خُماری

image

گِرفت میں ہے مۓِ آتِش کہ چھَلک نہ جاۓ کہِیں

پِیتے پیتے ایک مُدّت  ہی نہ گُزر جاۓ  کہِیں

بھرے پیمانوں میں تیرتی ہیں پنکھڑیاں کنول کی

ڈُوبتے ڈُوبتے ایک مُدّت ہی نہ گُزر جاۓ کہِیں

غُنچۂِ دل ہے شگُفتگی کے طلِسمات سے مَخموُر

مُسکراتے مُسکرات ایک مُدّت ہی نہ گُزر جاۓ کہِیں

صندل بنے اُس وجُود کی رحمت سے پیراہنِ جاناں

مِہکتے مِہکتے ایک مُدّت ہی نہ گُزر جاۓ کہِیں

آغوشِ صنم میں بِکھر رہے ہیں کِنارۂِ جسم و جاں

سِمٹتے سِمٹتے ایک مُدّت ہی نہ گُزر جاۓ کہِیں

 

کٹے ہوُۓ پَر

image

اِن خوابوں کے جھمیلوں میں

جب سَچ کی دُھول اُترتی ہے

اور تلخ کڑوی پیاس کوئی جب

گھُونٹ بن کر اَٹکتی ہے تب

حقیقت کے سفید ورقوں پہ

سیاہی کا رنگ جب چڑھتا ہے

پھر چند جھُوٹے کِردار اور نقلی

افسانے پروان چڑھتے ہیں

اور اِن بے جان رُوحوں میں

جَگتی ہیں بناوٹی جِسموں کی

راکھ اور پِھر ہاتھوں کی لکیریں

…..مدھم نظر آنے لگتی ہیں

سُہانے پَلوں سے لِپٹے شاخ

کے جھُولتے سبز پتّے اور

اُن کے رس کو پیتے ہُوۓ

زرّہ زرّہ جب بھرنے لگے

نسوں میں زہر کا نشہ

تب دُور کہیں ایک فاختہ

اپنے پَر کٹنے کا جشن منا رہی ہوتی

ہے جِس کی اُڑان اِک حسرت

میں قید اُس آندھی کی شِدّت

اُڑا لے جاتی ہےاور تب

اُس کے آدھے مظبُوط اور

پُورے اِرادے جب ٹُوٹتے نظر

آئیں تب اُسے اپنی تقدیر

…..مدھم نظر آنے لگتی ہے

یقیِن

image

وہ لِکھے کورے کاغذ پہ مُجھے اور غرق ہونے لگوں

یہ سَچ ہے میں اُس کی غزل جیسی دِکھتی ہوں

خُود کو پایا ہے اُس کی شناخت میں بے حساب

یہ سَچ ہے میں اُس کی کہانی جیسی دِکھتی ہوں

اُس کی نظر سے دیکھوں بے تحاشہ حُسنِ رنگینیاں

یہ سَچ ہے میں اُس کے موسموں جیسی دِکھتی ہوں

اُس کی گُفتگو سے عیاں ہے میری داستانِ آشنائی

یہ سَچ ہے میں اُس کی نظم جیسی دِکھتی ہوں

اُس کے قدموں کے نِشاں میں میری تقدیر پِنہاں ہے

یہ سَچ ہے میں اُس کے ساۓ جیسی دِکھتی ہوں

اُس کے عکس میں تشبیہِ شمعٰ چمکتی ہے ہر سُو

یہ سَچ ہے میں اُس کے آئینے جیسی دِکھتی ہوں

سوغاتِ ذندگی

image

یہ رات کیوں ہوتی ہے؟        یہ شام کیوں ڈھلتی ہے؟

یہ دن کیوں نِکلتا ہے؟           یہ فِضا کیوں چلتی ہے؟

یہ رنگِ عشقِ کائنات ہیں ، اِن میں کھو جائیں

یہ پرِندے کیوں چِہچہاتے ہیں؟      یہ بادل کیوں گڑگڑاتے ہیں ؟

یہ آندھیاں کیوں مچلتی ہیں؟     یہ بِجلیاں کیوں چمکتی ہیں؟

یہ حُسنِ عشقِ کائنات ہیں ، اِن میں سِمٹ جائیں

یہ نظر کیوں بِہکتی ہے؟        یہ سانس کیوں اُکھڑتی ہے؟

یہ دل کیوں دھڑکتے ہیں؟         یہ جذبات کیوں تڑپتے ہیں؟

یہ صباحتِ عشقِ کائنات ہیں ، اِن میں نِکھر جائیں

یہ پُھول کیوں کِھلتے ہیں؟        یہ رنگ کیوں بِکھرتے ہیں؟

یہ آگ کیوں جلتی ہے؟            یہ پیاس کیوں بڑھتی ہے؟

یہ مُعجزۂِ عشقِ کائنات ہیں،  اِن میں سنور جائیں

یہ چاند کیوں چمکتا ہے؟        یہ سمندر کیوں ڈُوبتا ہے؟

یہ جھرنے کیوں بِہتے ہیں؟         یہ شَمس کیوں نِکلتا ہے؟

یہ فِردوسِ عشقِ کائنات ہیں ، اِن میں اُتر جائیں

یہ جسم کیوں پگھلتا ہے؟           یہ ساز کیوں بَجتا ہے؟

یہ رُوح کیوں کھِچتی ہے؟           یہ خواب کیوں بُنتی ہے؟

یہ معرفتِ عشقِ کائنات ہیں،  اِن میں مِٹ جائیں

یہ اُنس کیوں ہو جاتا ہے؟         یہ آنکھ کیوں ٹکراتی ہے؟

یہ زُلف کیوں لِہراتی ہے؟          یہ آہٹ کیوں چونکاتی ہے؟

یہ دولتِ عشقِ کائنات ہیں ، اِن میں چُھپ جائیں

!تھام لو یہ لمحہ

image

میرے گھر کے

آنگن میں جب

چاند کِرنیں چمکاتا

ہے اور کِھلکھلاتی

رات کے بدن پہ

اپنے گُلابی ہونٹوں

سے مُہر لگاتا ہے

تب مِہکتی ہے اِس

حُسن کی چاندنی

اور جلتے ارمانوں

کے کھیل تلے بس

ایک ہی خیال آتا ہے

….. کہ رُک جاؤ ٹھہر جاؤ ، تھام لو یہ لمحہ

ناچتی بارش کی

بُوندوں سے جب

عَرش پیار برساتا ہے

اور چھم چھم سُریلے

تاروں کی سرگم سی

بجنے لگتی ہےتب بے خُود

سمعٰ ہو جاتا ہے پھر

یوُں ہی دو مخموُر بدن

نشے میں جُھومنے

لگتے ہیں اور دل میں

یہی خیال آتا ہے

….کہ رُک جاؤ ٹھہر جاؤ ، تھام لو یہ لمحہ

اِلتماس

image

نظرِگُلفام سے اِلتماس ہے کہ لَوٹ آۓ پناہوں میں

کہ زینتِ چاندنی کو خواہش ہےاور چمکنے کی

گُلستانِ اُلفت ڈھُونڈے ہے خوُشبؤِ یار کی گَلیاں

کہ نِگہتِ خُوشگوار کو تمّنا ہے اور مِہکنے کی

بے ساختہ لمحوں کی قید چاہتے ہیں نرم لمس

کہ شِہرِ ذات کو آرزو  ہے اور بِکھرنے کی

نِشانِ قدم چُنتی ہے گرم خاک اپنی پلکوں سے

کہ اِنتہاۓ شوق کو تِشنگی ہے اور پِگھلنے کی

تیری آواز کی خوشبو

image

فنا کرتی ہے تباہ کرتی ہے روز یہ تیری آواز

سفر کرتی ہے رُوح کو چِھڑاتی یہ تیری آواز

نہ جلاتی ہے نہ بُجھاتی ہے نہ مرنے دیتی ہے

اثر کرتی ہے تن بدن کو تڑپاتی یہ تیری آواز

جامِ سرگم پیتے ہیں قطرہ قطرہ اِن کی بدولت

بَسر کرتی ہےپیاس کو بڑہاتی یہ تیری آواز

کانوں کی دہلیز پہ دم توڑتی یہ سرگوشیاں

رقص کرتی کسکِ شمعٰ کو پگھلاتی یہ تیری آواز

عِشق عبادت

image

مُحبّت میں سجدہ مِحبوب کو ہو تو کافر لوگ کہتے ہیں

پِھر کیوں تمام عالم جنونِ عشق کی داستان میں مست ہُوا جاتا ہے؟

مُحبّت کی چاہ میں اِظہار گر عبادت سے بیاں ہو تو خوُب ہے

پِھر کیوں تمام عالم شور میں چھُپی خاموشی کو ادا سمجھتا ہے؟

مُحبّت جذبۂِ پاکیزگی کے دھاگے میں پِرویا مُتبّرک تعویز ہے

پِھر کیوں تمام عالم آرزؤِ مِٹّی پانے کی تمنّا میں سزا دیتا ہے؟

مُحبّت درجاتِ اٰعلیٰ کی بلند مِثال ہے جو عرش کے سرہانے مِلتی ہے

پِھر کیوں تمام عالم اِسے پیروں کی خاک تلے روندتا چلا جاتا ہے؟

ا ٹوُٹ مُحبّت


image

! جُھکی نظروں سے پوچھے کوئی کہ شاموں پہ جوبن کس کا ہے

اُجالوں پہ کبھی سیاہی کی چادریں فریفتہ ہُوئی ہیں کیا؟

! بے داغ چمک سی چَھنتی جا رہی ہے کسی کے حُسنِ نُور سے

ستاروں پہ کبھی آفتاب کی کرنیں فریفتہ ہوئی ہیں کیا؟

! جواں افسانے انوکھے جال میں بندھی گردش کے مُحتاج ہیں

عاشقوں پہ کبھی اَنا کی بارشیں فریفتہ ہوئی ہیں کیا؟

! شمعٰ کی لپیٹ میں کس قدر مدہوش ہوُۓ جاتے ہیں سُرخ گلاب

پروانوں پہ کبھی ہوا کی بدلیاں فریفتہ ہوئی ہیں کیا؟

مُحبّت نامہ

image

دیکھتی ہُوں ! اِک مچلتی لِہر

دوڑتی آرہی ہے دُور تلک

سما جانے کو لُٹ جانے کو

اپنے معشُوق کی باہوں میں

اُس کی شِدّت میں پوشیدہ

طوفان ہے اور جنون سی تیزی بھی

سرسراتی جِھلملاتی موجیں

اُبھرتے جذبات لیۓ ایک نۓ

کھیل کو جگا رہی ہیں

یہ تیرا ذِکر ہے شاید جو

موجیں مستانی ہُوئی جاتی ہیں

اُف! تیری بے مِثال داستانیں

یہاں بھی گھیرے ہیں مجھے ہر دم

خُود سے مُحبّت کرنے لگی ہوں میں بھی

کیونکہ تیرا وجُود اب شامل ہے

مُجھ میں اِن موجوں کی طرح جو

گواہ ہیں میرے قتل کی

تیرے پیغام لے کے آتی ہیں

شاید یہ لِہریں ، کیا کہنے

کیا تُجھ تک کوئی مُحبّت نامہ

پُہنچا ہے ابھی تک ؟