
اُس شہر سے اب گُزر
نہیں ہوتا
کبھی جہاں آنا جانا
تھا ہمارا اکثر۔۔
کبھی جہاں سُرخ دھُوپ
چومتی تھی بدن سبز چمن کے
اور مُلائم لمس جلتے
بُجھتے رہتے تھے۔۔
اُس شہر سے اب گُزر نہیں ہوتا
جہاں کی صبا میں تھی
خوشبو عِطر سی اور
لبوں کی پیاس پر جوبن
تھا کمال سا
تب گیلی مِٹّی پڑتی تھی
پھُوار بن کے یوں۔۔۔
اُس شہر سے اب گُزر نہیں ہوتا
کبھی جہاں کے لمحوں سے
جُڑے تھے میری کسک کے
سلسلے اور دل کی سڑک پہ
رفتار رقص کرتی تھی
دھڑکن بن کے۔۔۔
اُس شہر سے اب گُزر نہیں ہوتا
جہاں اُٹھاتے تھے ناز کلیوں کے
گُلشن اور جھُکے جاتے تھے
سَر عشق کے دربار میں۔۔۔
اُس شہر سے اب گُزر نہیں ہوتا
جہاں آنا جانا تھا ہمارا اکثر۔۔۔








