اِنتظار

 

image

بے چین دل بے تاب رُوح

اِنتظار بے قرار سا ہے

بے بس دن بےرحم شب

اِنتظار بے اِنتہا سا ہے

بے کل صبر بے سُدھ ہوش

اِنتظار بے کراں سا ہے

بے خُود نیند بےصبر آس

اِنتظار بے اِختیار سا ہے

سَجاوٹ

image

اِک اِک پنکھڑی مِہکاۓ زیبِ تن

اِس اُلفت میں جادُو ہے کمال کا

اِک اِک موتی چُومتی ہے حُسنِ تن

اِس کسک میں نشہ ہے کمال کا

اِک اِک سرگوشی کھٹکاۓ بِسترِ تن

اِس پیاس میں مزا ہے کمال کا

اِک اِک زرّہ سجدہ گر ہو رُوحِ تن

اِس عشق میں سرُور ہے کمال کا

گِرفت

image

یہ وہ راستے ہیں جن کی اِبتدا مُجھ سےاور مُجھی پہ اِنتہا جانم

جکڑ لِیا ہے تُجھے دل کے مضبُوط تاروں سے میں نے

اِن باہوں میں تیری سحر آغاز کرے اور شب اِختتام پہ پہنچے جانم

گھیر لِیا ہے تُجھے قید کے خُوبصورت دھاگوں سے میں نے

اِن دھڑکنوں کی گُونج میں تیری دھک دھک سُنائی دیتی ہے جانم

جوڑ لِیا ہے تُجھے رُوح کے بے قرار رشتوں سے میں نے

بڑھتے ہُوۓ ہاتھوں کو تیرے چُومتی ہے تپتےلمحوں کی حرارت جانم

تھام لِیا ہے تُجھے ہونٹوں کے شبنمی شعلوں سے میں نے

زاوِیہ

image

رِہ گۓ ساحل ادھوُرےموج کی پیاس میں

سمندر بے قدری میں تِلملانے لگا ہے

درد کی سیاہ رات بھاری ہےآسمان پہ

چاند بے رُخی میں اِترانے لگا ہے

پُھول کے لَب کو چُبھ رہے ہیں کانٹے

گُلستان بےضابطگی میں سمانےلگا ہے

شمعٰ کو گھیرے ہیں دائروں کے زاویِۓ

شُعلہٰ بے صبری میں بِہکانے لگا ہے

ریشَم

image

مخمَلی دھاگوں میں پیوَست سانسیں

سانسوں سے بندھی اُلجھتی آہیں

آہوں میں چُھپے مدہوش شرارے

شراروں سے آراستہ ریشمی جھنکاریں

جھنکاروں میں بَجتے مَرمریں اِشارے

اِشاروں میں جھَلکتے شوخ سِتارے

ستاروں میں چمکتی افشانی سِلوٹیں

سِلوٹوں سے لِپٹتے مُلائم افسانے

افسانوں میں تڑپتے نرم نظارے

نظاروں سے بیاں ہوتے جواں سہارے

بازی

image

کورے نینوں میں جب جھانکوُں ٹُوٹے تار ہی دیکھوں

کبھی جُنبشِ سوز کہیں بےسُر و ساز دیکھُوں

فراموش شام کے بِسرے سایوں میں خُود کو کھوجُوں

بے رَبط قافلو ں میں چُھپے دِلکش مناظر دیکھوُں

بیابانِ دشت کے بُجھتے دِیوں  سے ذات جلاؤں

سرگرم کوششِ رسائی کی آڑ میں مات دیکھوُں

بازئِ زندگی کے فریبی رُخسار پہ مُہرے بِچھاؤں

مُقابلۂِ شطرنج کے انجام میں خوُدی کو لُٹتا دیکھوں

بِکھرتے رنگ

image

رنگوں کو فقط ذیب دیتا ہے بِکھرنا ، گرچہ میں بِکھروُں تو کیا ہو

پِھر سوچتی ہوُں آتش اَفروز کس رنگ میں نِہلاۓ گا مُجھے

پِگھل رہے ہیں بادل شمس کی تپِش سے جو بے تاب ہیں برسنے کو

اگر یہ گُستاخی تُجھ سے ہو تو میں خُدا سے بھی لَڑ جاؤں

اُس کا عکس نظر آنے لگا ہے مُجھے اِن سُنہری رنگوں میں اب تو

یہ آئینۂِ تصوّر ہےساقی کا جس کی کشِش میں جذب ہوئی جاتی ہوں

کائینات کے رنگ ہیں جامنی گُلابی اور کبھی سُرمئی بھی

رمز شناس ہو رنگِ عشق کو پِہچانو اِ نہیں سنوارو،  اور ضبط نہ کرو

بے مِثال تُو نہیں تیری شِدّت ہے جس کی ذیست سے شمعٰ روشن ہے

جانِثار کرتی ہوں پروانے پر جس کی عِبادت میں آیت نہیں اُس کا نام یاد ہے

….مَن چاہی

 

image
Enter a caption

دِل چاہے کہ روز

نئی کونپلوں کو

خُود میں بَنتے دیکھوں

پھر اِن کے جوبن سے

آراستہ ہوں حُسن

اور کِھلے گُلشن جب

اِس بدن کی سُرخ

شام میں جگیں سُرمئی

خواب جن میں

….سرُور کے سِوا کُچھ نہ ہو

دل چاہے کہ اُس ذُلف

کی سیاہ رات سے

اِس رُخ پہ اندھیرے

جگمگائیں اور وہ چُنے

تب اِن ہیِروں کی چمک

سے چَند نرمگیں پل

جن میں بِہہ کے ساحِل

کو بھُول جائیں اور پائیں

ایسی منزلیں جن میں

….روشنی کے سِوا کُچھ نہ ہو

دل چاہے کہ سرد شُعلہ

ہلکے ہلکے بُجھے اور

اِس ٹھنڈک سے پیر جلیں

تب بِچھنے لگُوں اُن قدموں

کی خوبصورت آغوش میں

اورنس نس میں دوڑتی

آگ اِس تاثیر کو ایسے

سُلگاۓ جِس میں

….بے خُودی کے سِوا کُچھ نہ ہو

شَبنمی موم

image

رُوح کِھچتی چلی گئی اُن لبوں میں ریزہ ریزہ ہو کر

اِس شباب و اُلفت کے کھیل میں عکس چُھپ سا گیا ہے

عالمِ اِنتہا میں ٹُوٹے شِدّتِ وصل تڑپ کے باہوں میں

اِس کسک و جلن کے کھیل میں وجُود بِہک سا گیا ہے

کِتنی بے چین تھی اُن ہاتھوں کی نرماہٹ میں یہ کلیاں

اِس وجد و تِشنگی کے کھیل میں ساغر چھَلک سا گیا ہے

شمعٰ کی کروٹوں میں آندھیوں کے شور کی ہلچل تھی

اِس موم و شبنم کے کھیل میں جسم پِگھل سا گیا ہے

خُوشبوُ

image

چَندن کے لَمس میں بُھلا دیا

خوُد آشنائی کو ہم نے اِس طرح

جیسے احساس کے جھرونکوں کو

…..سِہلا رہی ہو یہ خُوشبوُ

لِپٹی رہی مَلبُوس کی چار دیواری

میں رات بھر اِس طرح جیسے

ریشمی خیالوں کو

….مِہکا رہی ہو یہ خُوشبُو

زُلف میں جَڑ گئی ہے

موتِیۓ کی کلی بن کر اِس طرح

جیسے سِلوٹوں کی فِضاؤں کو

….بِہلا رہی ہو یہ خُوشبُو

پیمانۂِ لَب چُور ہے

بھرپُور نشے میں اِس طرح

جیسے مخمُور انگڑائیوں کو

….جگا رہی ہو یہ خُوشبُو