چِنگارِیاں

image

جَلتی بُجھتی تِلمِلاتی یہ چِنگاریاں

رگ و جاں کو پِگھلاتی یہ چِنگاریاں

آبِ آتش سے چیِرتی حُسن و خاک کو

دِیوارِ جِسم کو تڑ پاتی یہ چِنگاریاں

قطرۂِ شبنم رُواں رُواں کرے جان وتن

گرم ہونٹوں کو پِلاتی جام یہ چِنگاریاں

کسک اُترتی رہی آنچِ پیاس سےسِیلی

جاذبِ رُوح بھڑکاتی رہی یہ چِنگاریاں

ہے لمسِ شُعلہ پہ طاری جنُون و عرُوج

اداۓ انگڑائی جگاتی یہ چِنگا ریاں

حِدّتِ وَجد میں گُھلتے ملائِم افسانے

مومِ شمعٰ کو بِہکاتی یہ چِنگاریاں

بغیر پَر کے

image

میرا دِن تُو ہے اور رات بھی تُو

جو ہر بات کہوُں اُس بات میں تُو

تیری جُستجُو ہو فقط اور خیال میں

دِل کی دھڑکن اور نرم جذبات میں

قدموں میں بیٹھے ہیں سَر جھُکاۓ ہُوۓ

باہوں میں بھر لو ، ہیں دامن پھیلاۓ ہوُۓ

چمپئ پھُول سے مِہکا دُوں جِسم تیرا

خوشبوِ عِشق میں نِہلا دُوں حُسن تیرا

مُحبّت میں بے بس ہوُۓ جاتے ہیں

روحِ جانم میں اپنا نِشاں چھوڑے جاتے ہیں

لبوں کو لرزنے دو سانسوں کو اُکھڑنے دو

سردی کی راتوں میں چاہت کو سُلگنے دو

یہ طلِسماتی چشم یہ بھرپور ہاتھ تُمہارے

بھریں وجُود میں زہر نظر میں شرارے

مِحفل میں بے خُودی سی طاری ہو گئ

شمعٰ جو اپنی تھی وہ تُمہاری ہو گئ

با رِش

image

اِس بے خُود بارِش میں

برس جانے کو جی چاہتا ہے

چھم چھم ناچتی مستی میں

پایل چھنکا نے کو جی چاہتا ہے

خود پہ بے حد اِتراتے ہوُۓ

لُٹ جانے کو جی چاہتا ہے

بارش میں چہرہ چُھپا کے

شرمانے کو جی چاہتا ہے

گِیلی مِٹّی کی خوشبو سے

مِہک جانے کو جی چاہتا ہے

آئینہِ صنم

image

پسِ آئینہ عکسِ یار نظر آتا ہے

اپنا آپ مجھے دِلدار نظر آتا ہے

میں کون ہُوں یہ ذات اِک پہیلی ہے

ہاتھ کی لکیروں میں اُس کا نام نظر آتا ہے

مُجھ سے ذیادہ وہ مُجھ میں شامِل ہے

قطرہِ خوُن بھی اب انجان نظر آتا ہے

چَمکتے رہو تُم میری سَر ذمین پر

اِس آنچل کو بس سِتاروں کا پتہ آتا ہے

ہر لمحہ اب دھڑکنیں سُنائ دیتی ہیں

میرے دِل پہ تیرا پیغامِ قیام آتا ہے

جانِ شمعٰ پہ ہے سَلطنت تیری صنم

میری رُوح کے تُو آر پار نظر آتا ہے

پِہلی مَنزل

image

خا موشی کو سُنتے رہنا ، پل پل آہیں بھرتے رہنا

اُس کی یاد میں جلتے رہنا ، پل پل راتیں جگتےرہنا

ہر ا یک تارا گِنتے رہنا ، اور گِنتے گِنتے روتے رہنا

تَن سے اپنے لِپٹے رہنا ، پل پل ایسے سِمٹتے رہنا

دِل کا ا یسے دھڑکتے رہنا، سانسیں یوں اُکھڑتے رہنا

ایسے جِینے میں مرتے رہنا، ہر پل خود سے لڑتے رہنا

شِکستِ خُوردہءِ جاں

image

ا ب ٹھِہر بھی جاؤں تو سنبھلنا کیسا

بِکھروُں تو فتِح ٹُوٹُوں تو قضا ہوگی

اِک صدی سے لِپٹی ہُوں سفید چادر میں

سِمٹوُں تو راکھ پھیلُوں تو شعاع ہوگی

فاصلے ہیں میرے اور سِتا روں کے بِیچ

چھوُؤں تو پیاس پاوُں تو ادا ہوگی

شمعٰ سے شِکست منظوُر کرنی ہوگی

جلُو ں تو رِہائ پِگھلُوں تو اِنتہا ہوگی

رُوحِ سُخَن

image

میر ی تِحرِیروں کو نہ سمجھ ایک خیال مِحض

اِن میں ہر دَم رِہتے ہیں جان و دِل میر ے

یہ تُحفہ ہے گُزارے ہوُۓ حسِین لمحا ت کا

اِن میں ہر دَم بَستے ہیں رات و دِن میرے

نِکھر رہی ہے جو حیا ت اِن کی پِہچان سے

اِن میں ہر دَم جگتےہیں سوز و ساز میرے

سُخن وَری آئینہ ہے میری رُوحِ رواں کا

اِن میں ہر دَم جھلَکتے ہیں تمام و کمال میرے

تاب کار ہیں دِلبر کی ذِیست سے یہ لفظ میرے

اِن میں ہر دَم مِٹتے ہیں نام و نِشان میرے

 

پاگل پَن

image

مُحبّت کی اُونچی دِیواروں کو چھوُ لُوں

اِن مِحلوں کے شاہانہ دروازوں کو چھُو لُوں

دِل پزیر گَلیوں کی رونق پہ قُربان جاؤں

اِن گُلابی راہوں کی مِہکتی کلیوں کو چھُو لُوں

حُسن و شباب کے قاتِل انداذ پہ مَر مِٹوُں

اِن جادوئ اثرات کی پِگھلتی شبنم کو چھُو لُوں

فرِشتہءِ عشق کے پاک قدموں میں دم توڑ دُوں

اِن مُعتّبر جذبات کے سُرخ ہونٹوں کو چھُو لوُں

کشِش

image

وہ دریا کے مانند دھِیما ہے

میں سمُندر کی طرح طُوفانی ہُوں

وہ قوسِ قزح کے رنگ پھیلاتا ہے

مُجھے آبشاروں سا برسنا آتا ہے

اُس کی دھڑکنیں سُنائ دیتی ہیں

میرے دِل پہ دستکیں ہوتی رہتی ہیں

اُس کی سانسوں میں ہوا مدہوش ہے

میری آہوں میں آندھیوں سی شِدّت ہے

اُس کی نظروں میں ہزاروں پیغام ہیں

میری نِگاہیں کئ سوَال اُٹھا تی ہیں

وہ چلے تو ذِندگی تھم جا ۓ

میری رفتار کی کوئ زنجیِر نہیں

وہ اپنی راتوں کو تھام لیتا ہے

مُجھے شب بھر بے چینی رِہتی ہے

اُس کے لمحوں میں سکُون پِنہاں ہے

میرے لمحے تڑپتے مچلتے رہتے ہیں

اُس کی دُھوپ میں گِہری چھاؤں ہے

میری چھاؤں میں جلتا آفتاب ہے

اُس کے لِہجے میں شائِستگی رَس گھولتی ہے

میری بے تکلّفی میری پِہچان ہے

اُس کے سرُور میں خُماری ہے

میں جنُون پہ فریفتہ ہُوں

اُسے ذیب دیتا ہے با وقار ہونا

میری شوخی میرے عکس کا آئینہ ہے

وہ ایک ٹھنڈک کا اِحساس دِلاتا ہے

میرا وجُود جلنے کے سِوا کُچھ بھی نہیں

قِیمتی پَل

image

یہ انمول پَل جہاں ہم رُکے ہوُۓ ہیں

چلو اِن لا فانی سِلسِلوں میں جی لیتے ہیں

ذِندگی میں پَل نہیں ہم پَلوں میں ذِندہ ہیں

چلو اِن نشِیلے پیالوں کو پی لیتے ہیں

بے خوف و فِکر سےآزادی چاہتے ہیں ہم

چلو اِس زنجیِر وجد میں جی لیتے ہیں

ٹُوٹ کے لڑیوں کا ریزہ ہونا اٹل ہے

چلو اِن بِکھرتے تاروں کو سِی لیتے ہیں

ہما رے بڑھتے قدم نہ رُکنے پایئں گے

چلو اِن ڈُوبتے کِناروں میں جی لیتے ہیں

یہ جِس نے بنایا ہے وسیِلہءِ وصل اِس طرح

چلو اِس سوغاتِ عِشق کو پِی لیتے ہیں