….تُم ہی تُم

image

چاہت و اُلفت یہ مُحبّت

تُم ہی تُم ہر طرف ….میں نہیں

دِلکشی و دِل لگی یہ دلفریبی

تُم ہی تُم ہر طرف ….میں نہیں

ساز و آواز یہ جل ترنگ

تُم ہی تُم ہر طرف ….میں نہیں

خُمار و جنوں یہ بےخُودی

تُم ہی تُم ہر طرف ….میں نہیں

تڑپ و کسک یہ خُوشبو

تُم ہی تُم ہر طرف ….میں نہیں

شعلہ و شبنم یہ جلن

تُم ہی تُم ہر طرف ….میں نہیں

تیری یاد جگا دیتی ہے

image

آدھے پِہر جب خواب

کے پرندے  اپنے

نرم مُلائم  پروں

سے اِس نازُک

نیند پہ پِہرا

لگا دیتے ہیں تب

…..تیری یاد جگا دیتی ہے

اُس رُت میں وہ

ایک ہِیرے کی دَمک

سے چُپ چاپ ہنسی

جب بَنتی ہے اور

خیال کے پردے جب

بِچھنے لگتے ہیں تب

….تیری یاد جگا دیتی ہے

مدھم کِرن کی

شفق سے رُوح

چمک سی جاتی ہے

اور پَلکیں جب

رقص کرتی ہیں

تیرتی قطاروں پہ تب

….تیری یاد جگا دیتی ہے

مِیٹھی یاد….تُمہارے لیۓ

image

شام کی سُرخی تُمہاری مِیٹھی یاد سے روشن ہے

یہ رنگ تُمہارے پل پل کا پتہ دے رہے ہیں مُجھے

پیاسے چراغ گِہری جھِیلوں کے رَس کو ڈھونڈتے ہیں

یہ گھُونٹ تُمہارے لمحوں کا پتہ دے رہے ہیں مُجھے

دل کی بے بسی جامِ یار کے نشہ میں چُور چوُر ہے

یہ احساس تُمہارے ہَر دَم کا پتہ دے رہے ہیں مُجھے

آج شب خاص ہے جو مِحو ہے جشنِ اُلفت کے رقص میں

یہ راستے تُمہارے قریب ہونے کا پتہ دے رہے ہیں مُجھے

شمعٰ کی آگ وصلِ مہتاب کے عشق میں گُھل رہی ہے

یہ نظارے تُمہارے جذب ہونے کا پتہ دے رہے ہیں مُجھے

مُسکراتے لمحے

image

وہ نظر ابھی تک

جذب ہے جس کی

خُماری چُومتی ہے

چِلمنوں کے موتی

اور اِن کی عِنایت سے

چمکنے لگتی ہے

نشِیلی نیند جِس

کی کروٹ میں

قید مُحبّت مجھے

….دیوانہ بنا جاتی ہے

وہ لمس ابھی بھی

اِحساس کی گردش میں

چُبھ رہے ہیں

جن کی گواہی سے

یہ نقش اُس کے

اثر میں گُھلے

جاتے ہیں اور اُن

گرم ہاتھوں میں

گر اُنگلیاں دَم

توڑیں تو یہ حرارت

اِس پاگل وجود کو

….نشیلا بنا جاتی ہے

دوڑتی اِک لہر کی

جلن سے یہ جسم

اُلجھے دھاگوں میں

بندھا جاتا ہے اور

پھر گیلی ریت کے

ساحِل پر  جب

دُھلتے ہیں راستے

اِس طرح کہ خاک

کی اُڑھتی دھوپ اِسے

…..مُکمّل بنا جاتی ہے

اِن  دھڑکنوں میں

ابھی بھی وہ

بےچینی ہےجِسکے

چھوُتے ہی دل نے

تسلیم کیا اُس

شِدّت کو  جِس کی

دستک نے  نۓ  سازوں

میں حُسن بھر کے

زندگی بخشی ہے

اور اِس بے پرواہی کی

آزاد کسک  اِسے

….آوارہ بنا جاتی ہے

خُود سے شناسائی

image

نِگاہِ یار کی کششِ سرُور سے بےکل ہوُۓ جاتے ہیں

چلو رُوحِ سمندر میں اُتر کر خُود کو دیکھ لیتے ہیں

نام و نِشاں نہیں مِلتا سایۂِ خُودی میں گُم ہو جاؤں گر

چلو جھرونکۂِ سیاہی میں اُتر کر خُود کو دیکھ لیتےہیں

تلا طُمِ جنوُن کو چھُوتے ہی ڈوریں اُلجھ سی جاتی ہیں

چلو لمسِ ریشم میں اُتر کر خوُد کو دیکھ لیتے ہیں

جگمگاتے جُگنوُ

image

کُچھ سرگوشی میں

کہیں خاموشی میں

کِہتے جاتے ہیں

….سُنتے جاتے ہیں

راہیں شاداب

آزاد سفر میں

چلتے جاتے ہیں

….بڑھتے جاتے ہیں

شوخ چنچل

بھیگے پَلوں میں

نِکھرتے جاتے ہیں

….سنورتے جاتے ہیں

مسَلتے گُلاب

حِدّت کی رُت میں

مہکتے جاتے ہیں

….بِہکتے جاتے ہیں

اُلجھے مخمل

کسک کے جال میں

سُلجھتے جاتے ہیں

….بِکھرتے جاتے ہیں

جِھلمِلاتے جُگنو

چمک دَمک میں

تِلملاتے جاتے ہیں

….پھڑپھڑا تے جاتے ہیں

تیرا شُکریہ

image

دربارِ خُداوند میں فریادِ مُحبّت سُنی تُو نے

مُعجزۂِ پروردگارِکرم پہ فنا ہو جاؤں تو کِتنا کم ہے

نہ جانے کِس گھڑی حسرت راہِ عشق میں مُبتلا ہوئی

نوازشِ اِ لٰہئِ سوغات پہ بِچھ جاؤں  تو کِتنا کم ہے

عُمر تمام بِسری طلبِ وصالِ یار کی کھوج میں

کرمِ مَولا کی خُدائی پہ مِٹ جاؤں تو کِتنا کم ہے

خوش نصیبی دیکھیۓ کہ دل و جاں منوّر ہونے لگے ہیں

مہربانئِ آقا کی مرضی پہ جاں لُٹاؤں تو کِتنا کم ہے

….اپنا آپ نظر نہیں آتا

image

دل میں اُٹھتے طُوفان کا شور

اُس کی دھڑکنیں سُن لیتی ہیں

اور وہ اپنے حسین وجوُد کے

گرم موسموں سے سفر کرتا

میری آنکھوں کے سِتاروں میں

جب گُم ہو جاتا ہے تو

….مُجھے اپنا آپ نظر نہیں آتا

آج ایسے بے شُمار لمحے

اور اُن کے ماتھے پہ سجتے

میری تقدیر کے سہارے جِنہیں

چُھوئیں تو بنیں شبنم

پا لیں تو سمندر اور اِن

سِلسلوں میں جگتے وہ

خوشگوار پَل جن کی قسمت سے

روشن ہوتے اُجا لے اور

دیکھتے ہی دیکھتے جب وہ

سویرے جگمگا ئیں تو

….مُجھے اپنا آپ نظر نہیں آتا

جِن قدموں میں زندگی دم

توڑتی نظر آۓ تو لازم ہے

بندگی سجدوں میں ادا ہو

تب میری شناخت اُس میں ایسے

رَچ جاۓ جیسے شمعٰ میں آنچ

اور عشق کی سیڑھی چڑھتے چڑھتے

بُلند جب ہونے لگتی ہوُں تب

…..مُجھے اپنا آپ نظر نہیں آتا

جہاں تیرا ذِکر نہیں

image

کھو جاتے ہیں خیالِ سفر میں اجنبی بن کے یُوں

نہ بُلاؤ اُن رونقوں میں جہاں میرے مِحبوب کا ذِکر نہ ہو

احساسِ راحت سے ہیں میری تنہائی کے راز درخشاں

نہ دھکیلو اُن محفلوں میں جہاں میرے مِحبوب کا ذِکر نہ ہو

پابندئیِ اظہار ہو تو حریفِ وفا خوشیاں سمیٹتے نظر آئیں

نہ لے جاؤ اُن شاموں میں جہاں میرے مِحبوب کا ذِکر نہ ہو

طوِیل ہیں گھڑیاں جنہیں بے آسرا کرتے ہیں بے خبر دل

نہ جلاؤ اُن اُجالوں میں جہاں میرے مِحبوب کا ذِکر نہ ہو