وصلِ نَو

image

مُدّتوں بعد چاند کِھلا ہے جسمِ فَلک پر

چاندنی شوخ سےشوخ تر ہوتی چلی جارہی ہے

برسوں میں جو شاداب ہُوا ہے دِیارِ گُلستان

مہک خُوب سے خُوب تر ہوتی چلی جا رہی ہے

صدی بِسری جس  لمحے وہ پل اب ٹھر گیا

گھڑی طویل سے طویل تر ہوتی چلی جا رہی ہے

بعد عرصے کے رونقِ وصل نے لی ہے کروٹ

مُحبت قائم سے قائم تر ہوتی چلی جا رہی ہے

زمانوں بعد رُوحِ  شمعٰ  نکھرنے لگی ہے یوں

تاثیر گرم سے گرم تر ہوتی چلی جا رہی ہے

کَرامات

image

آدھی نیند کا جاگا ہو جیسے

پُوری آنکھ کا جادو جس میں

جُھولتا ہو وہ حِصار جس کی

قید ہِجر کے فریبی دھوکے سے

ذیادہ پُرکشِش اور نشیلی ہو اور

جب شِدّت میں پِنہاں درد ٹُوٹنے

لگے تب آنکھ بَند کرتے ہی گر ہاتھ

بڑھاؤں تو خواب آغوش میں جکڑ

لیتا ہے تب میں رُخصت ہو جاتی ہوں

….ایک نۓ سفر کی جانِب

مدہوشی کا سیلاب جب بہا لے جاۓ

جس میں جھُومتا ہو وہ خُمار جس

کی کشِش سے قُربت کا آسمان اور

گِہرا دکھائی دے تب اِس حُسن کی

بارش سے فَرش کی چادر پہ گرتے قطرے

شفاف ہونے لگتے ہیں  تب اُسی لمحے بَند

پَلک میں سوئی خواہِش رکھتی ہے پاؤں ایک

دلفریب منظر میں جو کھینچ لیتا ہے مُجھے

…..ایک نۓ سفر کی جانِب

میری کائِنات

image

یہ دیوانگی ہے تُم سے

یہ عاشقی ہے تُم سے

یہ تنہائی ہے تُم سے

یہ آشنائی ہے تُم سے

….میرا مُجھ میں کُچھ نہیں میرے محبُوب کے سِوا

میری شاعری میں تُم ہو

میری باتوں میں تُم ہو

میری اداؤں میں تُم ہو

میری کہانی میں تُم ہو

….میرا مُجھ میں کُچھ نہیں میرے جانم کے سِوا

میں چلوُں تو تیری آہٹ آۓ

میری نظر میں تیری نِگاہ بسے

میری ہنسی میں تُو کھنکے

میری نیند میں تیرے خواب ہوں

….میرا مُجھ میں کُچھ نہیں میرے دِلبر کے سِوا

میری سانس میں تیری آہ ہو

میری آواز میں تیری گُونج اُٹھے

میرے آنسُو میں تیری کسک ہو

میرے لمحوں میں تیرے پَل ٹھہریں

….میرا مُجھ میں کُچھ نہیں میرے ہَمدم کے سِوا

میرے ہونٹوں پہ تیری پیاس ہو

میری انگڑائی تُجھ سے آشنا ہو

میری دھڑکن تیرا نام لے

میری زُلف میں تیری چھاؤں ہو

میرا مُجھ میں کُچھ نہیں میرے سَجن کے سِوا

آزمائِش

image

بےخُودی کاساماں پِھر سےبنی جاتی ہُوں

آئینۂِ ساز پِھر سے دلِ آزمانے کو ہے

قدموں کی دُھول میں سراب لِپٹے ہے گرچہ

لِباسِ مجاز پِھر سے مَیّت دفنانے کو ہے

اندھیرأِ گُمنام میں پیوست ہے شَبِ نَو

مَرضِ عاشِقی پِھر سے رُوح جگانے کو ہے

سفینۂِ آرزؤِ خام کو کنارہ مل جاۓ اگر

کاتبِ تقدیر پِھر سے ذات ڈُوبانے کو ہے

جی جلانےکے ہیں طریق و قواعد بےشُمار

پروانۂِ شمعٰ پِھر سے آگ سُلگانے کو ہے

عِہد

image

صدیوں میں جو طے کریں

اُن فاصلوں میں اُڑتے ہُوۓ

…کُہرے پار کر لیں گے ہم

ہِجر کی راتوں اور حسرت

کے دِنوں میں تیرتے ہُوۓ

…ساحِل کو ڈُھونڈ لیں گے ہم

تنہائی کی شوخی چُومے

یہ قدم تب لہراتے ہُوۓ

…فُرقتوں کو طے کر لیں گے ہم

گَجرا

image

مِہک رہی ہے ذُلف سیاہ تاب چراغِ خیال میں

غُنچۂِ آرزو پُھول بننے کے اِنتظار میں ہے

موتیۂِ حُسن میں نہایا پیراہنِ گُل دیکھیۓ

پیکرِ شجر  وجُود بننے کے اِنتظار میں ہے

صَندلی رُخ سے لِپٹتا سفیدآنچل لِہرانے لگا

زہرِ مے  شربت بننے کے اِنتظار میں ہے

سِتم پرور کےلمسِ تَپش سےکُھلنےلگا یہ گَجرا

نِیم شگُفتہ گُلبَدن بننے کے اِنتظار میں ہے

کَسک

image

کروٹ کروٹ بدلتی دھڑکن جب رُوح

سے ٹکرانے لگے تو گِرتے سنبھلتے لمحوں

کی خوشبو میں کِھلتے ہیں وجود جِن کے

چمکتے لمس میں جذب ہوتے ہی دھندلا

جاتے ہیں وہ منظر جِن کے رُوبرُو

قربتوں کے ساۓ گہرے ہونے لگتے ہیں

تب باہوں میں ٹوٹنے کے خیال سے یہ دل

….اُڑنے سا لگتا ہے

مُسکاتی ہنسی جب ہونٹ چُومتی ہے

تو جِھلمِلا اُٹھتی ہے وہ نظر  جس کے

پڑتے ہی اِس زنجیِر کی لڑیاں ٹُوٹنے

لگتی ہیں اور دبی چِنگاری میں

چُھپی آنچ جب چِہرے کو شوخ بناتی

ہے تو اِس احساس سے یہ حُسن

…نِکھرنے سا لگتا ہے

ڈُوبتی اُبھرتی جھیل کے مخملی

پیالے جب پُکارتے ہیں طُوفانی

انگڑائیوں میں خود کو سمونے

کو تب مستی کے گھیروں میں

پِنہاں ایک سنجیدہ لہر بے چین

عادت میں لِپٹتی جاتی ہے اور

پھر اِس تصوّر کے جوبن سےیہ شباب

….سَجنے سا لگتا ہے

آشُفتہ سَری

image

جنونِ عاشقی ہُوں رُوح میں اُتر جانے دو

نشہ و خُمار ہُوں خُون میں مِل جانے دو

مچلتی گھنی چھاؤں ہے حسرت کی

تِشنگی ہُوں سانس میں گُھل جانے دو

گرم لِہروں سی چھُوۓ بدن کو چاندنی

گِرتی موم ہُوں شرم میں پِگھل جانے دو

چَشم تَر لَب بے خُودی کا سامان بنے

آشُفتگی ہُوں رگ رگ میں بِکھر جانے دو

نئ روشنی

image

آج پھر نئ دُھوپ

کی اُجلی شُعاؤں

میں جُھلسا ہے

احساس جہاں سے

گُزرتی ہے وہ آہٹ

جس کے سُننے کے

بعد کُچھ اور سُنائی

نہ دے تب اُفق کے

گِہرے رُخ کو اوڑھے

ہے کہکشاں جِس میں

…چُھپا ہے ایک سِتارہ

آج پھر نۓ حوصلے

کو مِلی وہ کشتی

جس کے سہارے تلے

پاۓ لاجواب پَل جن کی

ذینت سے چوکھٹ پہ

دِیۓ جل اُٹھے اور

اِن میں بسا ہے

وہ وقت جِس میں

…چُھپا ہے ایک کِنارہ

…مُجھے رنگ دے

image

تُو کہے تو رات آفتابی ہو

تُو کہے تو دن مہتابی ہو

تُو کہے تو پھُول تِتلی بنے

تُو کہے تو آگ پانی ہو

….مُجھے بس اَب تیرے رنگ میں رنگنا ہے

تُو کہے تو رُک جاؤں میں

تُو کہے تو تھم جاؤں میں

تُو کہے تو چُھپ جاؤں میں

تُو کہے تو برس جاؤں میں

….مُجھے بس اَب تیرے رنگ میں رنگنا ہے

تُو کہے تو دھوپ جگے

تُو کہے تو چھاؤں سجے

تُو کہے تو وقت چلے

تُو کہے تو رُت بدلے

….مُجھے بس اَب تیرے رنگ میں رنگنا ہے

تُو کہے تو آنکھ جُھک جاۓ

تُو کہے تو ہونٹ کھُل جائیں

تُو کہے تو دل دھڑک جائیں

تُو کہے تو جِسم سُلگ جاۓ

….مُجھے بس اَب تیرے رنگ میں رنگنا ہے

تُو کہے تو سُرخ بنے گُلاب

تُو کہے تو عرق بنے شراب

تُو کہے تو گھٹا بنے کرن

تُو کہے تو عشق بنے رنگ

….مُجھے بس اَب تیرے رنگ میں رنگنا ہے