سنگ تراش

image

حسین ہُوں میں اگر

…تو تُم وہ آئینہ ہو جس میں دیکھ کر مُسکرانا ہےمُجھے

سِتارہ ہُوں میں اگر

…تو تُم وہ رات ہو جس کی آغوش میں چمکنا ہےمُجھے

منزل ہُوں میں اگر

…تو تُم وہ راستہ ہو جہاں سے گُزر کر پُہنچنا ہے مُجھے

دِلکش ہوُں میں اگر

…تو تُم وہ دلکشی ہو جس کے دل میں گھر بنانا ہے مُجھے

تصویر ہوُں میں اگر

…تو تُم وہ مُصوّر ہو جس کے رنگوں میں ڈھلنا ہے مُجھے

سمندر ہُوں میں اگر

…تو تُم وہ تشنگی ہو جس کے لَبوں سے پِینا ہے مُجھے

خیال ہُوں میں اگر

…تو تُم وہ حقیقت ہو جس کی رُوح میں بَسنا ہے مُجھے

گُل رنگ ہُوں میں اگر

…تو تُم وہ ساغر ہو جس میں چھَلک کے ڈُوبنا ہے مُجھے

بُت ہُوں میں اگر

…تو تُم وہ سنگ تراش ہوجس نے تراشا ہے مُجھے

شمعٰ ہُوں میں اگر

…تو تُم وہ تپِش ہو جس کی بانہوں میں پگھلنا ہےمُجھے

عادَت

image

روز نئی خوُشبو

…ایک نئی عادَت میں ڈَھل جاتی ہے

روز نیا خواب

…دِکھاتا ہے حسین جلوے کئی

روز نئی صُحبَت

…ایک نئی آوارگی میں بدل جاتی ہے

روز نیا احساس

…کھولتا ہے دَر ارمانوں کے کئی

روز نئی تِشنگی

…ایک نئی آگ میں اُتر جاتی ہے

روز نیا سرُور

…گھولتا ہے خُمار میں رنگ کئی

روز نئی دیوانگی

…ایک نئی آفت میں سِمٹ جاتی ہے

روز نیا زہر

…چبھوتا ہے نَس نَس میں کانٹے کئی

رابطہ

image

اِس دل سے اُس دھڑکن تک

اِس راہ سے اُس موڑ تک

…مِلوُں گی تُمہیں اُسی راستے پر اپنی بانہیں پھیلاۓ

اِس آہٹ سے اُس قدم تک

اِس پَل سے اُس لمحے تک

…مِلوُں گی تُمہیں اُسی چھاؤں تلے اپنی ذات بِچھاۓ

اِس آنکھ سے اُس نظر تک

اِس لَب سے اُس سانس تک

…مِلوُں گی تُمہیں اُسی سیج پر اپنا آنچل پھیلاۓ

اِس شب سے اُس اُجالے تک

اِس پیاس سے اُس گھُونٹ تک

…مِلوُں گی تُمہیں اُسی جھیل کنارےاپنی آنکھیں بِچھاۓ

اِس دُوری سے اُس قُربت تک

اِس تڑپ سے اُس کسک تک

…مِلوُں گی تُمہیں اُسی دھُوپ تلےاپنی کِرنیں بِکھراۓ

محفلِ حُسن خیز

image

بَند پلکوں میں چُھپاتے ہیں دل کے چین کو

اِس بزم میں ستارۂِ چشم ہے کاجل و چراغ

کروٹ سرہانے بیٹھی ہے تُمہاری یاد لیۓ

اِس شام میں بِساطِ ریشم ہےخواب و رُخسار

بے تابی کےماتھےپہ پہنا ہے تاج عاشقی نے

اِس انجُمن میں حُسنِ طلب ہےعشق و حِصار

دل کے فرش پہ لگا ہے قُربتوں کا رنگین میلہ

اِس مِحفل میں حاصلِ سرُور ہے شمعٰ و خُمار

بےمِثال

image

کیاکوئی احساس اِس سےزیادہ حسین ہوگا؟

…جس کو مُحبّت میں کہتی ہُوں

کیا اُس نظر سے بڑھ کر کوئی چمک ہوگی؟

…جس کو آئینہ میں کہتی ہُوں

کیا کسی دھڑکن میں ایسا شور ہوگا؟

…جس کو تلاطُم میں کہتی ہوُں

کیا کوئی گِرفت اِتنی دلکش ہو سکتی ہے؟

…جس کو قید خانہ میں کہتی ہوُں

کیا کوئی سانس اِتنا رُوح مِہکا سکتی ہے؟

…جس کو صندل میں کہتی ہوُں

کیا کوئی کشِش اِتنی لاجواب ہو سکتی ہے؟

…جس کو مدہوشی میں کہتی ہوُں

کیا دل کے تار ایسے جُڑ سکتے ہیں؟

…جن کو قسمت میں کہتی ہوُں

کیا خواب اِس طرح سَچ ہو سکتے ہیں؟

…جن کو مُعجزہ میں کہتی ہوُں

کیا دُعائیں ایسے رنگ لا سکتی ہیں؟

…جن کو عقیِدت میں کہتی ہوُں

…تُمہارےنام

image

میرے مِحبوب آج تو لکھنے

کا اِرادہ نہ خیال پر ایک

بات بتانی ہے تُمہیں کہ

جو رات لِپٹی تھی چادر

میں وہ راہ ابھی دِکھانی

…ہے تُمہیں

ایک دل کی آہٹ اور کُچھ

بِکھری چاندنی جو پھیلی

ہے سفید آنچل کے سِرکنے

سے کہ ابھی بِندیا کی ٹِم ٹِم

اور پایل کی چھم چھم سُنانی

…ہے تُمہیں

میرے جانم ابھی مایوس شِکن

سے نہ دیکھ اُن گُلوں کو جن

کے ٹوُٹنے سے ہو جاتے ہیں

خواب ریزہ اور شیشے چُور

کہ اِن ٹُکڑوں کی کسک چُبھانی

…ہے تُمہیں

میری تحریر میں ہے تُو اور

صرف تیری داستانیں کہ

رقص کرتی ہیں اُنگلیاں کاغذ

کے بدن پہ جو پیار کرُوں تو

تھام لے کہ پانی پے چل کے آۓ

گی صُبح تو شام کے تکیے تلے

بیٹھے بے شُمارکہانیاں سُنانی

…ہیں تُمہیں

میری چاہت

image

پیمانۂِ نظر

کنارہ سمندر

آبِ گُل رنگ

نشیلے جام

برقِ آہنگ

لہراتی مستی

عکسِ آئینہ

بےداغ رُخ

پسندِ خاطر

چاہت سُہانی

جانِ عالم

ستارہ محفل

پردۂِ دل

رُوح پرور

رگِ جاں

قطرہ اِنتہا

 

راہِینِ اِنتظار

image

ایک اور دن گُزرا اِک

نئی صُبح میں بدل جانے

…کے اِنتظار میں

ایک اور راستہ نِکلا

نئی منزل پہ نکل جانے

…کے اِنتظار میں

کئی نئی کلیاں کِھلیِں

شبنم کو پی جانے

…کے اِنتظار میں

اور کئی شامیں ڈھلیِں

نۓ چاند میں سما جانے

…کے اِنتظار میں

ایک نئی آگ جلی

سانس میں گُھل جانے

…کے اِنتظار میں

اور ایک کروٹ جگی

خواب میں اُتر جانے

…کے اِنتظار میں

کئی نۓ موسم سجے

رنگوں میں مِل جانے

…کے اِنتظار میں

اور کہیِں شمعٰ تڑپی

پروانے میں ڈُوب جانے

…کے اِنتظار میں

فاصلے

image

یہ سیاہِیاں ہیں کہ فاصلوں میں سفرکرتی شَبِ ہِجر

صبر ہےاِنتہا ہے وقت کی گردش ہے اورکُچھ نہیں

اُڑانوں سے کہو کہ تھام لو روک لو رفتارِ آرزُو

نَمی ہےدرد ہےجنون کی سازش ہےاورکُچھ نہیں

زمانے گُزرتے ہیں بند پلکوں میں لیۓ احساسِ لمحہ

سیلاب ہےروانی ہےرُوح کی لرزش ہےاورکُچھ نہیں

بھنور لپیٹے پیروں میں لیۓ پِھرتی ہے دردِ آشنائی

فُرقت ہےانتظار ہےجبرکی آزمائش ہےاورکُچھ نہیں

..فَناہوتےگۓ

image

کانپ جاتی ہے ذات

اُس کسک کی حرارت

میں گُھل کے تب جسم

نہیں جانتا کہ رُوح

…کس کی ہے

لرَزتے ہاتھوں سے پِھسلتی

جان گواہ ہے اُس دُھوپ

کی جس میں جل کے سورج

نہیں جانتا کہ تاثیِر

…کس کی ہے

کانپتے احساس کی سرد حِدّت

میں سِمٹا وہ پل جس کو چَکھ

کے زائِقہ نہیں جانتا کہ مِٹھاس

…کس کی ہے

لَرزتے ہونٹوں کی پیاس چُھوتی

رہی کنارے اُس پیمانے کے جس

کےنشے میں غرق ہو کر دل

نہیں جانتا کہ دھڑکن

…کس کی ہے