کرم پَرور

image

یہ میرے شعر نہیں سجدے

ہیں اُس خُدا کو جس نے عشق

کے آسمان میں نوازا ہےمُجھے

…مُحبّت کی رحمتوں سے

یہ میری نظمیں نہیں سلام

ہے اُس پیکر کو جس نے بندگی

کے جہاں میں بخشا ہے مُجھے

…سرُور کی آشنائیوں سے

یہ میری تحریریں نہیں خط ہیں

اُس حسِین کو جس نےاُلفت

کے گُلستان میں سجایا ہے مُجھے

…پُھولوں کی شوخیوں سے

یہ میری غزلیں نہیں اِنعام ہیں

اُس پرِستار کو جس نے عقیدت

کے جہاں میں تراشا ہےمُجھے

…پتھر کی لکیروں سے

گوہر تَر

image

صنم کی آنکھ سے گِرتا ہے قطرہ قطرہ

چُن لیا ہے میں نے اِسے موتی سمجھ کر

کنارۂِ رُخسار پہ دَم توڑے انمول اَشک

چُوم لیا ہے میں نے اِسے پھُول سمجھ کر

سُرخ چراغ میں بِہتےدیکھا شرارۂِ تِشنگی

پِی لیا ہے میں نے اِسے شبنم سمجھ کر

سمندر کی روانی میں ڈُوبتا نایاب آنسُو

چَکھ لیا ہے میں نے اِسے مِے سمجھ کر

..آج شب چاند

image

آج چاند کےچہرے پہ

خوُبصورتی کمال کی ہے

اور میں خوش ہُوں تُم بھی

…یہِیں ہو اور میں بھی

آج چاندنی برسا رہی ہے

پیار شِدّت سے اور میں

خوش ہُوں تُم بھی تَک رہے

…ہو اور میں بھی

آج چاند کے دائرے میں

خُمار ہے بےخُودی کا اور

میں خوش ہُوں تُم بھی نشے

…میں ہو اور میں بھی

آج چاندنی ڈُوبی ہے مستی

کی شوخ ادا میں اور میں

خوش ہُوں تُم بھی مدہوش

…ہو اور میں بھی

آج چاند سُنہری پیاس کی

آگ میں جل رہا ہے اور

میں خوش ہُوں تُم بھی یاد

…کر رہے ہو اور میں بھی

 

مُکمّل تصویر

image

ادھُورے پَل آزاد ہوں جب

تو کامِل ہوتی ہے زندگی

بدن جب رُوح  سے ٹکراۓ

تو حاصل ہوتی ہے بندگی

تصویر میں رنگ بھریں جب

تو کامِل ہوتی ہے زندگی

دھڑکن سُنے جب دل کی بات

تو حاصل ہوتی ہے بندگی

کِنارے تَر ہونے لگیں جب

تو کامِل ہوتی ہے زندگی

سانسوں کی ڈور اُلجھے

تو حاصل ہوتی ہے بندگی

ڈُوبتے جائیں جذبات میں

تو کامِل ہوتی ہے زندگی

دو بدن اِک جان بنیں

تو حاصل ہوتی ہے بندگی

حُسن چکھےعشق کے ہاتھ

تو کامِل ہوتی ہے زندگی

جب درد ہو حوالے کسک کے

تو حاصل ہوتی ہے بندگی

بے خُودی شِکست دے خود کو

تو کامِل ہوتی ہے زندگی

صبر جب عرُوج کا زیور پہنے

تو حاصل ہوتی ہے بندگی

دِلکشی چُھپا لے سب راز

تو کامِل ہوتی ہے زندگی

سِتم ٹُوٹےاورلَب مُسکرائیں

تو حاصل ہوتی ہے بندگی

نگاہیں کریں نزرانہ قبُول

تو کامِل ہوتی ہے زندگی

سجدہ ادا ہو مِحبوب کو اگر

تو حاصل ہوتی ہے بندگی

خوش سَواد

image

اِدھر تمام رات

اُس کی یاد کا دِیا

جلتا رہا آنکھوں میں

اور اُدھر چاندنی اپنے

جوبن سے اُسے

….سُلاتی رہی

اِدھر بندش کی سیاہ

چادروں پہ کِھلے فُرقت

کے پھُول اور اُدھر صُبح

اُس کی خواب گاہ

….سجاتی رہی

اِدھر ماند ہیں رنگ و خوشبو

گُل کے سبھی اور اُدھر

رات کی رانی اُس کا صِحن

….مِہکاتی رہی

اِدھر دستک دی سِتاروں

کے قافلے نے نیند کو اور

اُدھر کہکشاں اپنے جلوے

….دِکھاتی رہی

اِدھر جمتے گئے نشاں

شبنمی موم کےاور اُدھر

شمعٰ اپنی چِنگاریاں

….بھڑکاتی رہی

..اُس کی دُھن میں

image

اُس کی خُوشبو پیراہن میرا

پیمانہ آنکھیں نظارہ میرا

آشنا دھڑکن دل میرا

سُلگتی سانس جسم میرا

بکھرتی کسک لُٹنا میرا

گُلابی وصل تُحفہ میرا

ہاتھ سَندلی پگھلنا میرا

تڑپ اُس کی آنسُو میرا

کِھلتی دھُوپ جلنا میرا

ریشمی بِچھونا بستر میرا

چھَلکتی پیاس جام میرا

سِیلی رُت جنوُن میرا

آنگن چاند ٹھِکانا میرا

نام اُس کا وجوُد میرا

تَڑپ

image

کیُوں اُس کا لمس مُکمّل بنا گیا

کیُوں سُرمئی رنگ پاگل بنا گیا

اُس کی سانسوں کا دَم توڑنا ایسے

میرے ذرّہ ذرّہ حُسن کو مُعطّر بنا گیا

انگلیوں کی حِدّت سے پگھلتی جاؤں

بھٹکی ہُوئی موج کو ساحل دکھا گیا

ادھُوری نیند کی سوئی آنکھ کاجادو

بہکتی  خواہش کو راستہ دکھا گیا

ہونٹوں کی لرزِش منزل تک پُہنچتی

پھیکی ہنسی کو سُرخ جام پلا گیا

نرم سیِنوں میں دھڑکتے شوخ جذبات

اِس  روکھی آرزو کو تمنّا بنا گیا

قدر شناسی

image

صنم کے چھُوتے ہی ہر نعمتِ قُدرت بنتی ہے پسند کے قابل

میں دل اور پھُول دیوانے ہیں اُس فضا کے جہاں وہ سانس لیتا ہے

جس چمک کی قدر کرے دلدار میرا  اُس میں نِکھرنا چاہُوں

میں چاند اور پایل پرِستار ہیں اُس جہاں کے جسےوہ سنوارتاہے

بدلتے رنگِ موسم میں گُم ہوتے دیکھُوں وہ حسین چشم

میں دھنک اور آنچل عاشق ہیں اُس عرش کے جس میں وہ جگتا ہے

حُسنِ خیال کی رعنائی کے جُدا ہیں قیاس و انداز سبھی

میں خواب اور کاجَل قُربان ہیں اُس سراپا پہ جس میں وہ بستا ہے

شعر و نغمہ میں زندگی بھر دے میرےمحبُوب کا فسانۂِ دل

میں نشہ اور غزل فِدا ہیں اُس ترنّم پہ جسے وہ گُنگُناتا ہے

..حقیِقت میں

image

…مُحبّت کو مِلتے ہیں

چَند ادھُورے پَل

کُچھ مُرجھائی یادیں

کئی سِسکتے لمحے

خاموش مُلاقاتوں کاسلسلہ

کئی بھُولے افسانے

کُچھ اَن چُھوئی حسرتیں

…محّبت چاہتی ہے

وصل میں ڈُوبتی شامیں

دیدارِیار کی طلَب

ٹھہِرے وقت کی گردِش

گرم بانہوں کا بِچھونا

ستاروں میں چمکتی چھاؤں

بے تاب تمّنا کی لگن

…مُحبّت کی آرزو میں

جلتے ہیں جان و تن

اُجڑتے ہیں آشیانے

رُوح ہوتی ہے فنا

تڑپ بنتی ہے اِنتظار

فِکر و رنج مات دیتے ہیں

بے صبر ہوتا ہے جنُون

…مُحبّت کو گوارا نہیں

دُوری کے ڈستے بِچھّوُ

اشک بہاتے چشم

ہِجر کے جگتے سُورج

سازِش بُنتے جال

بے رُخ ادا و نظر

ڈرتے حوصلوں کا جوش

…وہ نہیں مِلا

image

میں جہاں بھی گئی

ٹکراۓ وہ راستے جن

پہ چلتےہُوۓ مِلے اُس

کے نِشاں مگر وہ مِلا

…نہیں مُجھے

میں جہاں بھی گئی

اُن آنکھوں کی تلاش

میں رُوبرو ہُوئی اُس کی

روشنی سے مگر وہ مِلا

…نہیں مُجھے

میں جہاں بھی گئی

اُس احساس کی مِہک

گھیرے رہی میری آرزُو

کو مگر وہ مِلا

…نہیں مُجھے

میں جہاں بھی گئی

اُس کی آہٹ سُنائی

دیتی رہی آس پاس

مگر وہ مِلا

…نہیں مُجھے