اِطمینان

image

زندگی کے راستےکٹھِن ہوں اگر

ہَمسفر ہو تُم بس یہی کافی ہے

کنارۂِ دل چھلنی  ہو جاۓاگر

ہَم نَفس ہو تُم بس یہی کافی ہے

رنج و غم گر محبوب ہونے لگیں

ہَم پہلُو ہو تُم بس یہی کافی ہے

چھلَکنے لگیں آنسو تو کیا ملال

ہَمدرد ہو تُم بس یہی کافی ہے

دِلکش نہ سہی نغمہ و شعر اکثر

ہَم سُخن ہو تُم بس یہی کافی ہے

میری لَگن

image

اُن آنکھوں کو یاد کرتی ہوں

جن کے آئینے میں اپنا عکس

دیکھ کے بھُول جاتی ہوں

….کہ میں کون ہوں

اُن ہاتھوں کو یاد کرتی ہوں

جن کو تھامتے ہی یہ احساس

جگتا ہے کہ پُوری کائنات باہوں میں

….سِمٹ آئی ہو جیسے

اُن ذُلفوں کو یاد کرتی ہوں

جن کی خوشبو میں بسےمیری تقدیر

کے گھنے ساۓ ہیں جن میں کھو کے

….میں بے سُدھ ہو جاتی ہوں

اُن لفظوں کو یاد کرتی ہوں

جن کے سُنتے ہی اُفق سے پھُول برسنے

لگتے ہیں اور میرے وجود کے درودیوار میں

….جھنکار بجنے لگتی ہے

اُن ہونٹوں کو یاد کرتی ہوں

جن کو چھُوتے ہی ہوش اُلجھنے لگتا ہے

تب خُمار کی سیڑھی چڑھتے یہ خیال نہیں

….آتا کہ پیاس کی حد کیا ہے

اُن خُوبرو نظاروں کو یاد کرتی ہوں

جن کے نُور سے میری رُوح کا آسمان

چمکنے لگتا ہے تب میں ، میں نہیں رہتی

….تُم بن جاتی ہوں

آنکھ مِچولی

image

آج پھر ایک نئی اُمید بنی

اور مایُوسی پروان چڑھی

آج پھر دھڑکن زندہ ہوئی

اور پھرسے شیشے ٹوُٹے

آج پھر پُرانےدرد جگے

اورخوُد کو بہلایا میں نے

آج پھر شام ڈھلی نہیں

اورنئی صُبح طلُوع نہ ہوئی

آج پھر پرچھائی کو اوڑھا

اور نئے ساۓ میں گُم ہوئی

آج پھر اُس کو یاد کیا

اور اپنے آپ کو بھُول گئی

سوال

image

کیا اِن باہوں سے دُور رہ سکو گے؟

کیا اِن پناہوں سے دُور رِہ سکو گے؟

جن سانسوں میں کروٹ لیتے تھے

اُن خوابوں سے دُور رِہ سکو گے ؟

سِتاروں کی محفل جو سجائی تھی

اُن شاموں سے دُور رِہ سکو گے؟

پیاسی آنکھیں بُلاتی ہیں تُمہیں

اِن اُجالوں سے دُور رِہ سکو گے؟

جن شعروں میں جُستجو ہو تُمہاری

اُن افسانوں سے دُور رِہ سکو گے؟

ختم نہ ہو کبھی لگن یہ میری

اِن انتہاؤں سے دُور رِہ سکو گے ؟

آئینے میں چہرہ جو دیکھتے تھے

اُن سرابوں سے دُور رِہ سکو گے ؟

خود کو کھو چُکے ہو جس دل میں

اُن دھڑکنوں سے دُور رِہ سکو گے؟

پرَستِش

image

شام ہوتے ہی پھُول اُسے چُومتے ہیں

رات ڈھلتے چاندنی اُسے نہلاتی ہے

ستارے اُس کے آنچل میں سِمٹ آتے ہیں

آفتاب اُس کے بدن سے کِرنیں سیکتا ہے

…..کیونکہ گُلبدن اُسے کہتے ہیں

سویرا اُسے شبنمی تاج پہناتا ہے

ہوائیں اُس سے خوُشبو اُدھار لیتی ہیں

نرم چھاؤں اُس کی ذلفوں کو سہلاتی ہے

اُس کی آنکھوں میں مے رس گھولتی ہے

….کیونکہ مہجبیِن اُسے کہتے ہیں

بارش اُس کے عشق میں بےاختیار برستی ہے

اُس کی پایل سے سرگم بجنے لگتے ہیں

چوُڑیاں رقص کرتی ہیں اُس کی کلائی پہ

اُس کی مُسکراہٹ میں دھنک کے رنگ شامل ہیں

…..کیونکہ بہار اُسے کہتے ہیں

گجرے کی کلیاں مہکاتی ہیں وجُود اُس کا

سمندر اُس کی گہرائی میں ڈُوب جاتا ہے

اُس کے ہونٹ آبِ حیات کا پیالہ ہیں

مہندی اُس کی ہتھیلی پہ رنگ سجاتی ہے

….کیونکہ گُلزار اُسے کہتے ہیں

مُستحِیل

image

مکَمّل ہوتے ہی رنگِ تصویر چُھپنے لگے ہیں کناروں میں

سُرخ گُلاب  کبھی زرد تو کبھی صفا ہُوۓ جاتے ہیں

محفلِ رنگ سجائی ہےکاغذ کےپھُولوں سےکہ برقرار رہے

مہکتے گُلشن  کبھی دشت تو کبھی صحرا ہُوۓ جاتے ہیں

بےجان بُت تراش کر پچھتاوےکی ڈور سے بندھ گئی زندگی

سنگ تراش کبھی  بشَر تو  کبھی خُدا ہُوۓ جاتے ہیں

عجب حُسن و شباب کی پھیکی رونقوں سےلُبھاتےہیں ذات کو

تماشائی کبھی زہر تو کبھی دوا ہُوۓ جاتے ہیں

کیفِیّت

image

ڈوبتی ہوئی دھڑکن کی تال

پہ گُم ہوتے لمحے مدہوش ہونے

لگتے ہیں جب دو جسم باہوں میں

….دَم توڑنے لگیں تو

پیاسے جذبوں میں گُھلتی کسک

پُوری ہونے لگتی ہے جب نشے میں

چُور دو بدن سانسوں میں

…..دَم توڑنے لگیں تو

سُہانے سِلسلوں کی چھاؤں

تلے احساس تڑپنے لگتے ہیں

جب ریشم میں لِپٹے دو وجود

…..دَم توڑنے لگیں تو

 

خیالِ دِلکشی

image

تُمہیں سوچیں تو مُسکرانے لگتے ہیں یہ لَب

اِس خیالِ جنّت سے نہ کوئی نکالے اب ہمیں

تُمہیں دیکھیں تو چمکنے لگتی ہیں یہ آنکھیں

اِس مِحفلِ کہکشاں سےنہ کوئی نکالےاب ہمیں

تُمہیں پا کےیوں بےاختیار اِترانےلگتا ہےیہ دل

اِس نازِ خوُد پسندی سے نہ کوئی نکالےاب ہمیں

تُمہیں چھُو لیں تو پگھلنے لگتے ہیں یہ جان و تن

اِس لمسِ خوشبو  سے نہ کوئی نکالے اب ہمیں

مَرکزِ جاناں

image

اِن بے خود گھٹاؤں کی

گڑگڑاہٹ میں جس کی

صدائیں مُجھے بلاتی ہیں

وہ شخص میرے دل کے

….موسموں کا سَبب ہے

یہ چھیڑتی مَست ہواؤں

کے رُخسار میں جس کا

لمس چُپکےسے میرے بدن

کو چومتا ہے وہ شخص

میرے حُسن کی

….راحتوں کا سَبب ہے

قطرہ قطرہ ٹپکتی بوُندوں

کی جھنکار میں بسی

تپِش جس کی حِدّت سے

مدہوش بناتی ہے وہ شخص

میری جلتی بُجھتی

….آہوں کا سَبب ہے

 

 

 

نئی دُنیا

image

تُمہیں چاہنے کی حد میں ہر اِنتہا سےگُزر بیٹھے

اِس مُحبّت میں جنون تُمہیں لے جائیگا نئی دُنیا میں

ستاروں کے جہاں میں تُمہیں سجدے کرتی ہے یہ ذات

اِس اُلفت میں عبادت تُمہیں لے جائیگی نئی دُنیا میں

پیکرِ عشق کا خُدا بنا چُکے ہیں سحر و شب کا تُمہیں

اِس بندگی میں سرُور تُمہیں لے جائیگا نئی دُنیا میں

تُمہیں نرم آنچ کی مدھم حرارت میں بِھگونا ہے ہر پل

اِس تمازَت میں شمعٰ تُمہیں لے جائیگی نئی دُنیا میں