پِہچان

image

خواب آنکھوں میں بند

ایک تصویر کی مانِند

ہیں جن کے رنگ اپنی

شناخت میں بے مثال ہیں

اور اِن کی شوخی سے

جب میری نیند کروٹ لینے

لگتی ہے تب کُھلتے ہیں

نۓ دریچے جن سے

…نظر آتی ہیں جَنّتیں

خود کو سونپتے ہُوۓ

اِن جَنّتوں میں جب

سبز ہواؤں کے شور

تلے لہرانے لگُوں تب

وہ حسین وجُود باہیں

پھیلاۓ اِس ریشمی آنچل کا

….اِنتظار کر رہا ہوتا ہے

رات کے اِس ادھُورے

پِہر جب چمپئ پھُولوں

میں لِپٹے دو بدن خوابوں

میں بسے سراب کو چھُو

رہے ہوتے ہیں تب ایک

ہلکی سی آہٹ چونکا دیتی

ہے اور آنکھ سے پَلک کا

رِشتہ فاصلوں میں بدل جاتا

ہے اور وہ پُرکشش چہرہ

اُسی کُہرے میں واپس

…لَوٹ جاتا ہے

پھر ایک دن نہ خواب آیا

اور نہ ہی پلکوں نے فُرقت کا مزا

چَکھااور تقدیر کے ماتھے پہ

چمکامہتاب جس کی دمک نے اِن

اندھیری گلیوں کو زندگی بخشی

اور اِس ادھورے خواب کو

مُکمّل بنایا اور مُجھے

…میری پِہچان مِلی

تُم میرے اِن قیمتی خوابوں

کی سچّی تعبیر ہو جو دن

کے ڈھَلتے پِہروں اور چاند

کی مہکتی راتوں میں دیکھے

ہیں جنہیں گُلاب کے پھُولوں

سے سجایا ہے مِحض تُمہارے

لِیۓ  اور اب اِس گُلشن میں

….دیکھو کتنی بہار آئی ے

…لیکِن

image

برستی ہے جب بارش

تو رُکتی ہے کسی

مقام پر لیکن یہ بھی

سچ ہے مُحبّت جب

برستی ہے تو ٹھہرنا

….نہیں جانتی

مہتاب سے روشن

ہے دُنیا جب تک سویرا

جگے لیکن یہ بھی سَچ

ہے چاہت کے نُور میں

آغاز و انجام کی کوئی

….حد نہیں

آفاق پیراہن میں

لِپٹے رنگوں کے سِوا

کُچھ نہیں لیکن یہ بھی

سَچ ہے عشق کے آسمان

میں دُھلتے ہیں رُوح بھی

…جسم بھی

تُم یاد آتے ہو

image

جب جب دل کی دھڑکن تیز ہوتی ہے

اُن گہری پناہوں کو یاد کرتی ہوُں

جب شام سُرخی میں ڈوب جاتی ہے

اُس شرمیلےاِحساس کو یاد کرتی ہوُں

جب آدھے چاند کو مُسکراتا دیکھُوں

اُن شبنمی لَبوں کو یاد کرتی ہُوں

جب جب خوُشبو کا زِکر چِھڑتا ہے

اُس ریشمی لمس کو یاد کرتی ہوُں

جب سِتاروں میں چمک تیز ہوتی ہے

اُن قاتل نگاہوں کو یاد کرتی ہوُں

جب جب دیکھوں رنگوں کی اَور

اُس پُر کشش وجود کو یاد کرتی ہُوں

خُود رَفتگی

image

شِدّتِ جنون ہو دھُوپ میں اگر تو آفتاب خُود غرض کیسے

وہ بے خبر نہ جانے ہے اُس کی ذات سے کتنے تن جل گۓ

بے مثال حُسن و شباب جگا بھی دیں احساسِ بےخُودی اگر

اِس لا عِلمی کی غَفلت میں نہ جانے کتنے دل فنا ہُوۓ

قیدِ آشنائی کے خنجر سے بھلا کوئی بچ سکا ہے آج تک

اِس خُود کُشی کی چاہ میں نہ جانے کتنے بے موت مارے گۓ

دِلفریب سبھی نظر آتے ہیں داغ نُمایاں بھی اور پوشیدہ بھی

اِس سوغاتِ بےاختیاری میں نہ جانے کتنےمرہم ضائع ہُوۓ

قطرہ قطرہ ٹَپکتا ہےلہؤِ جگر گرچہ طلب بڑھتی جاۓ ہے

اِس پاگل پن کی حد میں نہ جانے کتنے ارمان پیاسےلُٹے

قندیل میں چھُپی شمعٰ کو پگھلنے کی اِجازت بھی نہیں

اِس سُنہری پناہ گاہ میں نہ جانےکتنے پروانوں کے وِرد ٹُوٹے

آزُردہ خاطِر

image

آج پھر اُسی مقام پر رُکنا پڑا جہاں سے تھی چلی

آگے کُہرے ہیں جہاں دیکھوں پیچھے دشت کی تِیرگی

خس و خاک کے ڈھیر تلے بے جان رُوحوں کی صدائیں ہیں

سامنے موت ہے مُنتظر باہیں پھیلاۓ تو پیچھےکفنِ زندگی

فِہرستِ دُشمناں میں ہمدم ہیں بے شُمار جہاں دیکھوں

یاں سازِشوں کے پھَندے ہیں واں دامِ تزویر کی سیاہی

تنِ بے ضمیر میں مَکفُوف مَیّت کو نہیں سہارے کی آرزو

اندر گُھٹن جکڑے ہے نفس کو باہر سِسکتی ہے خامِشی

زہرِ عشق کے کڑوےگھُونٹ نس نس میں اُترتے جاتے ہیں

آگے نرمئِ آغوشِ پیکرِ جاناں پیچھےفیصلِ تقدیر کی ناگُزیری

بےصَبر

image

بے تاب ہوں اُن نظروں

میں سمانے کو جن کے

مِلتے ہی بھُول جاتی ہوں

کہ گِہری جھیلوں میں ڈوبنے

….کا خوف ہے

بے چین ہُوں اُن باہوں میں

ٹُوٹنے کو جن میں گُم ہوتے

ہی یہ یاد نہیں رہتا کہ

فقط آنچل میں حُسن

….مِحفوظ ہے

بے قرار ہوں اُن سانسوں

میں دم توڑنے کو جن میں

بس کے یہ یقین اُٹھ جاتا

ہے کہ گُلوں میں مِہک

…زیادہ ہے

بے صبر ہوں اُس ساۓ

میں غرق ہونے کو جس میں

چُھپ کر یہ احساس کھو

جاتا ہے کہ ہم دو

…جِسم ہیں

بے پرواہ ہوں اُن شعلوں

میں جلنے کو جن کی گرمی

میں پِگھل کے یہ خیال نہیں

ستاتا کہ شمعٰ خُود سے

…جلتی نہیں

اِعتقاد

image

سمیٹ کر درد باہوں میں خوشیاں بکھیرتی ہوں

دل کے آسمان پہ چاہتوں کے پھُول سجاتی ہوں

بے چین لمحوں کی دھُوپ چھاؤں در گُزر کرتےہُوۓ

مُسکراہٹوں کےچمکیلےآنچل میں ستارے لپیٹتی ہوُں

تپتی ریت کی جلن سے خود کو بچاتے چل نِکلوں

مِہکتی برسات کے موتیوں سے جسم بھگوتی ہوں

رنج و غم سے جب چھلنی ہونے لگتی ہیں سانسیں

روح کے مخملی جھرونکوں میں مُحبّت سمیٹتی ہُوں

پِگھل کر جب شمعٰ نہانے لگتی ہے آنسوُؤں میں

حِدّتِ چنگاری کے جواں جوبن سے ذات سُلگاتی ہوُں

…کبھی نہ ختم ہونے والےسِلسلے

image

پلکوں کی چھاؤں میں تڑپتی راتیں

وہ سِتاروں کی روشنی میں لِپٹی چاندنی

اُن یادوں کے سرہانے سمٹی خواہشیں

آغوش کے سایوں میں دو دھڑکتے جذبات

…وہ حسین لمحے نہ ختم ہونے والے سِلسلے

دُعا میں پھیلے ہاتھ ہوں جیسے

سجدےمیں گِرتے گڑگڑاتے ہوں جیسے

خزاں کے سُرخ زرد پتّوں کی زندگی

سُرمئی شام کی آخری کرن ہو جیسے

….وہ حسین لمحے نہ ختم ہونے والے سِلسلے

خوُشبو سے مُعطّر پیروں کی مہندی

احساس کے بِچھونے میں رُوح کی گرمی

شفافیّت میں گھُلی آئینے کی شبی

بارش کی پہلی بُوند جب ہونٹ کو چُبھی

…وہ حسین لمحے نہ ختم ہونے والے سِلسلے

بے تاب آرزو میں لِپٹی کوئی تمنّا ہے

ادھورے عکس کی کیفیّت سے لڑتی رہی

وہ نا مُکمّل رہی اُس آگ میں جل کے

کائینات کی روشنی میں چُھپی کسک ہو جیسے

…وہ حسین لمحے نہ ختم ہونے والے سِلسلے

…ایک بار پِھر سے

image

تیرے ساۓ سےکوئی مراسِم نہیں اب تو

پِھر سے یہ رشتہ بنا لوُں تو کیا ہو

میرے خیال ریزہ اور خواب حیات ہیں

گر نیند سے ہی نہ جاگوں تو کیا ہو

زندگی میں مقام آ رہا ہے پھر سےشاید

خوُد سے گر میں جی لگا لوُں تو کیا ہو

خزاں سے جو کسک اُدھار دی تھی تُم نے

اُسی راستے کو منزل بنا لوُں تو کیا ہو

میرے شب و روز پہ طاری ہے ہر دم وہ

اِس قید سے گر جاں چھُڑا لوُں تو کیا ہو

اِس میں سزا ہے اُس کی رضا کے ساتھ

فقط خُدا سے عشق لگا لوُں تو کیا ہو

پگھلتی جا ہی ہے شمعٰ آہستہ آہستہ

اِس تپش سے رُوح جلا لوُں تو کیا ہو

کُچھ بھیگے پَل

image

یہ شور مچاتے پیڑ

یہ لِہراتی مست ہوائیں

یہ گِیلی مِٹّی کی خوشبو

….اُسے میری یاد تو دلاتے ہوں گے

یہ ٹَپ ٹَپ ناچتے قطرے

یہ مچلتی شوخ آندھی

یہ پُر کشش نظارے

….اُسے میرا پتا تو دیتے ہوں گے

یہ اَشک بہاتی برسات

یہ گھنگور سیاہ گھٹائیں

یہ پلکیں جھپکاتی بِجلی

….اُسے میرا حال تو سُناتے ہوں گے