روزانہ

7AB6D790-EADD-4146-8597-72B60EDCF074

ہر روز نۓ اِنتظار کی سیِڑھی چڑھتی ہُوں میں

ہر روز گِرتی ہُوں آسمان کی بُلندی سے مات کھا کے

روز نۓ گُلستان میں پھُول سجاتی ہُوں میں

روز مُرجھاتے ہیں گُل کانٹوں کی ذَد میں آکے

روز بہ روز سانسوں میں زندگی بھرتی ہُوں میں

روز بہ روز موت دِکھاتی ہے مُجھے آئینہ مُسکرا کے

روزانہ ایک نئ شفق کی راہ تکتی ہُوں میں

روزانہ ٹھہرتی ہے صُبح پُرانے راستوں پہ آکے

فیصلۂِ تقدیر

IMG_1769

زرد ہو شاخ یا پھر مُرجھاۓ گُل ہوں

اِختتام پہ پُہنچتے ہیں کبھی نہ کبھی

شُعاعِ ظُلمت ہو یا پھر دن وصل کے

اندھیروں میں ڈھلتے ہیں کبھی نہ کبھی

قرار دے عشق یا پھر جنُون میں ہو رسائی

اذِیّت بن کے برستے ہیں کبھی نہ کبھی

چمکتے جُگنو ہوں یا پھر لِہراتی تِتلیاں

راستے پہ تنہا بھٹکتے ہیں کبھی نہ کبھی

سمندر کرے دیوانہ یا پھر دریاؤں کے دل

موت کے گھُونٹ  پیِتے ہیں کبھی نہ کبھی

کڑوا سَچ

IMG_1739

خواب ہر رات کاسِتارہ ہے

صُبح ہوتےہی لَوٹ جاتا ہے واپس

نا مُکمّل آنسُو کہانی ہیں

مُکّمل ہوتےہی سُوکھنے لگتے ہیں

چاہت شاموں پہ لِکھی آرزو ہے

اندھیرا ہوتے ہی فِشاں ہونے لگتی ہے

جنون عقیدت کی چھاؤں میں رہتا ہے

احساس ہوتے ہی دھُوپ بننے لگتا ہے

عشق رات کی رانی کا پَودا ہے

سویرا ہوتے ہی بھُول جاتا ہے کِھلنا

شجر تنہائی سے ِلِپٹا اِک زرَہ ہے

ٹُوٹ جاتا ہے خُود کو رُسوا دیکھ کے

کل آج اور کل

IMG_1763

آنے والے کل میں بَستا ہے وہ

جنگل جہاں کے بھٹکے ہُوۓ

جُگنوؤں کے جلتے بدن کبھی

زندگی تو کبھی موت کا پروانا

…لِکھتے ہیں

بِچھڑے ماضی کے سمندر میں

رہتے سِیپ تو کبھی ریت کے فالتو

زرّات ساحل کی آغوش میں اپنا

…نرم ٹِھکانہ ڈھُونڈتے ہیں

آج کے شمس و قمر میں وہ

تاب نہیں جو ایک بادل کے پردے

تلے اپنی شناخت پا لیں وہ کبھی

لمحوں کے اُڑتے دنوں میں تو کبھی

برسات کے ظالم شور میں اپنی

…کرنیں بھِگوتے ہیں

نا سَمجھی

Nature Black White Color Yellow Roses Flowers Desktop Wallpaper Single Flower

پڑھ کے نظم میری وہ کیا سوال کر بیٹھا

مُجھ سےمیری کروٹوں کا حِساب مانگ بیٹھا

سمجھ کے خیال کو سَچ کا آئینہ میرا

خُود سے اپنےوجُود کا جواب مانگ بیٹھا

سایہ تھا وہ میرا اور میں دھُوپ اُس کی

میرے نُور کو اوڑھ کے ہِجاب مانگ بیٹھا

غافل ہے وہ درد و تڑپ سے اِس رنج سے

شاید اِسی عِوض وہ ثواب مانگ بیٹھا

حیرانگی سے تَکتا رہا لُوٹ کر آب و تاب

جانے کس بادشاہی کا خِطاب مانگ بیٹھا

آپ بِیتی

IMG_1753

دِل ایک رات ہے

…اور میں ایک چاند اُس کی دِہلیز کا

دِل ایک خواب ہے

…اور میں ایک آئینہ اُس کی تعبیِر کا

دِل ایک خُوشبو ہے

…اور میں ایک گُلاب اُس کی زمین کا

دِل ایک سایہ ہے

…اور میں ایک سَچ اُس کی جاگیِر کا

دِل ایک داستان ہے

…اور میں ایک کِردار اُس کی تحریر کا

دِل ایک پروانہ ہے

…اور میں ایک شُعلہ اُس کی قندیل کا

کَتبہ

IMG_1747

اِک نام کے ساتھ چند

صفحوں کی کہانی

…جوڑ دی جاتی ہے

جب مِلتا ہے نایاب تُحفہ

محبّت کا تو عِبارت

…لِکھ دی جاتی ہے

کئی کِردار پروان چڑھتے

ہیں، ادھوری ہو آرزُو وہ

…روک دی جاتی ہے

کوئی ڈُوب کے چاہتا ہے

شناسا کو کسی کے

شوق میں غزل کِہہ

…دی جاتی ہے

خنجر دیتا ہے اِنعام میں

کبھی تو قلم بندی کے

حِرص تلے عنایت سونپ

…دی جاتی ہے

خزانے میں قید ایک آنسُو

سانس لیتا ہے تب اُس

صندوُقچی کی تالی توڑ

…دی جاتی ہے

شمعٰ کو مِلی ہے جو

سوغات کِتاب کی صُورت

میں، اُس منزل کی راہ

…موڑ دی جاتی ہے

جس مزار پہ آکے جلاتےہو

دِیا اکثر اُس قبر کی لَحد

…روند دی جاتی ہے

حاصلِ لا حاصل

IMG_1740

تلاش تھی جس پاگل پن

کی اُسے پانے کے بعد

وہ چھوڑ گیا کسی موڑ

…پر پاگل بنا کے مجھے

جن خوابوں کو مِلا تھا

آنگن حقیقت کا کبھی

وہ لے گیا چاند روشنی

…دِکھا کے مجھے

ڈھونڈتی رہی رات بھر

یہ نظر جسے وہ لَوٹا گیا

آسماں سِتاروں کی مِحفل

…میں بِٹھا کے مجھے

سِحَر آفریں

IMG_1738

دل میں آج بھی وہی

برق سی محسوس ہوتی

ہے جب اُس کا زِکر چھِڑ

جاتا ہے کبھی مِحفل میں

..تو کبھی تنہائی میں

اَب بھی اُس نغمے کی

دُھن پہ رونے لگتی ہُوں

جس کو سُنتے ہی جاگ

جاتے ہیں ارماں کسی

مِحفل میں تو کِہیں

…تنہائی میں

کھِل اُٹھتے ہیں پھُول

تَر ہوتی ہے زمین اب بھی

اُسی طرح ، چھُونے سے

رُوح مِہک اُٹھتی ہےجیسے

کبھی مِحفل میں تو

…کبھی تنہائی میں

آج بھی حِصار میں ہیں

وہ شعر وہ اندازِ بیاں

کہ جن کو سُنتے ہی گُم

ہو جاتے ہیں ہوش کہِیں

مِحفل میں تو کبھی

…تنہائی میں

جھُوٹی شان

IMG_1736

سچ ہےکہ کشتیاں جَلا دی ہیں اُس نے

جانے پھر مجھے اِنتظار سا کیوں ہے؟

دُور کر دیا ہے خُود کو اُس کی نظر سے

جانے پھر آنسُو پریشان سا کیوں ہے؟

با خبر ہے رَگ رَگ سے وہ میری اگر

جانے پھر آشنا انجان سا کیوں سے؟

لاتعلّقی میں بھی سانس لیتا ہے مِلن

جانے پھر وقت اوازار سا کیوں ہے؟

کرتی ہے دعویٰ تحریر و نظم وفا کا

جانے پھر ادھُورا عُنوان سا کیوں ہے؟

نفعٰ و نُقصان کے عِوض پایا وقار اپنا

جانے پھر خیال بےلگام سا کیوں ہے؟