد آہیں

اِس شمعٰ کو اوڑھاؤں گی تُجھ

..پہ برفاب بن کر

اِیمان

image

گِرتے ہی سجدے میں خیال

آیا کہ کاش اُنہی قدموں

کے نِشاں پہ دَم توڑ دے عقیدت

میری پر دل یہ سوچ کے ٹھہر

گیا کہ عشق کی آزمائش اور

…ابھی ہے باقی

جس بندگی کی چاہ کرے دل

کہ وہی مہتاب لگے وہی حِدّت

بھی مگر یہ جان لے پھر کہ

خُدا کے جلوں میں ایک اور جھلک

…ابھی ہے باقی

جس نماز میں فریاد کرے آرزُو اور

کلمے میں محبُوب بسے اُسی دُعا کی

فرمائش کو اِنتہا کی سِیڑی چڑھنی

…ابھی ہے باقی

یقین کی درگاہ پہ ڈالیاں خُوب

مہکتی ہیں پھُولوں کی اور ایمان

کے جلتے چراغ نہاتے ہیں عرق کی

خُوشبو میں لیکن تعویِز کو پِرو کے

مالا میں گُلستان سجانا

…ابھی ہے باقی

وصلتِ یار

image

مُدّتوں بعد آج اُسی

پِہلُو میں گُزرا ہے وہ

شاندار پَل جس کے

انتظار نے سانسوں

کو روکے رکھا تھا

…جیِنے کے لیۓ

مُدّتوں بعد آج اُسی

خوشبو کے وصل میں

کھِلی یہ پنکھڑی جس

کی تمنّا میں مُرجھا رہا

…تھا سارا چمن میرا

مُدّتوں بعد آج وہ

ستارے پُہنچے ہیں

کٹھِن سفر کو پار کر کے

جن کی پیاس میں یہ

مسکراہٹ ماندھ پڑی

…جا رہی تھی

مُدّتوں بعد آج اُن

نظروں میں جھانکا ہے

جن کے چمکنے کی

حسرت میں میرا آئینہ

…بِکھرتا جا رہا تھا

مُدّتوں بعد آج چُوما

ہے لبوں کی اُس رنگت

کو جن کی طلب میں

پھِیکے پڑ رہے تھے میرے

…ہونٹوں کے گُلاب

مُدّتوں بعد آج اُنہی

صندلی ہاتھوں کو تھاما

ہے جن کے لمس کی

چاہ میں یہ ہاتھ برف

…ہُوۓ جا رہے تھے

اہمیّت

image

…بس اِتنا جاننا ضروری ہے

کیا آج بھی اُن خوابوں کی تعبیِر

میرے وجود کے تکیے سے آشنا ہوگی؟

کیا آج بھی وہ قاتل مُسکراہٹ

خیال میں میرے جھُومتی ہوگی؟

کیا آج بھی بھیگی فضائیں

اُس کی پلکوں پہ موتی بکھیرتی ہوں گی؟

کیا آج بھی اُس غزل کو سُن کر

اُس کی نشیلی کسک ٹُوٹتی ہوگی؟

کیا آج بھی وہ مہکتے گُلاب

اُسےمیری خوشبو کی یاد دِلاتے ہوں گے؟

کیا آج بھی میری پایل کی چھَنک

اُس کی حسرت میں برق لہراتی ہوگی؟

کیا آج بھی اُس کے لمحوں میں

شِدّت بے اختیاری کی چادراوڑھتی ہوگی؟

کیا آج بھی سِتاروں کے جھُرمٹ میں

وہ چمکیلی محفلیں تلاش کرتا ہوگا؟

کیا آج بھی سرد راہوں سے گُزرتے

وہ شمعٰ کی آگ میں جلتا ہوگا؟

…بس اِتنا جاننا ضروری ہے

…بس اِتنا جاننا ضروری ہے