زیرِلَب

image

اُڑتے دل کی دھڑکن نے

جب اِظہار کیا اُس تڑپ

کا جو جل رہی تھی

سانسوں میں کہ یہ آگ

میری ہے تب چُپکےسے اُس

نے کانوں میں یہ کہہ دیا

…کہ تُم میری ہو

ڈُوبتی نظروں میں پوشیدہ

رنگ جب سوال اُٹھانے لگے اُس

سویرے سے جس میں قُربت کی

گرم چھاؤں غرق ہوتی نظرآئی تب

خاموشی سے اُس نے جھانکتے

ہُوۓ آنکھوں میں یہ کہہ دیا

…کہ تُم میری ہو

زُلفوں کے تَپتے بادلوں میں کبھی

اُبھرتے کبھی چُھپتےچہرے

کی نرم شوخیاں اقرار کرتی

رہیِں اُن گُستاخ اداؤں کی جن

کے نقش رُوح میں پیوست پَلوں کے

غُلام بنےتب سرگوشی سےاُس نے

سمیٹتے ہُوۓسانسوں میں یہ کہہ دیا

…کہ تُم میری ہو

باعثِ مُسرّت

image

پھر سے روشنی چمکے گی

پھر سے پھُول مُسکائیں گے

پھر سے آنگن مہکے گا

پھر سے دِیۓ جگمگائیں گے

…اور میرا دل کِھل اُٹھے گا اُس کے آنے کی خوشبو سے

پھر سے نظر بہکے گی

پھر سے دل دھڑکیں گے

پھر سے قدم رُکیں گے

پھر سے کَلی کِھلے گی

….اور میرا جسم مِہک اُٹھے گا اُس کی سانسوں کی خوشبو سے

پھر سے شام سجے گی

پھر سے چاند سنورے گا

پھر سے حُسن نِکھرے گا

پھر سے آنچ بھڑکے گی

….اور میری رُوح تڑپ اُٹھے گی اُس کے وجود کی خوشبو سے

خواہشِ اِنتہا

image

میں تیری اَگن میں پگھلناچاہُوں

شرط یہ ہے کہ تُو شرارہ بنے

میں تیرے ہونٹوں سے پِینا چاہُوں

شرط یہ ہے کہ تُو مےخانہ بنے

میں تیری نظروں میں لُٹناچاہُوں

شرط یہ ہے کہ تُو قاتل بنے

میں تیرے ہاتھوں میں سجناچاہُوں

شرط یہ ہے کہ تُو سِنگھار بنے

میں تیری زُلف میں چُھپنا چاہُوں

شرط یہ ہے کہ تُو برسات بنے

میں تیری بانہوں میں بہکناچاہُوں

شرط یہ ہے کہ تُو مُحافظ بنے

میں تیرے وجُود میں اُترناچاہُوں

شرط یہ ہے کہ تُو سمندر بنے

میں تیرے قدموں میں بِچھناچاہُوں

شرط یہ ہے کہ تُو خُدا بنے

نَقش

image

وہ نہیں آسکا تو کیا ہُوا

خوُشبو میرے ساتھ آئی ہے

اُس کی یاد میں چلتے چلتے

نئی عادت رنگ لے آئی ہے

ستارہ آنکھ کے جلوے نے

پیاس میری اور بڑھائی ہے

پَلٹتےہی اوجھل ہوئی دھُوپ

وہ کِرن جس نے بُجھائی ہے

دےگیاجس پَل کاموقع مُجھے

سوغات میرے حِصّے آئی ہے

چُھپنے لگی ہوں اُس قدم میں

لہر اُس نِشاں میں نہائی ہے

کٹھِن لمحات

image

اِن بانہوں سے آزاد ہوتی ہے جب آرزُو میری

جکڑ لیتے ہیں قید میں درد کے بھنور مُجھے

نظروں کی گھنی قُربت جُداہوجب پیمانوں سے

اُداس کردیتی ہیں اندھیروں کی ویِرانیاں مُجھے

دسترس میں نہیں ہوتےکبھی وصل کےموسم

اُڑا لے جاتے ہیں خزاں کے زرد پتّے مُجھے

دَم توڑنےلگوُں اُس کی بَزم سےالوداع لیتےہی

علیحدگی جگاتی ہےخواہش مَرجانےکی مُجھے

سَلطنت

image

دل اُن آنکھوں کو

دیکھنا چاہتا ہے

صرف جن کی

چمک بتاتی ہے کہ

…میں خوبصورت ہُوں

دل اُن باہوں میں

ٹُوٹنا چاہتا ہے صرف

جن کی پناہ گاہ

دیتی ہے گواہی کہ

…میں محفُوظ ہُوں

دل اُن اشکوں کو

پِینا چاہتا ہےصرف جن

کے جذبے اظہار کرتے

ہیں وہ تڑپ جس کی

…میں پیاس ہُوں

دل اُن شعلوں میں

جلنا چاہتا ہے صرف

جن کی لپیٹ یہ

احساس دلاتی ہے کہ

…میں موم ہُوں

دل اُن دھڑکنوں میں

ڈُوبنا چاہتا ہے صرف

جن کی صداؤں میں گُونجتا

ہے ایک وہ نام جس کی

…میں مَلکیّت ہُوں

 

 

 

روز نیا عالم

image

جب بھی مِلتے ہیں صنم ہر مُلاقات

بدل جاتی ہے اِک خوشبو میں جس

کے کنارروں کی پنکھڑیاں مہکانے

…لگتی ہیں بدن کی ڈالیِوں کو

جب بھی مِلتے ہیں جانم ہر مُلاقات

بدل جاتی ہے اِک کشش میں جس

کی ڈوریں بے اختیار کِھچتی چلی

جاتی ہیں اُن بُلندیوں پہ جہاں سے

…واپسی کا کوئی راستہ نہیں

جب بھی مِلتے ہیں پِیا ہر مُلاقات

بدل جاتی ہے اِک انداز میں جوجگاتی

ہے مدہوشی جس میں بے خود ہوتے

…ہی جان اور تن ڈُوبنے لگتے ہیں

تاثیرِ رنگ

image

سمندر نِیلا ہے

گہرے بنے پیالے

رات سیاہ ہے

گھٹا بنے زُلف

آنچل سفید ہے

پاکیزہ بنے رُوح

شجر سُرخ ہے

شرابی بنے ڈورے

آسمان سُرمئی ہے

بُلندی بنے یقین

گُلشن ہَرا ہے

شاداب بنے جوبن

پھُول بنفشی ہے

مرمریں بنے بدن

شمعٰ سُنہری ہے

مُحبّت بنے کُندن

تَربَتر

image

چُومتی ہیں بُوندیں جب فرشِ بدن

عرشِ رُوح تک پُہنچتی ہیں دستکیں

شبنمی دن نِکھارے جب چمنِ بدن

گُلشنِ رُوح تک مہکتی ہیں حسرتیں

مِہکش تارہ چُھوۓ جب سطحِ بدن

سمندرِ رُوح تک بِہتی ہیں کروٹیں

حُسن جب لےبانہوں میں وصلِ بدن

آِنتہاۓرُوح تک ڈھلتی ہیں سرحدیں

ریزہ ریزہ

image

چُپکےچُپکےسرگوشی سے

کہا تُم نے کانوں میں

دھیمی دھیمی نِیلی سی

لَو میری جلتی گئی

رَگ رَگ میں چُبھتا جاۓ

سُرخ نمک کا کانٹا

رفتہ رفتہ گُزرے ہے

دھُوپ کی رُت میرےسامنے

تَھر تَھر کانپتی آنچ

لڑتی رہی خُود سے یُوں

کَھن کَھن چُومتا کنگن

کرے رُسوا کلائی کو

نَس نَس میں ٹُوٹتی ہے

صَندلی دَردوں کی کَلیاں

ریشمی ریشمی گیِلی سی

برستی رہی پُھوار یُوں

تھوڑا تھوڑا مرتے ہُوۓ

زندگی کو دیکھتے رہنا

زرّہ زرّہ نِشاں بنا

گَلتی گئی رُوح کی دُنیا