تَلافی

image

اُن دنوں جب بُجھ گۓ تھے

میری شوخ نظروں کے دِیۓ

اور وِیران تھی میری پلکوں

کی چِلمنیں تب بے حد یاد

…آتی تھیِں وہ آنکھیں

…اب یہ عالم  ہے کہ وہ آنکھیں پیار برسانا نہیں بھُولتی

وہ بِسرے رُوکھے پَل جھڑتے

رہے مُرجھاۓ پتّوں کی مانند

اور میرا دل بھی ایک بے جان

شے کی طرح خاک کی دُھول

چاٹتا رہا تب بے اِنتہا یاد

…آیا تھا وہ دل

…اب یہ عالم ہے کہ وہ دھڑکن ُمجھ پہ جان لُٹانا نہیں بھُولتی

اُس وقت کی جلتی دھُوپ  نے

ساکت کر دیا تھا پُورے بدن کی

رنگت کو اور زرد ہوتی گئی سبھی

کلیاں اور آنسُو کی قطاریں جمنے

لگی تھِیں رُخسار کی دیواروں پر

…تب بے تحاشا یاد آیا تھا وہ وجود

…اب یہ عالم ہے کہ وہ رُوح اِس ہستی میں مِل جانا نہیں بھُولتی

 

 

بَندگی

image

جس آنکھ میں چمکے موتی

وہ ستارہ میرے نام کا ہے

جس دھڑکن میں آہٹ گُونجے

وہ دل میرے نام کا ہے

جو لَب زکر کریں میرا

وہ وِرد میرے نام کا ہے

جو نیند وابستہ ہو مُجھ سے

وہ خواب میرے نام کا ہے

جہاں چاند اُسے روشن کرے

وہ آنگن میرے نام کا ہے

جہاں عشق میں کریں سجدے

وہ کعبہ میرے نام کا ہے

جس فریاد میں تڑپے دل

وہ بشر میرے نام کا ہے

جس کی ضِد میں جلے شمعٰ

وہ پروانہ میرے نام کا ہے

قُدرت

image

مُحبّت کے پرندے ہیں

بس اُڑنا جانتے ہیں

خوابوں کے جزیرے ہیں

بس ٹِھہرنا جانتے ہیں

سمندر کے سفِینے ہیں

بس تیرنا جانتے ہیں

کُندن کے نگِینے ہیں

بس دِہکنا جانتے ہیں

مخمل کے دریچے ہیں

بس ڈھَلکنا جانتے ہیں

بندگی کے سویرے ہیں

بس جُھکنا جانتے ہیں

کوشِش

image

میں وہ گہرا سمندر ہُوں

ڈوبنا آسان لگے تو ڈوب جاؤ

میں وہ بے رنگ گُلشن ہُوں

کانٹے سمیٹناچاہو تو ٹُوٹ جاؤ

میں  وہ پھَٹتا آتش فِشاں ہوَں

وجود جلانا چاہو تو کُود جاؤ

میں وہ ڈھلتی شمعٰ ہُوں

چُھپنا چاہو تو رُوٹھ جاؤ

مرہَم

image

صنم ! درد دُوں میں اگر

تو دوا بھی میں ہی کروں گی

جانم!  آنسوُ دُوں میں اگر

تو آنچل بھی میں ہی بنُوں گی

سجن ! دل چیِر دُوں میں اگر

تو ٹانکا بھی میں ہی سِیوُں گی

دلدار! تڑپ دُوں میں اگر

تو راحت بھی میں ہی دُوں گی

پِیا!  توڑ دُوں آس کی اُمید اگر

تو حوصلہ بھی میں ہی جوڑُوں گی

اِنحصار

image

برسے بارش تو گُل تَر ہونے لگتے

ہیں اُس مُحبّت میں جو بوُندیں

چومتی ہیں بدن پھُولوں کا اور

اِسی طرح میرے وجود کے چمن

کو بارش تب سیراب کرتی ہے جب

…اُس کی بانہیں مُجھے تھام لیتی ہیں

جیسے چاند کی بزم میں شِرکت

اُس تارے کی لازمی ہے جس کی تاب

میں وہ اپنی روشنی کی بھی پرواہ

نہیں کرتا تب اِسی طرح میری ہر محفل

… اُس کی رونق کےبغیرادھوری لگتی ہے

رات سیاہ آنچل اوڑھے پلکیں جھپکاۓ

جب اپنی نشیلی چال میں آہستہ آہستہ

ڈھل رہی ہوتی ہے تاکہ جذب ہو سکے

صُبح کے عشق کی چادر میں اِسی طرح

میری آنکھیں راہ تَکتی ہیں اُس نظر کی

جس کو پاتے ہی اُجالے پھیلنے لگتے ہیں

…میری اندھیر نگری کے

آئینے کو اُلفت ہے چہرے سے جس کے

عکس میں عیاں ہوتا ہے بے مثال حُسن

اور ٹُوٹ جاۓ تو ریزہ ریزہ نظر آتی ہے

صُورت بِالکُل اِسی طرح اُس کی نگاہوں

میں خود کو دیکھتی ہوں گر وہ ٹُوٹ جاۓ

…تو میں بھی بِکھر جاؤں گی

رنجیدہ پَل جو گُزرتے ہیں وقت کی گردش

میں قید اور خوشی اپنے انداز سے بِہلاتی

ہے نۓ جوہر دِکھا کر اور اِسی طرح میرے

اُداس لمحوں کا اِنحصار ہوتا ہے اُن حسین

پَلوں پر جب اُس کے وصل میں میری قُربت

…شامل ہوتی ہے

 

بےدِل شام

image

ڈھُونڈتی رہی اُس آہٹ کو میری نظر

مگر دل میں رہی صرف آرزُو بن کر

خیال تھا شاید رات جگمگا اُٹھے پھر

مگر ذہن میں رہی صرف سوچ بن کر

دیکھی سبھی چمک سِواۓ دلدار کے

مگر نگاہ میں رہی صرف آس بن کر

محسوس کی وہ خوشبو اپنےآس پاس

مگر جسم میں رہی صرف مِہک بن کر

سُنی دستک دل کے ٹُوٹنے کی میں نے

مگر آنکھ میں رہی صرف یاد بن کر

فریاد کی کاش جی اُٹھے میری شام

مگر رُوح میں رہی صرف دُعا بن کر

..مُنفرد ہُوں

image

الگ ہُوں سمجھ کر دیکھو تو سہی

اِس جہاں سے آگے چل سکو گے لیکن؟

سایہ مُجھ سے ناراض ہو بھی جاۓ اگر

اِس کڑی دھُوپ سے بچ سکو گے لیکن؟

عشق قیامت کی صُورت میں حاوی ہے

اِس اِنتہا کو پار کر سکو گے لیکن؟

مُجھے اِلزام دیتی ہےغفلت میں چُوردُنیا

اِس جاہلیّت سے جان چھُڑا سکو گےلیکن؟

مُحبّت کے طُوفان میں جل رہی ہُوں دیکھو

اِس تلاطُم کو برداشت کر سکو گے لیکن؟

بے پرواہی کی عادت نے ڈبویا ہےمُجھے

اِس تباہی سے خود کو نکال سکو گےلیکن؟

دوغلی دُنیا کے پھیکے رسم و رواج ہیں

اِس مُنافقت سے دل لگا سکو گے لیکن؟

میرے جنون کےدامن پُر سرُورہیں

اِس راحت میں گھر بنا سکو گے لیکن؟

بے بسی کی آگ میں جلے ہے ہستی میری

اِس چنگاری کی ہوَس بُجھا سکو گے لیکن؟

شِہزادہ

image

مالا مال ہے وہ قُدرت کے

بیش قیمتی زیور سے جو

ایک شہزادے کی تقدیر

سجانے کے لیۓ کافی ہیں جن

کو تراش کر بنا دِیۓ جاتے

ہیں چند مصنُوئی کھلونے مگر

یہ وہ رُوح ہے جس کی پاکیزگی

میں ہِیرے کی جگہ آنکھیں

…چمکتی ہیں

جس شان و شوکت سے

آراستہ ہے اُس گُلفام کے

وجُود کا محل وہاں وقار کی

اِینٹوں میں سنگِ مرمر نہیں

اُس کی دلکش شخصیّت

…جھلکتی ہے

اُس کے تاج میں جڑتے

نایاب موتی اِس بات کی

تصدیق کرتے ہیں کہ اِن کی

رونق اُس کی مُسکراہٹ سے

…بڑھ جاتی ہے

وہ جب شبِستان کے نشِیلے

پَلوں کی گرم خواب گاہ میں

اپنی پلکیں بِچھاتا ہے تو وہ

رات اُس کی مخملی آغوش

سے خوش قسمتی کا دامن

…چُوم لیتی ہے

 

 

..بُہت قریب

image

اُن ڈُوبتے لمحوں کے جمال

میں طُوفان تھا تڑپتے سمندر

کا اور اُس کی تِہہ میں اُترتے

یہ احساس ہُوا کہ ابھی اور

….ڈُوبنا ہے

اُچھلتی دھڑکن کی لے میں

ناچتی شبنم اِس سرُور کو

بھڑکاتی رہی جس کی حِدّت

یہ افسانہ سُناتی ہے کہ ابھی اور

…اُبھرنا ہے

ٹھہِرتی نِگاہ کی ساحر ادا سفر

کرتی ہوئی چہرے کے نرم راستوں

سے گُزرتی رہی جس کی شوخی

یہ دعویٰ کرتی ہے کہ ابھی اور

…اُترنا ہے