وابَستہ

image

چاند اُس سے چمک اُدھار

لے جب تو میرے آنگن کی

چھَت جگمگا اُٹھتی ہے اور

ہم ایک نۓ بندھن میں

…جُڑ جاتے ہیں

بارش کی چھم چھم میں جب

سُر بجیں اُس کے نام کے تو میرے

صحن پہ برستا پیار اُس کا پیغام

دیتا ہے تب ہم ایک سُہانے وصل میں

…جُڑ جاتے ہیں

بہار کی شوخی اُس کے رنگ میں

ڈھلنے لگے جب تو میرے باغ کے

کھِلتے گُلابوں سے مِہک اُس کے بدن

کی آتی ہے اور ہم ایک اٹُوٹ رشتے میں

…جُڑ جاتے ہیں

 

حوصلہ

image

اُٹھ کے گِرتی ہُوں جب بھی

ایسی فتح کو مات دیتی ہُوں

رُکاوٹ بنتی ہے جب رِہ گُزر

ایسی سِیاحت کو مات دیتی ہُوں

خُود سے جنگ کرنے لگُوں جب

ایسی دُشمنی کو مات دیتی ہُوں

احساس جب روندتا ہے دل کو

ایسی دھڑکن کو مات دیتی ہُوں

رات جب روکے سِتاروں کا قافلہ

ایسی سیاہی کو مات دیتی ہُوں

صنم سے دُور کرے جو قُربت

ایسی فُرقت کو مات دیتی ہُوں

دامن میں جو اُبھریں کانٹے

ایسی سازش کو مات دیتی ہُوں

شمعٰ جس حِصار میں قید ہو

ایسی قندیل کو مات دیتی ہُوں

..نۓ اُجالے

image

طُلوع ہوگا نۓ انداز میں سُنہرا سُورج

مہتاب شرماۓ گااپنا عکس  دیکھ کر

مُحبّت مہکاۓ گی نئی کلیوں کا چمن

دل مُسرّت کا تاج پِہنے گا پھِر سے

…تب ایک نئی غزل لِکھّے گی میری آرزو اب کے برس

شِدّت کرے گی سجدے چاہت کی نماز میں

بندگی کے عرش پہ سلطنت کرے گا دل

کرے گی غُلامی نظر عشق کی قید میں

غم کو خیر آباد کہیں گی خُوشیاں

…تب ایک نئی کہانی لِکھّے گی میری اُمید اب کے برس

ذیبِ تن کرے گی وفا قیمتی زیور

اعتبار کے پتّوں میں رنگ بھرے گی خزاں

پیاس بُجھاۓ گی کنارے پہ بیٹھی جل پری

تحریرِ شمعٰ میں قلم بنے گا موم کاحاصل

…تب ایک نئی حیات لِکھّے گی میری چنگاری اب کے برس

 

تاثّرات

image

بِکھرتی جاۓ ہے شمعٰ کی پاگل آنچ

سنبھلےکیسےعشق کی بےچینی کےبعد

کئی شب جلی ہے شمعٰ جس یاد میں

تھمے کیسے درد کی بیزاری کے بعد

تڑپ کی اِنتہا میں تر ہے شمعٰ بےحد

رُکےکیسے رنج کی آہ و زاری کے بعد

شمعٰ کو تکرار ہے بُجھتے دِیۓ سے

سُلگے کیسے موم کی بے وفائی کے بعد

تصدیِق

image

مُجھے چاہنے سے روکے گر تُمہیں کوئی

تو اپنے دل کی شِدّت سے پُوچھ لینا پِہلے

کوئی زہر اگر پیش کرے شربت سمجھ کر

تو احساس کے گھُونٹ سے پُوچھ لینا پِہلے

نہ کر سکو یقیں اُلفت کے پیچ و تاب پر

تو اپنے وجود کی سچّائی سے پُوچھ لینا پہِلے

میرے کَمسِن دل کی شریِر رُوح نہ بھاۓ اگر

تو آئینے میں جھلکتی نظر سے پُوچھ لینا پِہلے

نہ پرکھ سکو تب بھی شیِشے کااُجلا پن

تو اپنی آنکھ میں جلتی شمعٰ سے پُوچھ لینا پِہلے

ایمان کے مزار پہ گر پُھول مِلےمُرجھاۓ ہُوۓ

تو بارگاہ میں مدہوش قلندر سے پُوچھ لینا پِہلے

پشیمان جو کرنے لگے ضمیِر کا بدن تُمہیں

تو اپنے عشق کی عقیدت سے پُوچھ لینا پِہلے

..وہ تُم ہی تھے

image

سمندر کی لہروں میں نہاتے

اُس بدن کی تاب میں خُود کو

چمکتے دیکھا میں نے تو جھٹ سے

…دل سے نِکلی ہاۓ

بادلوں کے نِیلے رنگ سے جھانکتی

سُنہری کرن کی جلتی دھُوپ میں

خُود کو دُھلتے دیکھا میں نے تو ایک دَم

…دل سے نِکلی ہاۓ

ریت کے چمکتے زرّوں سے چھَنتی

چاندی میں جذب ہوتے شبنمی وجود کو

خُود میں اُترتے دیکھامیں نےتواچانک

… دل سے نِکلی ہاۓ

ہَم آہنگ

image

تُمہاری آنکھیں اورمیری خُوشی

ایک دُوسرے پہ جان دیتے ہیں

میرا دل اور تُمہاری کہانی

ایک دُوسرے سےجُڑ جاتے ہیں

تُمہاری بانہیں اورمیری تسکین

ایک دُوسرے کو تھام لیتے ہیں

میری تڑپ اور تُمہارے ہونٹ

ایک دُوسرےمیں گھُل جاتے ہیں

تُمہارا وقار اور میری شوخی

ایک دُوسرے میں سما جاتے ہیں

میرا اِظہاراورتُمہاری خاموشی

ایک دُوسرے کو سُن لیتے ہیں

تُمہارے اِلفاظ اورمیرےجذبات

ایک دُوسرے میں ڈَھل جاتے ہیں

میرے شُعلےاورتُمہاری لہریں

ایک دُوسرے کو پِی لیتے ہیں

چُبَھن

image

جلُوں آدھی شَب کی مُکمّل چاندنی میں

اور دن جلاتا رہے اُس کی یاد لے کر

کھِلوُں شبنمی اوس کی نرم حِدّت میں

اور اَشک بھِگاتا رہے اُس کی یاد لے کر

اُڑوُں بن کے شوخ تتلی خیاباں کی

اور منظرچِڑھاتا رہےاُس کی یاد لے کر

دُھلُوں تیز آنچ کی نشیلی قُربت میں

اور فِراق نِہلاتا رہے اُس کی یاد لے کر

بِچھُوں بن کے تاروں کا مست آنچل

اور آسمان ترساتا رہےاُس کی یاد لےکر

میرا جہاں

image

جس جہاں سےآگےکوئی جہاں نہیں

اُس دائمی دُنیا میں رہتی ہُوں میں

جس شور میں چاپ ہے شِدّت کی

اُس دھڑکنِ دل میں رہتی ہُوں میں

جس شمس سےگرمی اُدھار لےفرش

اُس ہستئِ عرش میں رہتی ہُوں میں

جس کی شان میں موسم کہےشِعر

اُس سُخن وَر میں رہتی ہُوں میں

جس زِکر سے کھِل اُٹھے گُل و موتیا

اُس باغ و بہار میں رہتی ہُوں میں

جس دھوپ میں چھاؤں راحت بنے

اُس سایۂِ شجر میں رہتی ہُوں میں

جس نماز میں جائز ہو سجدہ اُسے

اُس عبادت گاہ میں رہتی ہُوں میں

تَضاد

image

زیبِ ہستی ہے نایاب مُحبّت کا موتی

..پتھّر بنتا ہےہَوس کی لَو میں بِہتے ہی

پوشیدہ ہے خزانہ حُسنِ دل میں

..خس وخاشاک بنتا ہےغرُور کی چاہ میں مِٹتے ہی

نِکھرتا ہے رُوحِ جہاں میں شفاف بادل

..غُبار بنتا ہے نفس کی آڑ میں چُھپتے ہی

عشق تختِ عرش کا قیمتی تاج ہے

..جابر بنتا ہے سنگ دِلی کی آگ میں جلتے ہی

محفلِ نظر کا ہِیرا ہے چمکتا ستارہ

..شُعلہ بنتا ہے سیاہی کی راکھ میں پَلتے ہی

ظَرف سجدہ گر ہے شجرِ گُل کو

..مُردار بنتا ہے فتُور کی مِٹّی میں دَبتے ہی