
صنم کی آنکھ سے گِرتا ہے قطرہ قطرہ
چُن لیا ہے میں نے اِسے موتی سمجھ کر
کنارۂِ رُخسار پہ دَم توڑے انمول اَشک
چُوم لیا ہے میں نے اِسے پھُول سمجھ کر
سُرخ چراغ میں بِہتےدیکھا شرارۂِ تِشنگی
پِی لیا ہے میں نے اِسے شبنم سمجھ کر
سمندر کی روانی میں ڈُوبتا نایاب آنسُو
چَکھ لیا ہے میں نے اِسے مِے سمجھ کر








